تجزیہ:خادم حسین چودھری مذاکرات - مذاکرات - مذاکرات - کب ہوں گے؟ قوم منتظر!

تجزیہ:خادم حسین چودھری مذاکرات - مذاکرات - مذاکرات - کب ہوں گے؟ قوم منتظر!

  

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن کے لئے ناراض بلوچ نوجوانوں اور حضرات سے مذاکرات کئے جائیں گے کہ ایسے تنازعات بات چیت ہی سے حل ہوتے ہیں، ایسا اظہار پہلی مرتبہ نہیں ہوا، پچھلے پندرہ سال سے یہ بات کہی جا رہی ہے اور اب تو موجودہ حکومت نے تمام تر تحفظات کے باوجود کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کے فیصلے کو تبدیل نہیں کیا اور رابطے کے لئے کوشش جاری ہے اور اسی فارمولے کے تحت ناراض بلوچوں سے بھی بات چیت ہونا ہے جبکہ خود امریکہ بھی افغانستان میں برسر پیکار طالبان سے مذاکرات چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں امریکی وزیر دفاع نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے بات بھی کی ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ افغانستان کے دوران افغان صدر حامد کرزئی نے بھی طالبان سے مذاکرات کے لئے پاکستان سے تعاون مانگا تھا۔

اس میں کوئی دو آراءنہیں ہیں کہ خطے میں پاکستان کی اہمیت مسلم ہے اور دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں تعاون نے اس اہمیت کو زیادہ واضح کیا اور امریکہ بھی سمجھتا ہے، اس سلسلے میں پاکستان میں اسیر طالبان کے قائد ملا عمر کے نائب اور قریبی ساتھی ملا برادرز پاکستان میں اسیر تھے ان کو رہا کر کے تحفظ مہیا کیا گیا ہے اور خواہش یہ ہے کہ ان کے توسط سے بات چیت کا آغاز ہو، پاکستان تعاون پر تیار ہے اور مذاکرات کی خواہش والوں کو ان تک رسائی دینے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ وہ بھی رضامند ہوں، اس کے لئے طریق کار طے ہو رہا ہے۔

جہاں تک افغانستان میں امن اور مستقبل کا سوال ہے تو امریکہ اور نیٹو والے طالبان کو افغانستان میں جاری کئے جانے والے جمہوری نظام میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ جسے طالبان تسلیم نہیں کرتے وہ خلافت کے نظام کے قائل ہیں۔ بہرحال یہ معاملات تو مذاکرات کے بعد ہی سامنے آ سکتے ہیں۔ فی الحال تو یہ سلسلہ جڑ نہیں پا رہا اور اسی کے لئے کوشش جاری ہے۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کا اسلام آباد میں چھ گھنٹے کا قیام اور مصروفیات کئی قسم کے تجزیوں اور تبصروں کا ذریعہ بن گیا تاہم ان کی اصل آمد افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے تھی اور اسی حوالے سے بات چیت یقینا ہوئی ہو گی۔ بہرحال جلد ہی نتائج بھی سامنے آ جائیں گے۔

یہاں تو سوال ہے کہ ہمارے اپنے ملک کے اندر کیا ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنے کی وجہ سے خبرنگاروں کی توجہ ادھر ہی رہی اور بڑے مسائل کے بارے میں پتہ ہی نہیں لگایا گیا، بہتر ہوتا کہ تجسس کے لئے یہ بھی معلوم کیا جاتا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے لئے امریکی سوچ کیا ہے اور پاکستان سے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی۔ عمران خان دھرنا بھی دیتے ہیں۔ ڈرون کی مخالفت بھی کرتے ہیں اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ نہ تو بھارت مخالف ہیں اور نہ ہی امریکہ کے خلاف ہیں۔ اگر یہ سب نہیں تو پھر جھگڑا کیا ہے۔ بہتر انداز میں بھی احتجاج کیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک حکمرانوں کا تعلق ہے تو وہ چند ماہ گذارنے کے بعد اب اپنی سوچ کے مطابق حکمرانی کرتے چلے جا رہے ہیں او ریہ احساس دلا رہے ہیں کہ ان کو کسی کی فکر نہیں۔ یہ تبدیل شدہ رویہ اچھا نہیں۔ وزیر اعظم نے پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت کا عمل ترک کر دیا ہے۔ چک ہیگل کی آمد سے قبل مشاورت ہو جاتی تو بہتر تھا اور پھر نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنے کے حوالے سے عمران خان سے بھی مذاکرات ممکن ہیں کہ یہ جمہوری طرز عمل ہے، ورنہ اب لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس دھرنے کے حوالے سے حکومت اور تحریک انصاف میں ملی بھگت ہے۔عمران خان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں مک مکا کی بات کرتے ہیں، کیا یہ سب عوام کو مایوس کرنے والی بات نہیں؟

اگلا وقت زیادہ مشکل ہے، گیس کا بحران سر پر آ گیا۔ لوڈشیڈنگ بھی شروع ہونے والی ہے۔ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں تو بجلی کے بلوں نے کمر توڑ دی ہے۔ گزشتہ روز عدالت عظمیٰ نے سبسڈی ختم نہ کرنے کا حکم دے کر کچھ ڈھارس بند ھائی ہے تاہم افسر شاہی باکمال ہوتی ہے کوئی نیا راستہ نکال لے گی۔وزیر اعظم مشاورت کا عمل شروع کیوں نہیں کرتے ۔انہوں نے ابتدائی ایام میں ایسا ہی کیا تھا۔

مزید :

صفحہ اول -