پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر وزارت خزانہ و محنت کے سیکرٹریزسے جواب طلب

پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر وزارت خزانہ و محنت کے سیکرٹریزسے جواب طلب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے ای او بی آئی کے پنشنرز کووزیر خزانہ کے اعلان کے مطابق پنشن نہ دینے کے خلاف دائردرخواست پربورڈ آف ٹرسٹیز چیئرمین ای او بی آئی اور خزانہ و محنت کی وزارتوں کے سیکرٹریوں سے 5 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ درخواست گزار ممتا ز صحافی اورکالم نگارریاض احمد چودھری نے دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2013-14 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ تمام پنشنرز کی کم از کم 5ہزارروپے پنشن دی جائے گی لیکن 5 ماہ گزرنے کے باوجود ای او بی آئی کی جانب سے اعلان کردہ پنشن ادا کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیاگیا۔ ابھی تک 18 لاکھ پنشنروں کو 36سو روپے ماہوار پنشن ہی دی جا رہی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل الیاس اعوا ن نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 18 لاکھ پنشنرز وزیر خزانہ کے اعلان کے باوجود اضافہ سے محروم ہیں ۔ ان پنشنرز کا بنیادی حق ہے کہ ان کو بھی حکومتی اعلان کے مطابق کم از کم پنشن 5000 روپے ادا کی جائے۔ درخواست گزار کے مطابق انہوں نے گزشتہ ہفتے وزیر اعظم میاں نواز شریف کوبھی درخواست پیش کی تھی جس میں ان سے اپیل کی گئی کہ ای او بی آئی کے 18 لاکھ پنشنرز کو5000 روپے ماہوار کے حساب سے پنشن ادا کی جائے اور بڑھاپے کی پنشن کے حق داروں کو گزشتہ 5 ماہ کے واجبات بھی ادا کئے جائیں۔ اس بارے میں وزیر اعظم نے اپنے ایڈیشنل سیکرٹری فواد احمد فواد کو ہدایت کی تھی کہ جلد از جلد اس معاملے کا جائزہ لیا جائے اور فوری کارروائی کی جائے۔ تاہم ابھی تک ان بزرگ شہریوںکی دادرسی نہیںکی گئی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -