شہباز حکومت   سازشیں 

  شہباز حکومت   سازشیں 
  شہباز حکومت   سازشیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


شہباز شریف کی 14ماہ پر مشتمل حکومت پاکستان کی ان چند ایک حکومتوں میں سے تھی جس کے خلاف اندر باہر، اوپر نیچے اور ہر ممکنہ سمت سے بھرپور سازشیں ہوئیں۔ 10اپریل 2022سے لے کر 9مئی 2023تک اس حکومت کے خلاف وہ سب کچھ ہوگیا جو ٹام کروز کی ڈیڑھ گھنٹے کی فلم میں ہو سکتا ہے۔ 9مئی کا سانحہ تو حکومت کیا فوج کے سپہ سالار کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جانے کی ایک سازش تھی، اس سے قبل پورا ایک سال پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کی کابینہ نے اودھم مچائے رکھا۔ غضب خدا کا دیکھئے شوکت ترین ایسے محب وطن شخص پاکستان کے مالی مفادات کے خلاف سازشیں کرتے پائے گئے۔ دوسری جانب خود آئی ایم ایف بھی شہباز حکومت سے ایسی ایسی فرمائشیں کرتا پایا گیا جو پہلے کبھی سنی نہ کبھی دیکھی تھیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اوورسیز پاکستانیوں نے جتنا شہباز حکومت کا ناک میں دم کئے رکھا اس کی بھی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ناعاقبت نا اندیش مدینہ منورہ میں سازشیں کرنے پہنچ گئے اور سادہ لوح مزدوروں کو ڈالروں اور پاؤنڈوں کی چمک دکھا کر مسجد نبوی کی بے حرمتی پر اکساتے پائے گئے۔ ذرا اور آگے بڑھئے اور کانوں کو ہاتھ لگائیے کہ اسلام آباد کے خلاف لانگ مارچ کے آغاز کے لئے معروف صحافی ارشد شریف کے قتل کا انتظار کیا گیا، جونہی خبر آئی چیئرمین پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔ بالآخر ڈی جی آئی ایس پی آر کو پریس کانفرنس کرکے کہنا پڑا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ صحافی ارشد شریف کے قتل کا فائدہ کس کو ہوا ہے۔ 10اپریل 22ء سے 10اپریل 23ء تک عمران خان شہباز حکومت کو لانگ مارچوں اور دھرنوں کی دھمکیاں دیتے پائے گئے۔

