”نقطہ ءنظر“ جیسے ٹاک شوز کا زمانہ آنے والا ہے!

”نقطہ ءنظر“ جیسے ٹاک شوز کا زمانہ آنے والا ہے!
”نقطہ ءنظر“ جیسے ٹاک شوز کا زمانہ آنے والا ہے!

  

کہاجاتا ہے کہ میڈیا کا سب سے اہم کام قارئین (اور ناظرین) کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنا ہے۔مغرب کا الیکٹرانک اور پریس میڈیا تو ایک عرصے سے اپنا تمام فوکس اسی کام پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہم مشرق میں بسنے والوں کا آئی کیو چونکہ مغرب میں بسنے والوں کے آئی کیو کے مقابلے میں کمتر ہوتا ہے( مراد عوام کے اوسط آئی کیو سے ہے) اس لئے جب ہم میڈیا کی ذمہ داریوں اور عصرِ حاضر کے چیلنجوں کے درمیان کوئی واضح خطِ تقسیم کھینچنا چاہتے ہیں تو مشرق و مغرب کا یہ فرق نمایاں تر ہوکے سامنے آ جاتا ہے۔پاکستان کا شمار، مشرق کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو بہت سارے ترقی پذیر مشرقی ممالک کے مقابلے میں ابلاغی شعور سے بہتر اور برتر بہرہ ور ہیں۔ایک اور بات جو راقم السطور، مشرقی اور مغربی میڈیا کو تادیر پڑھنے اور دیکھنے کے بعد بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے میں شعبہ ءابلاغیات میں انفرمیشن اور ایجوکیشن کے چیلنجوں کو بتدریج زیادہ نکھارا اور بہتر کیا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا میں ٹاک شوز کا پاکستانی کلچر، ہمارے ہمسائے بھارت کے کلچر سے زیادہ متوازن اور معتدل راہوں پر گامزن ہے۔مجھے امید ہے کہ اگر ہم انہی راہوں پر مزید آگے بڑھتے رہے تو بہت جلد مغرب کے الیکٹرانک میڈیا جیسا مقام و احترام حاصل کر سکتے ہیں۔

دیکھا جائے تو گزشتہ پورے ایک عشرے تک ہمارے ٹاک شوز کے اکثر موضوعات انتہائی جانبدارانہ، شدت پسندانہ بلکہ اشتعال انگیزانہ رہے ہیں۔اس کی اپنی وجوہات تھیں.... ملک سے چوتھا مارشل لائی نظام رخصت ہو رہا تھا اور چوتھا جمہوری نظام اس کی جگہ لے رہا تھا،اس لئے کہا جا سکتاہے کہ ٹاک شوز کے بیشتر موضوعات میں شرکائے بحث کی گرم گفتاری اور شعلہ بیانی، سمجھ میں آنے والی بات تھی۔شائد یہی وجہ ہے کہ اب جبکہ نئے جمہوری دور کی دوسری ٹرم کا آغاز ہو چکا ہے، تو اب ٹاک شوز میں بھی وہ پہلے جیسا ”دم خم“ ، زور و شور اور حد سے گزر جانے کی روایات بڑی تیزی سے مدھم، بلکہ معدوم ہوتی چلی جارہی ہیں.... اس روش کی یہ تبدیلی ایک نہایت خوش آئند موڑ سے تعبیر کی جا سکتی ہے۔

میں دو ایسے ٹاک شوز (جن کو سنگل مین شو بھی کہا جاتا ہے) کو بطور خاص قارئین کے سامنے رکھنا چاہوں گاکہ جن میں شدت پسندی کی جگہ انفرمیشن اور اشتعال کی جگہ ایجوکیشن لیتی جا رہی ہے۔

ان ٹاک شوز میں ایک تو جیو نیوز پر پیش کیا جانے والا شو ”آپس کی بات“ ہے اور دوسرا دنیا نیوز پر دکھایا جانے والا شو ’نقطہ ءنظر“ ہے۔یہ دونوں ٹاک شوز اپنے مزاج کے اعتبار سے بڑے معلوماتی ، قابلِ ہضم اور Low Keyٹاک شوز شمار کئے جا سکتے ہیں۔اول الذکر شو میں نجم سیٹھی صاحب اور موخر الذکر میں مجیب الرحمن شامی صاحب کا اندازِ گفتگو مصلحانہ، ناصحانہ اور اتالیقانہ ہوتا ہے۔ناظر جب بھی یہ شو دیکھتا ہے، اس کے مبلغِ علم میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور اس کو معتدل طرزِ گفتار کے آداب بھی سننے کو ملتے ہیں۔

