گیس کا بحران اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو مضبوط کرنے کا خواب

گیس کا بحران اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو مضبوط کرنے کا خواب

  

سوئی ناردرن گیس کمپنی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سی این جی سیکٹر ،پاور سیکٹر اور صنعتوں کے لئے گیس بند کردی ہے۔اعلامئے کے مطابق گیس کی بندش سردی میں اضافے اور گیس میں کمی کے باعث کی جارہی ہے،جس کے تحت منگل کی صبح دس بجے سے سی این جی سٹیشنوں ،صنعتی یونٹوں اور تمام پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی غیر معینہ مدت کے لئے بند کردی گئی ہے، بتایا گیا ہے کہ گیس کا شارٹ فال 30کروڑ کیوبک فٹ اضافے کے ساتھ ایک ارب کیوبک فٹ تک پہنچ گیا ہے۔سردی کی شدت اور گیس کی طلب میں کمی ہوئی تو پلان پر نظرثانی کی جائے گی۔بصورت دیگر فروری تک گیس کی فراہمی بند رہے گی۔خیبرپختونخوا میں گیس کی طلب بڑھنے کے باعث پہلی مرتبہ چند یوم کے لئے سی این جی کو گیس کی فراہمی بند کرنا پڑے گی۔سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کمپنی کے چیئرمین عارف حمید نے کہا ہے کہ اگر آج گیس بند نہ کرتے تو گھریلو صارفین ناشتہ نہیں بنا سکتے تھے۔ دوسری طرف پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں ترقی کے لئے صنعت کاروں اور تاجروں کو آگے آنا ہوگا، جدید گارمنٹ اکنامک زون بنا رہے ہیں۔

ملک میں گیس (اور بجلی) کا بحران کئی سال سے جاری ہے۔سردیوں کے موسم میں بعض اوقات گھریلو صارفین کے لئے بھی گیس میں کمی ہو جاتی ہے، اس عرصے میں گیس کی درآمد کے لئے اعلانات تو بہت ہوتے رہے ،لیکن عملاً کوئی ایسا اقدام نظر نہیں آیا، جس سے پتہ چلتا ہو کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ایران کے ساتھ گیس کی درآمد کے سلسلے میں بات چیت عرصے سے چل رہی ہے۔شروع شروع میں ایران سے پائپ لائن بچھانے کے منصوبے میں پاکستان کے ساتھ بھارت بھی شامل تھا، لیکن وقت کے ساتھ حالات کی تبدیلی کی وجہ سے وہ منصوبے سے نکل گیا اور اس نے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے امریکہ سے رجوع کرلیا،جس نے اسے سول نیوکلیئر پاور پلانٹ سپلائی کرنے کا وعدہ کرلیا۔غالباً اسی وجہ سے بھارت منصوبے سے علیحدہ ہو گیا، تاہم ایران اور پاکستان دونوں نے اعلان کیا کہ وہ منصوبے پر کام جاری رکھیں گے۔پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنی مدت کی تکمیل سے تھوڑا عرصہ پہلے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کر دیئے تو امیدپیدا ہوئی کہ اب معاملہ آگے بڑھے گا، کیونکہ ایران نے پاکستان کی سرحد تک پائپ لائن بچھانے کا پراجیکٹ مکمل کرلیا ہے اور اب سرحد سے نواب شاہ تک پاکستانی علاقے میں پائپ لائن بچھانے کا کام شروع ہونا ہے، جس کی معاہدے کے تحت تکمیل اگلے برس کے اختتام تک ہونی ہے، لیکن اب تک کام عملاً شروع نہیں ہوا، کہا جارہا ہے کہ گیس کے نرخ زیادہ ہیں، یہ نرخ کم کرنے کے لئے بات چیت دوبارہ شروع ہوگی، اس منصوبے میں تاخیر کی دوسری وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ امریکہ کو اس پر اعتراض تھا اور خدشہ یہ تھا اگر منصوبے پر کام شروع ہوا تو ایران کی طرح پاکستان کو بھی پابندیوں کا سامناہو سکتاہے ۔مزید برآں بین الاقوامی بینکوں نے بھی پابندیوں کے خدشے کے پیش نظر فنانسنگ سے معذرت کرلی تھی۔وجہ کچھ بھی ہو، اعلانات جو بھی ہورہے ہوں،پاکستان کے علاقے میں پائپ لائن بچھانے کا کام شروع نہیں ہو سکا۔

