پولٹری انڈسٹری کی ترقی میںپبلک سیکٹراہم کرداراداکررہاہے: چوہدری محمد ارشد جٹ

پولٹری انڈسٹری کی ترقی میںپبلک سیکٹراہم کرداراداکررہاہے: چوہدری محمد ارشد ...

  

لاہور(کامرس رپورٹر)کمرشل پولٹری پاکستان میںدوسری بڑی صنعت کادرجہ اختیارکرچکی ہے جس میں 400ارب روپے کی سرمایہ کاری اورڈیڑھ لاکھ افراد اس کاروبارسے وابستہ ہیں۔ جس کے ساتھ ساتھ دیہی مرغبانی بھی لوگوںکے لیے انڈے اورگوشت کی فراہمی کابڑاذریعہ ہے۔ اس سیکٹر کی مزید ترقی اوردرپیش مسائل

کی نشاندہی اورممکنہ حل کے لیے چوہدری محمدارشدجٹ معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے لائیوسٹاک کی سربراہی میںایک محکمانہ میٹنگ ہوئی جس میں خورشید علی زیدی ایڈیشنل سیکرٹری لائیوسٹاک ، ڈاکٹرمحمدنوازسعید ڈائریکٹرجنرل (توسیع)، ڈاکٹر اسرار حسین چوہدری ڈائریکٹرکمیونیکیشن اینڈایکسٹینشن، ڈاکٹر افتخارعلی ڈپٹی سیکرٹری (ٹیکنیکل)، ڈاکٹرعبدالرحمٰن ڈائریکٹرپولٹری ریسرچ انسٹیٹیوٹ راولپنڈی کے علاوہ ڈاکٹر قربان حسین ڈائریکٹرپلاننگ اینڈاویلوایشن اوردیگرافسران نے شرکت کی۔

 ڈاکٹرعبدالرحمٰن نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ اس سیکٹرکی ترقی میں محکمہ لائیوسٹاک نے فارمرٹریننگ، بیماریوں کی تشخیص، پولٹری فیڈاورقوائد و ضوابط اوربائیوسیکورٹی میں کلیدی کردارسرانجام دیاہے۔ اس صنعت کو جب بھی کوئی مسئلہ یا وباءکاسامناپیش آیاتو محکمہ لائیوسٹاک نے بیماری کی تشخیص میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ انہوںنے کہاکہ محکمہ نے رانی کھیت اورایوین انفلوئنزا(برڈفلو)کی تشخیص اوراس بیماری کی روک تھام کی ہے۔پولٹری ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی لیبارٹری میں 5سال میں پانچ لاکھ ساٹھ ہزاربیمارپرندوںکے نمونہ جات چیک کئے گئے اوران کی تحقیق کی روشنی میں ویٹرنری ریسرچ انسٹیٹیوٹ غازی روڈ لاہورمیں سستی اورمو¿ثرویکسین (50پیسے فی پرندہ کے حساب سے)تیارکی گئی۔ جبکہ اسی نوعیت کی غیرملکی ویکیسن 7روپے 50پیسے فی پرندہ دستیاب تھی۔ اس کے علاوہ فیلڈ میں کام کرنے والے عملہ اور1193فارمرز کو جدید طرزپر فارمنگ کی تربیت دی گئی۔ دیہی سطح پر دیسی مرغیوںکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے لیے پولٹری ریسرچ انسٹیٹیوٹ راولپنڈی میں نئی نسل تیارکی گئی ہے جس میں سالانہ 53انڈوں کی بجائے 250انڈے دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس نسل کوتحقیقاتی مراحل سے گزارنے کے بعد فیلڈ میں بھی متعارف کرایاجائے گا۔ چوہدری محمدارشدجٹ معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے لائیوسٹاک نے کہاکہ کمرشل اوردیہی سطح پر رکھی جانے والی مرغیوںکودرپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تیارکرکے حکومت پنجاب کوپیش کی جائے اوران کے حل کے لیے سالانہ ترقیاتی منصوبہ جات کے ذریعے پراجیکٹس بنائے جائیں۔

مزید :

کامرس -