گیارہ، بارہ، تیرہ

گیارہ، بارہ، تیرہ
گیارہ، بارہ، تیرہ

  

دیکھنے میں یہ گیارہ،بارہ، تیرہ عام سے ہندسے معلوم ہوتے ہیں، لیکن اگر پاکستان کی تاریخ سے انہیں وابستہ کر دیں تو مَیں بتاتا چلوں کہ جناب جسٹس افتخار احمد چودھری گیارہ تاریخ کو یعنی دسمبر کی گیارہ تاریخ کواپنے عہدے کی میعاد پوری کر کے گھر چلے جائیں گے۔ جو بھی تاریخ آگے آئے گی، انہیں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ یوں تاریخ گیارہ۔ مہینہ 12 (بارہ) اور سن 2013ءیعنی تیرہ (13)یوں پاکستان کی تاریخ میں یہ گیارہ، بارہ، تیرہ کے حروف ہمیشہ یاد رہیں گے۔ مارچ 2007ءمیں جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو الگ کر کے اور ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج کر جناب ڈوگر کو نیا چیف جسٹس بنا دیا گیا تھا اور اپنا حلف اٹھا کر انہوں نے کام بھی شروع کر دیا تھا، لیکن پاکستان بھر کے وکلاءنے اس کے خلاف تحریک چلا دی۔ خیبر سے کراچی اور کوٹ مومن سے چمن تک سب وکلاءمتحد ہو گئے اور تمام تراکیب استعمال کرنے کے باوجودآرمی چیف جنرل پرویز مشرف وکلاءکے اس اتحاد میں کوئی دراڑ نہ ڈال سکے۔ جب احمد رضا قصوری نے اس ضمن میں تھوڑی بہت کوشش کی تو کالے رنگ سے اُن کا منہ کالا کر دیا گیا۔ یوں وکلاءکے جلوس رواں دواں رہے ، پھر ان جلوسوں نے ایسی تاریخ رقم کی کہ 36 گھنٹے تک مسلسل چلتے رہنے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔

یہ ریکارڈ اس وقت موجود ٹی وی چینلوں (ماسوائے پی ٹی وی ) نے بھی قائم کیا اور وہ ان جلوسوں کی لمحہ بہ لمحہ کوریج کرتے رہے۔ عوام کی اکثریت نے بھی وکلاءکا ساتھ دیا اور اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کو مجبور کیا کہ وہ بھی ان کے شانہ بہ شانہ چلیں۔ ایم کیو ایم اور قائد اعظم مسلم لیگ کو چھوڑ کر ساری سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے ان جلوسوں میں دیکھے گئے۔ یہ سلسلہ جنرل چیف آف آرمی سٹاف کے وردی اُتارنے اور آرمی کی کمان اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کرنے، نئے الیکشن 2008ءکے بعد پی پی پی کے اقتدار سنبھالنے اور اس کے بعد بھی جاری رہا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز اپنے وقت میں پاکستان سٹیل ملز اپنے کسی آدمی کو اونے پونے فروخت کر کے اربوں روپے کے حصہ دار بننے کے خواہاں تھے، لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا اور اب وہ فیصلہ ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے، یہی وہ فیصلہ تھا جس سے صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم اپنے چیف جسٹس سے ناراض ہوئے ،بلکہ اتنے خفا ہوئے کہ انہیں بر طرف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

یہ وکلاءہی کی تحریک تھی ، جس سے ”بھنا“ کہ صدر پرویز مشرف غلطی پر غلطی کرتے چلے گئے اور انہوںنے نومبر 2007ءمیں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلان کے ساتھ ٹی وی چینل بھی بند کر دیئے۔ اس صورت حال نے مزید کشیدگی پیدا کی ا ور الیکشن 2008ءبھی خطرے میں پڑتا دکھائی دیا ،اس سے تمام سیاسی پارٹیاں باہر نکل آئیں اور دسمبر 2007ءمیں محترمہ بے نظیر کی شہادت نے حالات کو اور بھی غم زدہ بنا دیا۔ الیکشن جنوری کی بجائے فروری تک موخر کر دیئے گئے تاکہ محترمہ بے نظیر کا چالیسواں بھی گزر جائے۔ الیکشن کے بعد بھی وکلاءتحریک ختم نہ ہوئی اور نئی آنے والی حکومت سے بھی برطرف ججوں کی بحالی کا مطالبہ جاری رہا۔ مارچ 2007ءمیں تو معاملہ صرف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو برطرف کر دینے تک کا تھا، لیکن نومبر 2007ء میں جب ایمرجنسی لگائی گئی تو مزید ججوں کو بھی گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔ ججوں کی بحالی میں جب صدر پرویز مشرف نے رکاوٹیں پیدا کیں تو آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس کر کے ان کے خوب ”لتے“ لئے اور کھل کر ان کی بے عزتی کی، اس بے عزتی کو پرویز مشرف برداشت نہ کر سکے اور آخر کار انہوں نے 18 اگست 2008ءکو صدارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ملک میں نئے صدر کے لئے الیکشن کرائے گئے اور آصف علی زرداری نئے صدر منتخب ہو گئے۔ انہوں نے افہام و تفہیم کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے 16مارچ 2009ءمیں ججوں کو بحال کر دیا۔ افتخار محمد چودھری بھی سپریم کورٹ واپس آ گئے اور انہوں نے اس کے بعد کے چار برسوں میں جو بھی اہم فیصلے کئے ،وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ پی پی پی کو کھل کر کرپشن کرنے کی راہ میں وہ سب سے بڑی رکاوٹ بنے اور اُن کا یہ عمل آج بھی جاری ہے۔

موجودہ حکومت یعنی نوازشریف کی حکومت بھی شاید ان سے خوش نہیں ہے، کیونکہ ان دنوں پھر ایک بار ایسی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں، جن سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ بیورو کریسی بہت سے اہم مقدمات کو محض التوا میں رکھنے کی خواہش مند ہے۔ تاریخ پر تاریخ، تاریخ پر تاریخ کی عدلیہ کی پرانی عادت کو واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ میاں نواز شریف اپنی جس نزدیکی ”ٹولی“ میں رات گئے تک بیٹھتے ہیں ،وہاں اب گیارہ، بارہ ، تیرہ کا ہی انتظار کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب نیا چیف جسٹس آف پاکستان حلف لے گا تو شاید حکومت کچھ سکھ کا سانس لے سکے۔ ملتانی چیف جسٹس کے بارے میں بتایا یہی گیا ہے کہ وہ افہام و تفہیم کے قائل ہیں۔ از خود نوٹس لے کر کسی معاملہ کے پیچھے پڑنے کی پالیسی کو وہ کم کم ہی پسند کرتے ہیں، لیکن اس کا کیا ہوگا کہ جو کمیٹیاں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ان امور کے بارے میں بنا گئے اور جس میں رجسٹرار سپریم کورٹ سمیت تین تین کی ٹکڑیوں میں تقریباً تمام جج صاحبان شامل ہیں، وہ جب کسی کیس کی از خود نوٹس کی سماعت کے لئے کہیں گے تو اس کی شنوائی تو کرنا ہی پڑے گی۔ اب اگر آنے والا چیف جسٹس انہیں ختم کرتا ہے یا یکسر بدل دیتا ہے تو اس پر وکلاءبرادری تنقید کرے گیا ور خود پاکستان کے عوام بھی ایسے کسی قدم کو پسند نہیں کریں گے۔

ملک بھر میں تقریباً 600 بیورو کریٹس کی ایسی لسٹیں تیار کی جا چکی ہیں، جنہیں ریٹائرڈ لائف سے واپس لا کر خالی آسامیوں پر کنٹریکٹ ملازمت مہیا کر کے لگایا جائے گا۔ اس وقت سکیل 21-20-19 اور 22 کی تقریباً تین ہزار آسامیاں خالی ہیں اور چاروں صوبوں میں دیگر افسروں کو اضافی چارج دے کر کام چلایا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت صوبے کی سطح پر اور وفاقی حکومت وفاق کی سطح پر روزانہ بھی پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلوا کر افسروں کی ترقیاں شروع کرے تو تب بھی اتنی زیادہ آسامیاں مکمل طور پر بھرنے کے لئے پانچ برس کا عرصہ درکار ہوگا۔ ایسا اس لئے ہے کہ جب تک کسی ایک سکیل میں افسر کی مدت ملازمت پوری نہ ہو ،اس کا کیس پروموشن کمیٹی کے سامنے بھیجا ہی نہیں جا سکتا اور مدت ملازمت میں نہ تو کمیٹی کسی کو رعایت دے سکتی ہے اور نہ ہی صوبائی یا وفاقی حکومت کے سربراہ ایسا کرنے کے مجاز ہیں، لہٰذا آنے والے مہینے میں تو ہمارے وزیر اعظم اسی ایکسر سائز میں ہی مصروف رہیں گے، جوں ہی اس سے فارغ ہوں گے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں اُنہیں بلدیاتی انتخاب کے مرحلے سے بھی گزرنا ہوگا۔ لاہور میں ان دنوں میاں عامر محمود بھی وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم سے ملنے کا وقت مانگ رہے ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں اپنے ہرکارے اِدھر اُدھر سے بھجوا بھی رکھے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ نیو ایئرنائٹ پر شاید اُن کی مراد پوری ہو جائے۔

اس کے بعد ہی لاہور کے لارڈ میئر کا نام سامنے آئے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اُن کے سابقہ تجربے کی روشنی میں قرعہ اُن کے نام نکل آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مرتبہ کسی نوجوان کو سامنے لایا جائے۔ خدا معلوم کس وجہ سے جسٹس افتخار محمدچودھری اور میاں نوازشریف میںاختلاف ہوا ،ورنہ اُنہیں بحال کرانے کے لئے تو اُن کا جلوس لاہور سے راولپنڈی کے لئے روانہ ہو کر مریدکے بھی کراس کر چکا تھا، جب انہیں حکومت کی طرف سے ججوں کی بحالی کا مژدہ سنایا گیا ،یوں اس جلوس نے اپنا مقصد پا لیا۔ اُن کے آخری فیصلوں میں تو وہ فیصلہ بھی شامل ہے ،جس کے تحت ایل پی جی کے ناجائز ٹھیکے منسوخ کر دیئے گئے ، یہ افراد ہرماہ کروڑ روپے سے زائد حاصل کر رہے تھے اور وہ بھی کچھ لگائے بغیر، یعنی کسی قسم کی سرمایہ کاری کئے بغیر اور یہ سلسلہ گزشتہ دس برس سے جاری تھا۔ اس طرح 1990ءکے اسلامی جمہوری اتحاد والے الیکشنوں میں بھی بعض جرنیلوں کی طرف سے مختلف لیڈروں کو اربوں روپے تقسیم کرنے کے خلاف بھی مقدمات درج کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے ہی ہدایات جاری کی تھیں۔ حکومت جب کبھی سپریم کورٹ کے احکامات کو نہ ماننے کا اظہار کرے گی، ووٹر اسے کبھی پسند نہیں کریں گے اور ایسی حکومتوں کو ہمیشہ نا انصاف قرار دیا جائے گا، لہٰذا آنے والے وقتوں میں ان تمام امور کو ذہن نشین رکھ کر ہی حکومت کا کام چلایا جائے تو سب کے لئے بہتر ہوگا۔     ٭

مزید :

کالم -