پاکستان کے اندر گیس کی سپلائی کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے۔گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ صنعتوں، پاور سیکٹر اور سی این جی سیکٹر کو بھی گیس کی ضرورت ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کا حل ہمارے پاس کیا ہے؟ ظاہر ہے درآمد کے سوا چارہ نہیں، یہ گیس پائپ لائن کے ذریعے دو ملکوں سے درآمد ہو سکتی ہے۔ایک تو اوپر ایران کا ذکر آ گیا۔دوسرا ملک ترکمانستان ہے جو پاکستان کوگیس دے سکتا ہے، وہاں سے گیس افغانستان کے راستے پاکستان پہنچے گی اور بھارت تک جائے گی۔ ترکمانستان کی گیس اگرچہ ایرانی گیس کی نسبت سستی ہے، لیکن فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ترکمانستان سے گیس پائپ لائن بچھانے میں تاخیرہو سکتی ہے اور نتیجے کے طور پر گیس کی آمد میں بھی ایران کی نسبت تاخیر سی ہوگی۔تاہم اگر ایران پاکستان پائپ لائن پراجیکٹ پرکام شروع ہو جاتا ہے تو ایک سال بعد گیس حاصل کی جا سکتی ہے۔اب ایران پاکستان گیس پراجیکٹ پر امریکی پابندیوں کا خدشہ کم بلکہ ختم ہو گیا ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جو نیوکلیئر معاہدہ ہوا ہے، اس کے تحت ایران پر پہلے سے عائد پابندیاں ختم یا نرم کردی گئی ہیں اور امریکی صدر نے کانگرس سے کہا ہے کہ مزید پابندیاں نہ لگائی جائیں، اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان اور ایران کو پائپ لائن بچھانے کا کام تیزی سے شروع کردینا چاہیے اور ملک میں گیس کی سپلائی کی جو صورت حال ہے اس کے پیش نظر کام جنگی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔

سی این جی ،صنعتوں اور پاور سیکٹر کو گیس کی سپلائی بند ہونے سے بے روزگاری کا دائرہ پھیل جائے گا۔سی این جی سٹیشن بند ہوں گے تو ان پر کام کرنے والے لاکھوں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے۔گیس کی وجہ سے کسی کے چولہے ٹھنڈے ہوں نہ ہوں، بیروزگاری کا عتاب غریبوں کے چولہے ضرور ٹھنڈے کر دے گا جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں اور بمشکل جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ پا رہے ہیں۔صنعتوں کو گیس کی سپلائی بند ہوگی تو بھی مزدور اور فنی عملہ بیروزگار ہوگا، پیداوارمتاثر ہوگی اور یورپ کی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات میں اضافے کے جو امکانات پیدا ہو رہے ہیں، ہم ان سے مستفید نہ ہو سکیں گے۔برآمدات تو تبھی بڑھ سکتی ہیں جب صنعتیں چلیں،صنعتوں کو ایندھن ہی نہ ملا تو کیسی پیداوار اور کیسی برآمدات؟پاکستان سے ٹیکسٹائل کی برآمدات ملک کی مجموعی برآمدات کا تقریباً نصف ہیں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو مضبوط کرنے کی بات تو کی ہے، لیکن سوال یہ ہے گیس نہ ملنے کی وجہ سے یہ سیکٹر کیسے مضبوط ہوگا؟ پہلے سے قائم صنعتیں اگر بند ہو رہی ہوں گی تو نئی صنعتیں کیسے لگیں گی۔یہ صنعتیں اگر انرجی کے متبادل ذرائع کا استعمال کریں گی تو پیداواری اخراجات بڑھیں گے اور بالآخر عالمی منڈیوں میں مہنگی مصنوعات کو فروخت کرنا مشکل ہو جائے گا۔پاور سیکٹر کو گیس کی سپلائی بند کرنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بجلی کی پیداواربھی کم ہو جائے گی اور لوڈشیڈنگ کا عذاب پھر سے نازل ہوگا جو گزشتہ چند ہفتوں سے بڑے شہروں سے ٹلاہوا تھا، ضرورت اس امر کی ہے کہ گیس کے بحران سے نپٹنے کے لئے کوششیں تیز تر کی جائیں اور قطر سے ایل پی جی درآمد کرنے کے جو منصوبے کئی سال سے مُعلق چلے آ رہے ہیں، ان کے متعلق بھی جلد کوئی فیصلہ کرلیا جائے۔فیصلوں میں تاخیر کا مطلب معیشت کی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما کے ڈیتھ وارنٹ