نجم سیٹھی صاحب ملک کے جانے پہچانے صحافی ہیں اور اس حوالے سے پاکستانی صحافت کا ایک گرانقدر اثاثہ سمجھے جاتے ہیں۔وہ جس موضوع پر بھی زبان کھولتے ہیں، اس پر ان کو پورا کنٹرول ہوتا ہے، ہر ایشو کو کھول کر بیان کرنا، ایک ایک پرت کو استدلال کی کسوٹی پر پرکھ کر آگے بڑھنا اور پھر اس میں استخراجی (Deductional) انداز اپنانا، ایک ایسی روشِ گفتار ہے جو دیکھنے اور سننے والوں کو کماحقہ انفارم اور ایجوکیٹ کرتی ہے.... مجھے جب کبھی فرصت میسر آتی ہے تو مَیں ان دونوں ٹاک شوز کو باقی شوز پر ترجیح دیتا ہوں۔

دو روز پہلے (9دسمبر2013ئ) میں شامی صاحب کے ”نقطہ ءنظر“ کو دیکھ اور سن رہا تھا۔اینکر (حبیب اکرم صاحب) نے آغازِ گفتگو میں جن موضوعات پر سوال کرنے اور شامی صاحب کا جواب پانے کاشیڈول بتایا، ان کی تعداد، شو کے دورانئے کی قلت کے پیش نظر زیادہ تھی۔

45منٹ کے اس ٹاک شو میں پہلے تو یہ بات بُری طرح کھٹکتی ہے کہ ہر پانچ منٹ کی گفتگو کے بعد چھ سات منٹ کا وقفہ آ جاتا ہے،لیکن مالکان کا استدلال رہا ہے کہ یہ اشتہاری وقفے بھی ضروری ہوتے ہیں۔اگر ان کوحذف کردیا جائے تو پورا ٹاک شو حذف کرنا پڑے گا۔یہ وقفے لاکھ ناگوارِ خاطر گزریں، لیکن ان سے مفر نہیں ۔کسی کا ایک بہت اچھا شعر یاد آ گیا ہے:

ہمارے شعر میں روٹی کا ذکر بھی ہوگا

کسی کسی کے شکم ہی نہ ہو تو کیا کریئے

میں نوٹ کررہا تھا کہ یہ شو شام کے سات بجکر دس منٹ پر شروع ہوا۔پون گھنٹے کی اس گفتگو میں چار وقفے (سات بجکر 14منٹ، سات بجکر 22منٹ، سات بجکر 44منٹ اور سات بجکر 54منٹ پر) آئے۔شامی صاحب کو چار بار بیچ میں رکنا پڑا۔اس جبری قطع کلامی کے بعد صرف 20،22منٹ ان کو بولنے کو ملے۔اس مختصر وقت میں اینکر نے جن موضوعات پر بات چیت کرنے کا اعلان کیا تھا وہ بڑے تازہ بہ تازہ، اہم، بھرپور اور وسیع الاطراف ایشوز تھے۔مثلاً چک ہیگل (وزیر دفاع امریکہ) کا دورئہ پاکستان، بھارت میں ”عام آدمی پارٹی“(AAP)کی دلی کے صوبائی الیکشن میں جیت، انسداد کرپشن اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم فیروزخان نون کی برطرفی ، نوازشریف قرضہ سکیم وغیرہ وغیرہ۔

میرے خیال میں چاہیے یہ تھا کہ بجائے سات آٹھ ایشوز کو 20،22منٹوں میں بھگتانے کے اگر(زیادہ سے زیادہ) دو اڑھائی ایشوز پر اکتفا کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔کسی بھوکے شخص کو ایک ہی ڈش کھلا کر اس کی سیرشکمی کردی جائے یا زیادہ سے زیادہ بعد میں کوئی ایک آدھ سویٹ ڈش کے دوچار لقمے اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں تو بہتر ہوتا ہے۔شکم گرسنگی کا علاج یہ نہیں ہونا چاہیے کہ سات آٹھ مختلف ڈشوں سے ایک ایک نوالہ حلق میں ڈال کر یہ سمجھ لیا جائے کہ بھوکے کا پیٹ بھی بھر گیا ہے اور اشتہا بھی ختم ہوگئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معروف شخصیت کا انٹرویو کرنا ہو اور اس انٹرویو کو یادگار بنانا بھی مقصود ہو تو یہ انٹرویو کرنے والے پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مہمان کے سامنے کس طرح کا سوالنامہ رکھتا ہے اور بات سے بات کیسے پیدا کرتا ہے۔مجھے جب بھی ”نقطہ ءنظر“ سننے کا اتفاق ہوا، نجانے کیوں یہ محسوس ہوا کہ اینکر صاحب نے ناظرین کے ساتھ انصاف کرنے میں کوتاہی برتی ہے۔شامی صاحب کو مَیں اردو زبان کی صحافی برادری میں ایک ایسا معتدل اور بلند قامت فرد سمجھتا ہوں جو آج کی شدت پسند صحافت کی چلچلاتی دھوپ میں گویا ایک شجرِ سایہ دار ہیں۔

