لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا ذمہ دار آئی جی ایف سی قرار، تین دن میں ایف سی کمانڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم، سیکریٹری داخلہ معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھائیں: سپریم کورٹ

لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا ذمہ دار آئی جی ایف سی قرار، تین دن میں ایف سی ...

آئی جی ایف سی کے وکیل سے تلخ جملوں کا تبادلہ ، توہین عدالت کیس بلوچستان بدامنی کیس سے الگ کردیا: عدالت عظمیٰ

لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا ذمہ دار آئی جی ایف سی قرار، تین دن میں ایف سی کمانڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم، سیکریٹری داخلہ معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھائیں: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا ذمہ دار آئی جی ایف سی کو قرار دیتے ہوئے نئے یا قائم مقام آئی جی ایف سی بلوچستان کی تقرری کا نوٹیفکیشن تین دن میں جاری کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے ہدایت کی کہ سیکریٹری داخلہ ایف سی کمانڈر کی تقرری اور چھٹی کی درخواست نہ آنے کا کا معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھائیں جبکہ آئی جی ایف سی توہین عدالت کیس کو بلوچستان بدامنی کیس سے الگ کردیاگیا۔چیف جسٹس کی سر براہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینج نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی اور افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں آخری سماعت کے موقع پر آئی جی ایف سی کے وکیل سے سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہواجس پر عدالت نے عرفان قادر کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہاہے کہ تمام لاپتہ افراد کو ڈی آئی جی سی آئی ڈی کے سامنے پیش کیا جائے اور عدالت کے جاری کردہ حکم نامے پر عمل درآمدیقینی جائے، لاپتہ افراد کو پیش کرنے کے ذمے دار آئی جی ایف سی ہیں، ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایف سی کے خلاف کتنے مضبوط شواہد موجود ہیں۔ سپریم کورٹ نے آئی جی ایف سی کی توہین عدالت کا معاملہ لاپتہ افراداور بلوچستان بدامنی کیس سے الگ کر دیا۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو حکم دیاہے کہ تین روز میں نئے یا قائم مقام آئی جی ایف سی کا نوٹیفکیشن جاری کریں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیکریٹری داخلہ نے بتایا ہے کہ آئی جی ایف سی ہسپتال میں ہیں جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے آئی جی ایف سی کو باضابطہ چھٹی نہیں دی گئی جبکہ قوانین کے مطابق قائم مقام کمانڈ کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ سیکریٹری داخلہ یہ معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں، 3 روز کے اندر نئے یا قائم مقام آئی جی ایف سی کی تقرری کا نوٹی فیکیشن جاری کیا جائے۔ عدالت کے جاری کردہ حکم نامے پر عمل درآمد کروایا جائے۔قبل ازیں دوران سماعت اپنے ریمارکس چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جمہوریت ہے لیکن حکام کی کوئی نہیں سنتا، پہلے دن سے لاپتہ افراد کے کیس میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی، لاپتہ افراد کے کیس میں ایف سی کیخلاف بے پناہ شواہد موجود ہیں۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں لاپتہ افرادکیس میں آئی جی ایف سی توہین عدالت کیس سے متعلق آخری سماعت کے موقع پر آئی جی ایف سی بلوچستان کے کی طرف سے وکیل عرفان قادر پیش ہوئے اور چیف جسٹس سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا کیس کی سماعت کے آغاز میں آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد کے وکیل عرفان قادر نے کہاکہ اخبار میں خبر آئی ہے کہ ایک جوڈیشل ستارہ غروب اور سیاسی ستارہ ابھر رہا ہے، اس لئے وہ اپنے موکل کو کسی سیاسی ستارے کے سامنے پیش نہیں کرسکتے،ان اخبارات کے خلاف کارروائی کی جائے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اس قسم کا رویہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ عدالت کا احترام کیا جائے، عدالت تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے اگر آپ کا یہ رویہ رہا تو بطور وکیل آپ کا لائسنس معطل کیا جاسکتا ہے۔ عرفان قادر نے کہا کہ آپ لائسنس معطل نہیں منسوخ کردیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ عرفان قادر کی جانب سے جو کچھ کہا گیا وہ ریکارڈ پر ہے ہم اس پر فیصلہ دے سکتے ہیںجس پر عرفان قادر نے کہاکہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ جو باتیں ہیں وہ ریکارڈ پر لائی جائیں اور اگر عدالت توہین عدالت کی کوئی بھی کارروائی کرنا چاہتی ہے تو فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے کہا کہ آپ کو فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے گا۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے، آئی جی ایف سے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سیکرٹری داخلہ کو کہہ دیا ہے ایف سی کے قائم مقام کمانڈنٹ کا نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -