افتخار ،تیری عظمت کو سلام!

افتخار ،تیری عظمت کو سلام!
افتخار ،تیری عظمت کو سلام!

  

 جسٹس افتخار بلا شبہ پاکستان کا افتخار ہیں۔ انہوں نے عدلیہ کی تاریخ میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔انہوں نے جس جرات اور جواں مردی سے فیصلے کئے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری صاحب کی سربراہی میں سپریم کورٹ ایک فعال ادارہ بنی۔مساوی انصاف کی فراہمی کیلئے ابھی بہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ عدلیہ کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ عدلیہ سب سے مضبوط ادارہ ہے، تاریخ ثابت کریگی۔

 چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری حکومتی سطح پر ہونے والی بدعنوانیوں، اور دوسری بے قاعدگیوں پر ازخود اقدامات اٹھانے کے سلسلے میں مشہور ہیں۔وہ شاید پہلے چیف جسٹس تھے جنہوں نے اس کا بھر پور استعمال کیا،یوں انہوں نے کئی ہزار لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کئے۔ سپریم کورٹ میں الگ سے انسانی حقوق سیل قائم کیا جس میں ہزاروں درخواستوں پر داد رسی کی گئی۔ از خود نوٹس ان ممالک میں لئے جاتے ہیں جہاں انتظامیہ اور قانون ساز ادارے ناکام ہوجاتے ہیں، بدانتظامی ہو، اچھی حکمرانی نہ ہو اور عوام کو انصاف نہ ملتا ہو۔

 جسٹس افتخار محمد چودھری نے سندھ ہائیکورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی عملداری میں تمام وکلا متحد ہیں۔ وکلا کی جدوجہد کا ثمر عدلیہ کی آزادی کی شکل میں ملا۔ وکلا تحریک میں کردار ادا کرنے پر جج صاحبان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک آمر نے میرے خلاف ریفرنس بھیجا تھا، میں نے مڑ کر دیکھا تو گلے لگانے والوں کی کمی نہ تھی۔ گلے لگانے والے لوگ نہ ملتے تو 9 مارچ کو قدموں میں لرزش آسکتی تھی۔ میرے منصب سے علیحدہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، وکلا کے پاس اقتدار نہیں تھا، قلم کے ذریعے تبدیلی لائے۔

بقول چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اپنا فرض ادا کیا یا نہیں، حکومتیں آتی ہیں چلی جاتی ہیں، اصل مسئلہ غربت کا خاتمہ ہے۔ عوامی مسائل حل نہیں ہوتے۔ امتیازی سلوک آئین کیخلاف ہے، غریب کے پاس پینے کیلئے پانی بھی نہیں،ہمیں اپنے بچوں کو تعلیم دینا ہوگی، تعلیم بنیادی حق ہے لیکن سکولوں میں مویشی بندھے ہیں، بچیاں قبرستانوں میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، تعلیم کو ترجیح حاصل نہیں، سکولوں پر قبضے ہیں، تعلیم سے متعلق عدالتی احکامات پر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی، ازخود نوٹس لیا تھا جس میں جائزہ لیا کہ کیا سب کو یکساں تعلیمی مواقع حاصل ہیں؟ کراچی میں بدامنی پر ازخود نوٹس لیا گیا، کراچی میں کوئی نیا قانون نہیں آیا پرانے پر عملدرآمد کرا رہے ہیں، عدالت نے طاقت وروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی، عدلیہ آزاد ہونے سے امن و امان اور سرمایہ کاری ہوگی، اب ملک میں تبدیلی آرہی ہے۔لاپتہ افرا د کا کیس 2005ءسے عدالتوں میں چل رہا ہے، لاپتہ افراد کیس میں بہت سے لوگوں کو برآمد کیا۔

 نامزد چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ جج کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ میں 12 دسمبر کو چیف جسٹس کے منصب کی تبدیلی ہونے کو ہے۔ اگر اداروں کو آئین پر عدلیہ نے چلانا ہے تو پھر حکمرانوں کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے اگر حکمران تمام اداروں کو آئین و قانون کے مطابق چلائیں اور سرکاری ملازمین آئین پر عمل کریں تو عدلیہ کو ایکشن لینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو اور یوں عدلیہ کا کام بھی آسان ہو جائے۔ اگر تمام ادارے آئین و قانون میںمتعین اپنے اپنے دائرہ کار کے فریم ورک میں رہ کر فرائض انجام دینے کی روائت مستحکم بنالیں تو اس سے سسٹم کو بھی کسی قسم کا دھڑکا نہیں رہے گا اور حکومتی گورننس بھی انصاف کی عملداری کی ضمانت بن جائےگی۔

چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی جانب سے ملک کی پارلیمنٹ کو اپنی میعاد کی تکمیل کے قریب پہنچنے پر پیش کیا جانے والا خراج تحسین نظام مملکت میں نہایت مثبت اور خوشگوار تبدیلی کا آئینہ دار ہے۔منظم قومیں دستور کی پاس داری کرتی ہیں،پچھلے برسوں میں بہت کچھ ہوا، اب سسٹم کو چلنے دیا جائے، تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کیا جائے،ہم سب آئین کے پابند ہیں، کوئی بھی غیرآئینی اقدام عوامی مزاج کے خلاف ہوگا۔

بعض اہلِ ہوس کو یہ تکلیف بے چین کیے ہوئے کہ چیف جسٹس نے انہیں جی بھر کے لوٹنے کی اجازت نہیں دی اس لیے آنے والے دنوں میں یہ لوگ جی بھر کر اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کریں گے۔چیف جسٹس کے دور میں ایک عام آدمی کو یہ آسرا ضرور تھا کہ اس کے ساتھ ظلم ہوا تو ان کی بات سنی جائے گی ۔کرپٹ عناصر کو ایک خوف تھا کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس کہیں انہیں پکڑ نہ لے۔

افتخار چودھری انسان ہیں فرشتہ نہیں۔انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ان کا دور پہلے سے بہت مختلف اور بھر پور ہے۔گیارہ بارہ تیرہ کو وہ ریٹائر ہو جائیں گے۔جہاں رہیں خوش رہیں۔وہ کسی تبدیلی کی بنیاد تونہ رکھ سکے، حتیٰ کہ عدالتی نظام بھی تبدیل نہ کر سکے لیکن ملک میں کبھی حقیقی تبدیلی آئی تو ان کا شمار اس کے نقش اول میں ضرور ہو گا۔    ٭

مزید :

کالم -