ایک لاکھ افراد کا جینیاتی نقشہ تیار کیا جائےگا ¾ سعودی عرب میں نیا منصوبہ شروع

ایک لاکھ افراد کا جینیاتی نقشہ تیار کیا جائےگا ¾ سعودی عرب میں نیا منصوبہ ...

  

ریاض (این این آئی) سعودی عرب میں ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت تقریباً ایک لاکھ افراد کا جینیاتی نقشہ تیار کیا جائے گا۔ منصوبے میں ایسے جینز پر تحقیق کی جائے گی جو بیماریوں کا باعث بنتے ہیں جس سے پیدائش اور شادی سے پہلے کسی بھی فرد کی سکریننگ کی راہ ہموار ہوگی اور معلوم ہو سکے گا کہ جن افراد کی سکرینگ کی گئی انھیں کوئی بیماری لاحق تو نہیں یا بیماری ہونے کا اندیشہ تو نہیںاس پروجیکٹ کےلئے سعودی عرب کی نیشنل سائنس ایجنسی نے فنڈ مہیا کیے ہیں اور اس میں ایک ڈی این اے ڈیٹا بیس بنایا جائےگا تاکہ مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مخصوص ادویات تیار کی جا سکیں۔برطانیہ میں بھی اسی قسم کا منصوبہ جاری ہے جس میں ایک لاکھ مریضوں کے جینوم کے نقشے بنائے جائیں گے۔ سعودی منصوبے میں اگلے پانچ سال میں ایک لاکھ افراد کے جینوم کے نقشے بنائے جائیں گے تاکہ عام اور بیماریوں کا باعث بننے والے جینز کا مطالعہ کیا جا سکے۔کنگ عبدالعزیز سٹی فور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے صدر ڈاکٹر محمد بن ابراہیم السویل نے بتایا کہ ہمیں یقین ہے کہ اس انسانی جینوم کے پروگرام سے صحت اور بیماریوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور اس سے ہم سعودی عرب میں کسی شخص کی بیماری کے مطابق دوا تیار کرنے کے دور میں داخل ہو جائیں گے اور اس سلسلے میں ہم سعودی حکمرانوں کی سرمایہ کاری کےلئے شکرگزار ہیںیہ تحقیق سعودی عرب کے دس جینوم سینٹروں میں کی جائےگی اور آنے والے برسوں میں مزید پانچ سینٹر قائم کیے جائیں گے۔برطانیہ میں جینوم کے ماہر ڈاکٹر ایون برنی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور اس کے باہر آبادیوں میں بہت بڑا جینیاتی فرق متوقع نہیں ہے تاہم سعودی عرب میں پائی جانے والی جینیاتی بیماریوں میں تھوڑا فرق ہو سکتا ہے۔سعودی پروجیکٹ کے بارے میں ڈاکٹر برنی کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اس معاملے میں مغربی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں وسیع پیمانے پر ڈیٹا اور مہارت کا تبادلہ کیا جائےگا۔

مزید :

عالمی منظر -