وہ تو خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کے عوام اس سازش کا حصہ نہیں بنے، وگرنہ 2014کی طرح اگر اس مرتبہ بھی علامہ طاہرالقادری اپنے فدائین کو لے کر ان کے ہمراہ روانہ ہو تے تو یہ سیلاب بلا سنبھالے نہ سنبھل پاتا۔ پی ٹی آئی کی تو رہنے دیجئے خود نون لیگ کے اندر سے شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل جبکہ پیپلز پارٹی کے اندر سے مصفطےٰ نواز کھوکھر ’ری امیجننگ آف پاکستان‘ کا فورم بنا کر کھڑے ہو گئے اور نظام کو مطعون کرنے کے نام پر عوام میں مایوسی پھیلاتے رہے۔ دیکھا جائے تو ری امیجننگ پاکستان عمران خان کے نعرے نیا پاکستان کا انگریزی ترجمہ ہی تھا۔ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ شہباز شریف نے مفتاح اسماعیل کو شٹ اپ کال دی تو اسحٰق ڈار نے باقیوں کا کہا کہ ری امیجننگ کے نام پر عوام میں مایوسی مت پھیلائیں۔ جہاں تک مصطفےٰ نواز کا تعلق ہے تو وہ تو کار کی ڈگی میں چھپ کر عمران خان کو زمان پارک میں ملتے بھی رہے تھے۔ ان کے علاہ چودھری اعتزاز احسن اور سردار لطیف کھوسہ کا بھی کچھ ایسا ہی حال رہا جبکہ قاف لیگ کے چودھری پرویز الٰہی نے تو حد کردی کہ آصف زرداری سے دیرینہ تعلقات پر مٹی ڈالتے ہوئے پی ٹی آئی کے امیدوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ اس ضمن میں سابق چیئرمین واپڈا جنرل مزمل کا نام نامی بھی لیا جاتا رہا کہ انہوں نے مونس الٰہی کو یہ کڑوا گھونٹ بھرنے کے لئے کہا تھا۔ اعلیٰ عدلیہ علیحدہ سے لٹھ لئے شہباز حکومت کے خلاف محاذ بنائے کھڑی رہی اور عمران خان کو گڈ ٹو سی یو کہتی پائی گئی، کبھی صرف پنجاب میں نوے روز میں انتخابات کے لئے شہباز حکومت کی نالش نکالتی رہی تو کبھی 184(3)کی آڑ میں جوڈیشل مارشل لاء میں اصلاح کی راہ میں روڑا بنی رہی۔ سازشوں کی انتہا دیکھئے کہ شہباز حکومت کو زک پہنچانے کے لئے عمران خان نے خود پر گولی بھی چلوالی، وہ تو شکر ہے کہ بروقت ملزم نوید کی ویڈیو سامنے آگئی اور سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ 
شہباز حکومت کی خوبی
شہباز حکومت کی خوبی یہ رہی کہ دس سے بارہ جماعتوں کے اتحاد میں تفرقہ دیکھنے کو نہیں آیا، تقسیم نہیں ہوئی، اختلافات کو ہوا نہ دی گئی، تصادم نہ ہوا اور کوئی سکینڈل بھی طشت ازبام نہ ہوا۔ کرپشن کا غلغلہ بلند ہوا اورنہ ہی چور ڈاکو کے نعرے لگے۔ پی ڈی ایم اتحاد دنیا کے چند مثالی اتحادوں میں سے ایک ثابت ہوا، شہباز حکومت سے جنگ پر آمادہ اعلیٰ عدلیہ کے مقابلے میں نئے آرمی چیف بھرپور حمائت کے ساتھ کھڑے رہے، اسٹیبلشمنٹ بروقت سازشوں پر قابو پاتی رہی، چین اور سعودی عرب آئی ایم ایف کی تمام تر سازشوں کا تسلسل سے توڑ کرتے رہے۔ 
شہبازحکومت کی خامی
شہباز حکومت کی سب سے بڑی خامی خود شہباز شریف رہے، عمرانی سازشوں کے مقابلے میں ان کا بیانیہ کمزور رہا، اگر اسٹیبلشمنٹ ان کی پشت پر نہ ہوتی تو کب سے ان کا بستر گول ہو چکا ہوتا۔ان کی وجہ سے نون لیگ اپنا سیاسی سرمایہ ضائع کرتی رہی۔ اینکر مافیا ان کے خلاف سینہ سپر رہا۔ مفتاح اسماعیل جیسے ان کے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے ان کی راہ کے کانٹے ثابت ہوتے رہے، اگر نواز شریف کے حامی کیمپ کے پارٹی رہنما ان کی حمائت نہ کرتے تو بیچ چوراہے اپنی گت بنواتے۔ مریم نواز متحرک رہتیں تو ان کی سٹی گم رہتی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں کی بزنس کمیونٹی ان کے خلاف سازشوں میں پیش پیش رہی، وہ تو 9مئی کے بعد آرمی چیف نے انہیں شٹ اپ کال دی تو کچھ سکون ہوا۔ اس دھینگا مشتی کی وجہ سے لوگوں کو بے پناہ غربت کا سامنا کرنا پڑا، ڈالر کی اونچی اڑان کے سبب جیبوں میں پڑے روپے کے چیتھڑے اڑتے رہے اور غربت ستاروں سے بھرے عوامی ضرورتوں کے آسمان چاٹتی پھری۔ شہباز حکومت کے  14ماہ کو غالب کے اس شعر میں سمویا جا سکتا ہے!
ہے  غیبِ  غیب  جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں 
 

مزید :

رائے -کالم -