ٹی وی ٹاک شوز کے اینکرز صاحبان کی دو بڑی اقسام ہیں....ایک تو وہ حضرات ہیں جو موضوعِ زیر بحث کے مختلف پہلوﺅں پر کچھ اس انداز سے تعارفی ”گفتارو تذکار“ کریں گے کہ معلوم ہوگا کہ خود شرکائے مباحثہ میں شامل ہیں۔اس وقت بہت سے نام ذہن میں آ رہے ہیں جن میں خواتین اور حضرات کی ایک بڑی تعداد نگاہوں میں گردش کرنے لگی ہے.... کس کس کا نام لوں۔

اور دوسری قسم ان حضرات و خواتین کی ہے جو تعارفی تقریر کو صرف ”تعارف“ تک محدود رکھتے ہیں اورتشبیب سے گریز اور پھر گریز سے مدح تک کے تمام مراحل تیزی سے طے کرتے جاتے ہیں۔

نقطہ ءنظر کے اینکر سے گزارش ہے کہ وہ تعارف کو تھوڑا سا بڑھا دیا کریں اور بیچ میں گاہے گاہے مہمان کو ایسا لقمہ بھی دے دیا کریں کہ جس کی طرف شائد مہمان کی نگاہ نہ گئی ہو یا وہ ایشو کے اس پہلو کو فراموش کررہے ہوں۔شامی صاحب کسی بھی موضوع پر جب لب کشائی کرتے ہیں تو اس موضوع کی ابجد سے بات شروع کرتے ہیں اور یہ بات ان کو باقی صحافی حضرات سے ممتاز کرتی ہے۔وہ اپنے ناظر کو موضوعِ زیر گفتگو کی ان تمام پرتوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بالعموم عام ناظر کو یا تو سرے سے معلوم ہی نہیں ہوتیں یا پھر بھول چکی ہوتی ہیں۔ مَیں نے اس کالم کے آغاز میں یہی بات عرض کی تھی کہ کسی بھی ٹاک شو کا بنیادی مقصد ناظر کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنا ہوتا ہے۔باقی دوسرے مقاصد ثانوی اور فروعی کہے جا سکتے ہیں جن کو بیشتر اینکر”نزاعی“ بنا دیتے ہیں!

ایک زمانہ تھا لوگ کرکٹ کے ٹیسٹ میچوں کے شیدائی ہوا کرتے تھے۔(ہم خود بھی انہی کشتگانِ کرکٹ میں شامل رہے) پھر ایک انقلابی اقدام اٹھایا گیا اور بجائے پانچ دنوں اور دودو اننگز پر مشتمل کے اس کھیل کو صرف ایک ایک اننگز اور ایک روز تک محدود کردیا گیا اور اوورز کی تعداد بھی 50فی اننگزمقرر کردی گئی۔اول اول دوچار برس تک کیری پیکر کی اس بدعت کے خلاف، علمائے کرکٹ نے کیا کیا فتاویٰ صادر نہ کئے، لیکن آخر یہ ہوا کہ ٹیسٹ میچ ایک بھولی بسری داستان بن گئے اور شائقین نے ”ون ڈے“ میچوں کو اوڑھنا بچھونا بنالیا.... پھر بات اس سے بھی آگے نکل گئی اور آج ٹی 20کا دور بھی ”ون ڈے کرکٹ“ کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹاک شوز کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ”سلوک“ ہونے والا ہے۔ یہ جو چار چار چھ چھ مہمانانِ گرامی کا ”جَتھا“اکٹھا کرکے ان کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراکردیاجاتا ہے اور پھر ان کو ”بیک وقت“گرجنے برسنے کا اذنِ عام دے دیا جاتا ہے، اس کے دن بھی اب شائد تھوڑے رہ گئے ہیں۔مَیں آج جب بھی ایسے ٹاک شوز دیکھتا ہوں تو ان میں ماضی ءقریب والا وہ ”دم خم“ توتکار اور زنانہ طرز کے طعنے مہنوں کا عالم اگرعنقا نہیں تو کم کم نظر آتا ہے۔اب وقت آ رہا ہے کہ ”آپس کی بات“ اور ”نقطہ ءنظر“ جیسے ”یک مہمانی“ ٹاک شوز عوام و خواص میں مقبول عام ہو جائیں گے۔     ٭

مزید :

کالم -