جسٹس افتخار چودھری اور جسٹس تصدق حسین جیلانی کی زندگی میںکئی چیزیں مشترک

جسٹس افتخار چودھری اور جسٹس تصدق حسین جیلانی کی زندگی میںکئی چیزیں مشترک

  

 لاہور(سعید چودھری) چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری آج اپنے عہدہ سے سبکدوش ہو رہے ہیں جبکہ کل 12دسمبر کو مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی چیف جسٹس پاکستان کے عہدہ کا حلف اٹھائیں گے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس تصدق حسین جیلانی کی زندگی میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں کے پاس ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں ہیں۔ دونوں کو 3نومبر2007ءکے پی سی او کے تحت گھر بھیجنے کی کوشش کی گئی۔ دونوں اپنے اپنے صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل رہے۔ دونوں وکلاءسیاست کے سرگرم راہنما اور منتخب عہدیدار رہے۔ حقوق انسانی کے حوالے سے دونوں ججوں کے کردار کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا اور اعزازات سے نوازا گیا۔ دونوں نے 1974 ءمیں وکالت کا آغاز کیا اور دونوں کو 1976ءمیں ہائیکورٹ میں وکالت کے لائسنس ملے۔ دونوں فیملی ممبرز کے مالی سکینڈلز کی وجہ سے آزمائش کے مراحل سے گزرے۔ ایک کو بیٹے اور دوسرے کو بھائی کے مالی اسکینڈل نے آزمائش سے دوچار کیا اور دونوں اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلے۔جسٹس تصدق حسین کو 12اکتوبر2007ءکو جنوبی ورجینیا یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا جبکہ جسٹس افتخار محمد چودھری کو ساﺅتھ ایسٹم یونیورسٹی نے 10مئی 2008ءکو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی 1993ءسے 1994ءتک پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل رہے جبکہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے 1989ءسے 1990ءتک ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کے طور پر کام کیا۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی 1976 ءملتان بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اور 1978 میں پنجاب بار کونسل کے ممبر منتخب ہوئے جبکہ جسٹس افتخار محمد چودھری 1986ءمیں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ دو مرتبہ بلوچستان بار کونسل کے ممبر بھی رہے۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی کو 2008ءمیں امریکن بار ایسوسی ایشن کی طرف سے ”رول آف لاءایوار“ کے نوازا گیا۔ وہ واحد پاکستانی جج ہیں ۔جنہیں انصاف کے لئے خدمات کے پیش نظر مشی گن شہر(امریکہ) کی کنجی پیش کی گئی وہ ہیگ کانفرنس برائے عالمی عائلی ثالثی کمیٹی کے شریک چیئرمین اور امریکی بار ایسوسی ایشن کے اعزازی چیئرمین میں بھی رہے۔ جبکہ جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہاورڈ یونیورسٹی سے میڈل آف فریڈم مل چکا ہے۔ وہ چارلس ہملٹن ہوسٹن اور نیلسن منڈیلا کے بعد تیسری شخصیت ہیں جنہیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں 2007ءمیں لائیر آف دی ایئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں انٹرنیشنل جیورسٹ ایوارڈ کے علاوہ پاکستان کی مختلف پاروں کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔

مشترک چیزیں

مزید :

صفحہ اول -