ہائےکورٹ نے بھارتی فلموںا و ر ڈراموںکی نشرےات پر پابندی عائدکر دی

ہائےکورٹ نے بھارتی فلموںا و ر ڈراموںکی نشرےات پر پابندی عائدکر دی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خالد محمودخان نے بھارتی فلموں،انڈین ڈراموں، پروگراموں اورانڈین شوز کو پاکستان میں نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ فاضل جج نے وفاقی حکومت اور پیمراءسمیت دیگر فریقین سے 12دسمبر کو جواب طلب کرتے ہوئے فلمیں اور بھارتی پروگرام درآمد کرنے کے حوالے سے نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا۔فاضل جج نے قراردیا کہ بھارتی فلمیں ممنوعہ فہرست میں ہیں اسے کسی ایس آر او کے ذریعہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ ہم قوم نہیں بلکہ ہجوم ہیں جو خود کو ہی کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں۔گزشتہ روز عدالت کے روبرو مبشر لقمان کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت کی گئی ۔درخواست گزار کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ2006 میں ایک ایس آر او کے تحت انڈین اورغیر ملکی فلمیں اور ڈرامے درآمد کرنے کی اجازت دی جو امپورٹ پالیسی کی شق 25 کی خلاف ورزی ہے اس سے حکومت نے خودہی غیر قانونی کام کاچورراستہ فراہم کیا۔پیمرا بھی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے چینلز کو معمولی جرمانے کرتاہے جس سے آج تک اس غیرقانونی عمل کو روکا نہیں جا سکاکوئی بھی شخص غیر قانونی کام کر کے جرمانہ ادا کرتا ہے اور پھر پاک صاف ہو جاتا ہے۔ عدالت نے قراردیاکہ درخواست گزار کا موقف درست ہے کہ ایس آر او کا اجراامپورٹ پالیسی کی متعلقہ شق کوبے اثرکرنے کے لیے تھا۔ہم قوم نہیں بلکہ ہجوم ہیں جو خود کو ہی کاٹ کاٹ کرکھارہے ہیں۔عدالتی حکم امتناعی کے بعد بھارتی فلم اورڈرامہ سمیت کسی بھی قسم کے بھارتی پروگرام کوپاکستان میں تاحکم ثانی نشرنہیں کیاجاسکتا۔

پابندی

مزید :

صفحہ آخر -