پاکستان کے وہ 10 خوبصورت ترین مقام جو آ پ کو کم از کم ایک دفعہ ضرور دیکھ لینےچا ہئیں

پاکستان کے وہ 10 خوبصورت ترین مقام جو آ پ کو کم از کم ایک دفعہ ضرور دیکھ ...
پاکستان کے وہ 10 خوبصورت ترین مقام جو آ پ کو کم از کم ایک دفعہ ضرور دیکھ لینےچا ہئیں

  

اسلام آباد(نیوزڈیسک)قدرت نے پاکستان کو کئی نعمتوں سے نوازا ہے اور ہماری سوہنی دھرتی کو بہت ہی خوبصورت مقامات عطا کئے ہیں،آئیے آپ کو پاکستان کے ایسے مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں جو آپ کو زندگی میں ایک بار ضرور دیکھنے چاہئیں۔

کلرکہار

موٹروے ایم2سے اسلام آباد جاتے ہوئے چکوال کے قریب یہ مقام آتا ہے۔یہاں موجود خوبصورت قدرتی جھیل اس کے حسن کو دوچند کردیتی ہے۔یہاں سیکیورٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں جبکہ سیاحتی مقامات کی طرح یہ علاقہ زیادہ مہنگا بھی نہیں ہے اور آپ بآسانی کم بجٹ میں زیادہ لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

موہینجوداڑو

سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے یہ تاریخی مقام صرف30کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔یہ انڈس ویلی تہذیب کے قریب ترین شہروں میں سے ایک ہے اور اسے یونیسف کے اہم ترین قدیم مقامات کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

مری

اسلام آباد سے بمشکل ایک گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع یہ شہر سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے۔موسم سرما ہو یا گرما،یہاں کی رونقیں مانند نہیں پڑتیں اور یہاں آپ کو بآسانی کم پیسوں میں اچھے ہوٹل میسر آجاتے ہیں۔

ٹھنڈیانی

ایبٹ آباد کے شمال مغرب میں 31کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقہ بہت ہی خوبصورت ہے۔خوبصورت اور ٹھنڈے موسم کی مناسبت سے اسے ٹھنڈیانی کہا جاتا ہے اور یہاں سال کے ہر مہینے میں پہنچا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی سستے ہوٹلوں میں اچھی رہائش کا لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔

کالاش ویلی

صوبی خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال میں واقع یہ وادی سطح سمندر سے 1128میٹر بلند ہے اور یہاں کی کل آبادی 9ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔اپنے پرفضامقامات اور خوبصورت وادیوں کی وجہ سے یہ مقام پوری دنیا میں پسند کیا جاتا ہے۔

سوات

خیبر پختونخواہ میں واقع اس خوبصورت مقام کو ایشیاءکا سوئزرلینڈ بھی کہاجاتا ہے۔یہ خطاب ملکہ برطانیہ نے اپنے1961ءکے دورہ پاکستان کے موقع پر دیا تھا۔وہ اس وادی کو دیکھنے کے بعد اس قدر متاثر ہوئیں کہ انہوں نے اسے مشرق کا سوئزرلینڈ کا خطاب دیا۔

زیارت

صوبہ بلوچستان میں واقع اس مقام کو یہ شرف حاصل ہے کہ بابائے قوم قائداعظم نے اپنے آخری ایام اس جگہ گزارے تھے اور انہیں اس جگہ سے خاص رغبت حاصل تھی۔کوئٹہ سے 125کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس مقام کا درجہ حرارت گرمیوں میں بھی بہت خوشگوار رہتا ہے اور سیاحوں کو آنے کی دعوت دیتا ہے۔

وادی نیلم

آزاد کشمیر کے دریائے نیلم کے ساتھ واقع یہ وادی خوبصورت درختوں سے بھری ہوئی ہے۔اس کی ایک اورخاص بات یہ ہے کہ یہ وادی کاغان کے متوازی واقع ہے اور ان دونوں وادیوں کو چار ہزار فٹ بلند پہاڑ ی سلسلے جداکرتے ہیں۔

شندہورٹاپ

خیبر پختونخواہ کے چترال ضلع میں واقع اس سلسلے کی بلندی 12200فٹ ہے اور اسے کبھی کبھار دنیا کی چھت بھی کہاجاتا ہے۔اس جگہ کی خاص بات پولو میچز ہے جو ہر سال یہاں منعقد کئے جاتے ہیں جس میں گلگت اور چترال کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں اوراسے دنیا کے سب سے بلند پولوگراﺅنڈ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

دیوسائی میدان

پاکستان کے شمال میں یہ میدان سکردو،گلتاری،کھرمنگ اور استور کے درمیان واقع ہیں۔ان کی اونچائی 13497فٹ ہے اور مقامی زبادن میں ’دیوسائی‘ کامطلب جنات کی زمین ہے اور اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جگہ جنات کی قیام گاہ ہے۔یہ جگہ غیر گنجان آباد ہے جس کی وجہ انتہائی سرد موسم،طوفان اور جنگلی جانور ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -