پنجاب کی صنعتوں کو گیس کی بندش کا فیصلہ فوری واپس لیاجائے: فیصل آباد چیمبر

پنجاب کی صنعتوں کو گیس کی بندش کا فیصلہ فوری واپس لیاجائے: فیصل آباد چیمبر

  

فیصل آباد (بیورورپورٹ) صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری انجینئر سہیل بن رشید نے ایس این جی پی ایل کی جانب سے پنجاب کی صنعتوں کو گیس کی غیر معینہ مدت تک کیلئے بندش کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو طے شدہ کوٹہ کے مطابق کم از کم 25 فیصد گیس فراہم کی جائے تا کہ انڈسٹری کا پہیہ چلتا رہے اور یورپی یونین کی طرف سے پاکستانی مصنوعات کی ڈیوٹی فری رسائی سے زیادہ سے زیادہ حاصل ہو سکے۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر ایوان ریاض الحق ، نائب صدر ایوان چوہدری محمد اصغر ، ریجنل چیئرمین اپٹپما میاں آفتاب احمد، چیئرمین پٹیا الیاس محمود، ہوزری ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد امجد خواجہ ، سائزنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شکیل احمد انصاری ، ایمبرائیڈری ایسوسی ایشن کے چیئرمین ندیم اشفاق پوری ، چیمبر کی سوئی گیس کمیٹی کے چیئرمین رضوان اشرف سمیت دیگر ایسوسی ایشنز کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ عہدیداران نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی گیس بندش سے 25 لاکھ مزدور بے روزگار ہو جائیں گے جبکہ 2-3 بلین ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمدات نہ ہونے کی وجہ سے نقصان کا بھی اندیشہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل تک حکام کی طرف سے گیس نہ بند کرنے پر رضا مندی تھی مگر راتوں رات بندش کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کل یعنی 11 دسمبر کو یورپین پارلیمنٹ میں پاکستان کی مصنوعات کو یورپی منڈیوں میں ڈیوٹی فری رسائی بارے حتمی ووٹنگ کے موقع پر اس طرح کے غیر دانشمندانہ اقدامات ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے با لخصوص زہر قاتل ہے اور اس کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ وہ سندھ یا دیگر صوبوں کی صنعتوں کی طرح پنجاب کی صنعتوں بالخصوص ٹیکسٹائل جو معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے کو گیس کی فراہم کیلئے کردار ادا کریں۔ ا نہوں نے کہا کہ اس وقت ٹیکسٹائل سیکٹرکی کل ڈیمانڈ 400 ایم ایم سی ایف ڈی ہے مگر ہمیں صرف 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ہی فراہم کر دی جائے تو اس سے گزارہ ہو سکتا ہے۔ اگر بندش کا فیصلہ برقرار رہا تو یہ ایک تاریخی غلطی ثابت ہوگی اور یورپین پارلیمنٹ میں پاکستان کے مخالفین کو بھی اس اقدام سے تقویت ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ٹیکسٹائل کی صنعت کو تباہ کیا جا رہا ہے جس سے معیشت کا بیڑہ مزید غرق ہو جائیگا۔ پوری دنیا میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے مگر حکومتی اقدامات اس کے بر عکس ہیں اس سیکٹر کو بجائے حریف ممالک کی طرح سہولیات دینے کے مزید مسائل سے دو چار کرنا غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر ملک کا کماو¿ پوت ہے اس کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے۔ گیس کی غیر معینہ مدت تک بندش کا فیصلہ انڈسٹری پر ڈرون حملہ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں گھریلو صارفین کے مقابلے میں انڈسٹری کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ اگر ایک پاور پلانٹ کو گیس بند کر دی جائے تو ٹیکسٹائل کا پہیہ رواں ہو سکتا ہے۔ بے روزگار مزدور سڑکوں پر احتجاج کریں گے تو امن و امان کا مس¿لہ پیدا ہوگا جس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے آخر میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ، وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور فیصل آبادکی ضلعی انتظامیہ کو گیس بندش کے سنگین مس¿لے کو فی الفور حل کروانے کا مطالبہ کیا۔

مزید :

کامرس -