ضمنی انتخابات :گڈگورننس ،میرٹ اور شفافیت پرعوام کا بھر پور اعتماد

ضمنی انتخابات :گڈگورننس ،میرٹ اور شفافیت پرعوام کا بھر پور اعتماد
 ضمنی انتخابات :گڈگورننس ،میرٹ اور شفافیت پرعوام کا بھر پور اعتماد

  

کرپشن کے گھٹا ٹوپ اندھیروں،بد انتظامی ،مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ نے مفلوک الحال عوام کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ہرآنے والا دن عوام کے لئے مصائب اور مہنگائی کی اذیت ناک خبر لے کر طلوع ہوتا ہے۔کرپشن ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی ،قومی اداروں کے تباہی کے دہانے پر پہنچنے کی باز گشت اب نہ صرف ملک میں، بلکہ بین الاقوامی سطح پرعام ہے۔جمہوری دور میں عوام کی حالت تو نہیں بدلی، لیکن پاکستان کرپشن کے میدان میں 42ویںنمبرسے ترقی کر کے 33ویںنمبر پر آ گیا ہے-کرپشن کی وجہ سے مہنگائی بھی رکنے کا نام نہیں لے رہی-بد انتظامی،کرپشن اور لوٹ مار کی بنا پر عوام کا جمہوریت سے اعتماد اٹھتا چلا جا رہا ہے۔عام آدمی کو سیاست سے سروکار نہیں، بلکہ مہنگائی کے خاتمے سے غرض ہے -اس تاریک دور میں پنجاب میںمیرٹ، گڈگورننس اورشفافیت کا بو ل بالا عوام کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔4دسمبر کو صوبہ پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ ملک میں کرپشن ،اقرباءپروری کے خلاف ہیں اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے اقدامات سے پوری طرح مطمئن ہیں۔

ضمنی انتخابات کے نتائج کا اگرجائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ان انتخابات میں وسطی پنجاب سمیت شمالی وجنوبی پنجاب میں اپنے ووٹوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ۔مسلم لیگ (ن) نے 7 حلقوں میں کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوام ملک کو مسائل سے نکالنے اور اسے خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنی امیدیں اسی جماعت سے باندھے ہوئے ہیں۔ عوامی خدمت اور تبدیلی کے دعویداروں کے نعروں کی قلعی کھل گئی ہے۔ انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ق)کا اتحاد بھی کامیاب نہ ہو سکا اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے امیدوار ریکارڈ ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ ساہیوال (چیچہ وطنی) سے متعدد بار انتخاب جیتنے والے سینئر سیاستدان نے، جو علاقے کی جانی پہچانی شخصیت بھی ہیں ، تحریک انصاف کے جھنڈے تلے قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لیا۔ اگرچہ وہ انتخاب کے دوران آزاد امیدوار ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے، لیکن ان کے انتخابی جلسوں، جھنڈوں، بینروں پر تحریک انصاف کے رنگ نمایاں تھے اور پارٹی کے سینئر رہنما بھی ان کی مکمل حمایت کر رہے تھے، لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اس حلقے سے کامیاب رہے۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنماﺅں اور نائب وزیراعظم کے آبائی ضلع میں بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے ریکارڈ ووٹ حاصل کر کے مخالفین کو حیران کر دیا۔

 صوبائی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آٹھ میں سے سات حلقوں میں کامیابی حاصل کر کے سیاسی میدان میں نئی سمت کا تعین کر دیا ہے کہ عوام اب ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں اور ایسی تبدیلی جو ایک ایسا پاکستان تعمیر کرے، جہاں کرپشن اور بدانتظامی نہ ہو، بلکہ پاکستان کو اس راہ پر گامزن کیا جا سکے کہ وہ کرپشن کے ریکارڈ بنانے کی بجائے اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے۔ ان انتخابات میں منظور وٹو کی کارکردگی بھی زیربحث رہی ہے کہ مسلم لیگ(ق)اور پی پی پی کے اتحاد کے باوجود ان کی جماعت کو شکست سے دوچار کیوں ہونا پڑا؟ ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کامیابی نے مسلم لیگ (ن) کو ایک نیا حوصلہ اور ولولہ دیا ہے اور ملک میں ہونے والے ان سروے رپورٹس کو سچ کر دکھایا ہے، جس میں عوام نے بھاری اکثریت سے مسلم لیگ(ن) کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ میاں محمد شہبازشریف کی پالیسیوں اور میرٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور مخالفین کے پراپیگنڈے کو غلط ثابت کیا ہے جو تنقید برائے تنقید کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -