پی ڈی ایم حکومت کے16ماہ

پی ڈی ایم حکومت کے16ماہ
پی ڈی ایم حکومت کے16ماہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

13جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل پی ڈی ایم کی حکومت 9اگست کو اپنی مدت کے تین دن پہلے اسمبلیاں تحلیل کر کے سبکدوش ہو چکی ہے، 12اگست12بجے رات کی بجائے 9اگست کو وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی طرف سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی ثمری صدر کو بھیجنے کا مطلب ہے کہ اب الیکشن 60کی بجائے90دن میں ہو سکتے ہیں؟مردم شماری کے نتائج کی منظوری اور نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد الیکشن کے مزید التوا کا جواز بھی سامنے آ گیا ہے، رہی سہی کسر نگران سیٹ اپ کے لئے آئی ایم ایف کے دباؤ نے پوری کر دی ہے، وزیراعظم اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کی طرف سے گزشتہ تین ماہ سے سیاسی شخصیت کو نگران وزیراعظم لانے کی کہانی کا ڈراپ سیٹ بھی ہوا چاہتا ہے۔بظاہر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات میں فیصلہ ہونا ہے عملاً ایسا نہیں ہے۔رواں ہفتے حکومت کو نگران وزیراعظم کا سرپرائز باہر سے مل جائے گا؟
کل کی بات ہے پوری دنیا میں مسلم لیگ(ن)، مولانا فضل الرحمن، پیپلزپارٹی2018ء کے الیکشن کو انجینئرڈ قرار دے کر اسمبلیوں کو فراڈ اور عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم قرار دے رہے تھے، تحریک انصاف کی حکومت کے ساڑھے تین یا پونے چار سال میں کیا کیا ہوا،اس کو زیر بحث نہیں لانا البتہ دنیا میں پہلی دفعہ کورونا نے جو مارا ماری اور تباہی و بربادی کی تاریخ رقم کی وہ دو سال عمران خان کی حکومت کے دوران ہوا،کورونا کے اثرات پر بھی بات نہیں کرنی، مختصر انداز میں تاریخ میں حصہ ڈالنا ہے،اچھی بھلی چلتی حکومت جسے فراڈ اور انجینئرڈ قرار دیا جا رہا تھا اس کو چلتا کیا گیا اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والی جماعتیں جو مختلف نظریات کی حامل تھیں ان کی تاریخ کو پس ِ پشت ڈالتے ہوئے پی ڈی ایم کی تسبیح میں پُرو کر فراڈ اسمبلی سے تحریک عدم اعتماد -کے ذریعے جمہوری انداز میں میاں محمد شہباز شریف کو وزیراعظم پاکستان منتخب کر لیا گیا۔ اپریل2022ء سے پاکستان میں نئے جمہوری سفر کا آغاز ہوا،پہلی دفعہ70رکنی اور پھر 82رکنی کابینہ بنانے کا اعزاز پی ڈی ایم کی حکومت کے حصہ میں آیا۔پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پہلی دفعہ وفاقی کابینہ میں آدھے سے زیادہ وزیر اور مشیر مراعات لیتے تو نظر آئے،مگر ان کو بے محکمہ رکھا گیا۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں کی متفقہ حکومت میں فرنٹ مین کا کردار مسلم لیگ(ن) کے حصے میں آیا۔


پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمن کی جماعتوں نے اہم وزارتوں، قائم کمیٹیوں اور اداروں میں ذمہ داریوں کو کافی سمجھا۔ دلچسپ امر یہ ہے تحریک انصاف کی حکومت کے آخر سال مسلم لیگ(ن)، مولانا فضل الرحمن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے آئی ایم ایف کو ہدف بنایا اور تحریک انصاف کی پالیسیوں کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں یرغمال بنانے اور ملک کو گروی ر کھنے کا مبینہ الزام لگایا جب تحریک انصاف کی حکومت کا دھڑن تختہ ہو گیا تو پھر ملک کو دیوالیہ کرنے اور ملکی معیشت کی ناؤ کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا ذمہ دار عمران خان اور اس کی حکومت کو قرار دیا گیا۔تاریخ نے پھر پلٹا کھایا اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کے رہنماؤں اور وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا اور قوم کو بڑی خوشخبری سے نوازا۔پی ڈی ایم حکومت کے16ماہ کی تکمیل کے موقع پر اگر وزیراعظم 82 سے زائد وزراء اور مشیروں کے ساتھ پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمن کی میڈیا ٹاک یا بیانات پر نظر ڈالی جائے تو پرنٹ،الیکٹرونک میڈیا اور اینکر کے ساتھ کیے گئے شو میں پی ڈی ایم کا بیانیہ تحریک انصاف کو ملکی معیشت اور دیگر اداروں کی تباہی کا ذمہ دار قرار دینے تک محدود ہے۔میں نے صحافی کارکن کی حیثیت سے اخبارات کا باریک بینی سے جائزہ لیا مجھے کئی جگہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کی طرف سے عوام کے لئے منشور، عوامی مشکلات کے حل کا منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ البتہ آئی ایم ایف کے جھکڑ بند میں قوم کو باندھنے کا پلان ضرور سامنے آیا،جس کے مطابق اگست سے بجلی کا یونٹ 51روپے کا کر دیا گیا ہے، ڈالر178 سے 300 تک جا پہنچا ہے، مہنگائی کی شرح12فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہو گئی ہے، پٹرول 150روپے سے273 روپے تک کا ہو گیا ہے،