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے جماعت اسلامی کے معمر راہنما عبدالقادرمُلا کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لئے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیئے ہیں جس کے بعد ان کو کسی بھی وقت جیل مینوئل کے مطابق پھانسی دی جا سکتی ہے۔ عبدالقادر مُلا کو ستمبر میں سزائے موت کا حکم سنایا گیا تھا اس سے پہلے انہیں خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا دی تھی۔ بنگلہ دیش کے سیاسی حلقوں نے اس حکم کے نتیجے میں نئے ہنگاموں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

عبدالقادر مُلا اور جماعت اسلامی کے بعض دوسرے رہنماﺅں کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمات چلائے گئے جو موجودہ برسر اقتدار حکومت (مجیب کی وراثت) نے شروع کئے۔ الزام یہ لگایا گیا کہ ان حضرات نے بنگلہ دیش کے قیام میں رکاوٹ ڈالی اور پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر بنگلہ دیشی عوام پر مظالم ڈھائے جو بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔

پوری دنیا میں بنگلہ دیش کی حسینہ واجد حکومت کی طرف سے شروع کئے جانے والے ان مقدمات کی مخالفت کی گئی اور سزاﺅں کی مذمت کی گئی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے تو عبدالقادر مولا کی بزرگی کے پیش نظر بھی اس رویئے کو سخت قرار دیا تھا ۔اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کی برسر اقتدار قیادت اس سزا پر عمل درآمد شاید 16 دسمبر کو کرائے کہ یہ بنگلہ دیش کے قیام کا دن ہے، حسب توقع اس فیصلے پر بھی دنیابھر میں احتجاج کیا گیا ہے۔

یہ معاملہ بالکل اندرونی بھی نہیں کہ اسے 1971-1970ءکے واقعات سے جوڑ کر جنگی جرم بنایا گیا ہے۔ اُس وقت جو حالات تھے ان کی روشنی میں پاکستان کے فوجیوں سمیت سول حکام اور شہری جنگی قیدی بنے اور 94 ہزار افراد بھارت میں قید کاٹ کر اس وقت رہا ہوئے جب ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا تھا۔ ان میں سے کسی پر مقدمہ نہ چلا، لیکن اب اتنی تاخیر سے ان حضرات پر مقدمہ چلا کر ان کو سزا دی جا رہی ہے جو بنگلہ دیش میں رہ گئے اور اب وہاں کے شہری ہیں،بنگلہ دیش کے اردو بولنے والوں کو بھی وہاں کا شہری نہیں مانا جاتا۔ جماعت اسلامی کے رہنماﺅں نے باقاعدہ بنگلہ دیش کو وطن قرار دے کر سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا ۔بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماﺅں پر بھی پابندی لگائی جا چکی ہے۔

یہ جو بھی ہوا یا ہو رہا ہے کسی طور مناسب نہیں۔ بنگلہ دیش آزاد ملک بن چکا۔ پاکستان بھی یہ حیثیت قبول کرچکاہے، بہتر یہی تھاکہ جو بھی پیچھے رہ گئے تھے، ان سب کو برابر کے شہری حقوق دیئے جاتے اور وہ بھی اپنے ملک کے شہری بن کر زندگی بسر کرتے۔ اب بھی کچھ زیادہ نہیں بگڑا، قانون کے مطابق بنگلہ دیش کے صدر سزا معاف کر سکتے ہیں۔ ان کو ایسا ضرور کرنا چاہئے۔ بنگلہ دیشی برسر اقتدار جماعت یا حزب اختلاف، سب کو انسانی حقوق کا خیال رکھنا ہوگا اور تقاضہ یہ ہے کہ اب عام معافی کا اعلان کر کے ان حضرات کو بھی قومی ترقی میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے، ورنہ اب ہنگاموں کا جو اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے تو یہ مستقل شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں اور یہ مناسب نہیں ،در گزر بہتر راستہ ہے۔حکومت پاکستان کو بھی یہ معاملہ بنگلہ دیش کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔  ٭

مزید :

اداریہ -