16اگست سے22روپے مزید قیمت بڑھانا مجبوری قرار دیا جا رہا ہے، شرح ترقی چھ فیصد سے04فیصد پر آ گئی ہے۔ پی ڈی ایم حکومت نے ملکی معیشت کی مضبوطی کے لئے بجلی کے بلوں پر 13 قسم کے48فیصد ٹیکس نافذ کیے ہیں، سیلز ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر الیکٹرک سٹی ڈیوٹی، کوارٹری ایڈجسٹمنٹ چارجز، ایکسٹرا ٹیکس چارجز، ود ہولڈنگ، انکم ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، ریڈیو فیس، ٹیلی ویژن فیس، فنانشل کاسٹ چارجز Further tax چارجز میٹر رینٹ شامل ہیں۔پی ڈی ایم حکومت نے نامکمل اسمبلی سے بلوں کی منظوری کا نیا ریکارڈ بنایا ہے،15ماہ میں ٹیکس فری بجٹ دینے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شعبہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے گرد گھیرا تنگ کر کے پہلی دفعہ ای ڈیم انکم ٹیکس نافذ کر کے سیلز پرچیز کے لئے ایف بی آر سے ٹیکس کلیئرنگ کا این او سی لینے کی شرط عائد کر دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف تو خوش ہو گیا ہے مگر رئیل اسٹیٹ بلڈر اور ڈویلپرز کے ساتھ اس سے منسلک درجنوں کمپنیوں کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے، 16ماہ میں موٹروے کے بعد ایئر پورٹ آف سورس کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ قومی ایئر لائنز پی آئی اے کو نجی شعبہ کے اشتراک کے ساتھ چلانے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔امریکہ میں واقع پی آئی اے کی عمارت فروخت کر دی گئی ہے البتہ روز ویلیٹ ہوٹل بھی بالآخر فروخت کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔پی ڈی ایم حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30اور پنشنرز کی پشن میں 17فیصد اضافہ کیا جو پنجاب میں نافذ نہیں کیا گیا۔


پنجاب کے ہزاروں سرکاری اور اداروں کے ملازمین کے طویل دھرنے کے بعد پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، سیکریٹ ایکٹ بلز سمیت صحابہ اکرامؓ اور اہل بیت کی ناموس کے تحفظ کا  بل بھی پاس کرنے کا اعزاز پی ڈی ایم کی حکومت کو ملا ہے۔ پی ڈی ایم حکومت کے وزراء کو آئندہ الیکشن پرانی مردم شماری میں کرانے کے مسلسل اعلانات کے بعد اچانک  یو ٹرن لیتے ہوئے اچانک مردم شماری کے اعلان اور الیکشن نئی حلقہ بندیوں کے مطابق کرانے کی منظوری دینے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آخری دن وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کے ڈیلی سفر الاؤنس میں 50فیصد اضافہ کر دیا ہے۔
وزیراعظم کی پاک فوج سے انڈر سٹینڈنگ مثالی رہی، عمران خان کو سزا اور آئندہ الیکشن  سے باہر کرانے کی جدوجہد بھی رنگ لائی ہے اور عمران خان نہ صرف نااہل قرار پائے ہیں بلکہ انہیں اٹک جیل میں پابند ِ سلال کر دیا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی رخصت ہونے والی اسمبلی میں آخری تقریر پی ڈی ایم کی16ماہ کی کارکردگی پر طمانچہ اور لمحہ فکریہ ہے۔


صحافتی تنظیموں اور اے پی این ایس اورس ی پی این ای کے ذمہ داران سے وزیراعظم کی ملاقات نتیجہ خیز رہی ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے اشتہارات کی قیمتوں میں 35اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم کی حکومت نے پیمرا ایکٹ واپس لے لیا ہے، البتہ پی ڈی ایم کی حکومت بالعموم سندھ حکومت کی بالخصوص خصوصی نوازشات کی وجہ سے ریجنل اخبارات کو بھی نئی زندگی ملی ہے۔16ماہ کی پی ڈی ایم حکومت کے کارہائے نمایاں تحریر کرنے کے لئے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔عمران خان کی پونے چار ماہ کا موازنہ اگر16ماہ سے کیا جائے تو مہنگائی چار سال کی نسبت 16ماہ میں زیادہ ہوئی ہے، روپے کی قدر57فیصد کم ہو چکی ہے۔ آئی ایم ایف کی اب تک شرائط پر عمل درآمد سے نئے راستے نکل رہے ہیں، درآمدات کی اجازت اوپن مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری، ڈالر کی آزادی کیا رنگ دکھاتی ہے۔ آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا،نگران چھ ماہ میں الیکشن کرواتے ہیں یا ایک سال میں، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی نگران حکومتوں کی طرح مرکز، سندھ، بلوچستان میں حکومتیں کرنی ہیں یا واقعی غیر جانبدار مل کر دیکھتے ہیں اور مزے لیتے ہیں مہنگائی کے۔ معلوم ہوا ہے نگران وزیراعظم کے لئے دور درجن افراد جن میں بیورو کریٹ، ریٹائرڈ جنرل، سیاستدان، ٹیکنو کریٹ شامل ہیں، سکیورٹی کلیئرنس ہوئی ہے، ہماری معیشت کے حقیقی مالک اور ادارے آج یا کل منظوری دیں گے، سبکدوش ہونے والی اسمبلی میں بلاول نے روٹی کپڑا مکان دینے کے بعد زمین کی ملکیت دینے کا وعدہ کیا ہے، میاں شہباز شریف نے ایک دفعہ پھر تاریخی خدمت کے لئے دوبارہ  موقع دینے کی درخواست کی ہے۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -