پاک چائنہ اکنامک کوریڈور: پاکستان کی اقتصادی شہ رگ

پاک چائنہ اکنامک کوریڈور: پاکستان کی اقتصادی شہ رگ
پاک چائنہ اکنامک کوریڈور: پاکستان کی اقتصادی شہ رگ

  

چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورہماری خوشحالی اور ترقی کا ضامن ہے ۔چائنہ پاکستان اکنامک کو ریڈور چین کی قیادت اورعوام کا پاکستان کے لئے ایک ایسا عظیم اورشاندار تحفہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔سی پیک پاکستان اورچین کی بے مثال دوستی کا عکاس ہے۔ 46ارب ڈالر کے تاریخ ساز اقتصادی پیکیج میں صرف 36ارب روپے کی سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں میں کی جاری ہے، جس سے پاکستان کے اندھیرے دور ہوں گے۔سی پیک سے پاک چین دوستی مزید مضبوط ہوئی ہے اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو بے مثال بنا دیا ہے ۔دُنیا میں معاشی طورپرمضبوط ممالک اورقوموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ معاشی طورپر کمزور مُلک کو کوئی پوچھتا نہیں ۔چین کی جانب سے 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی اور پاکستان بین الاقوامی برادری میں باوقار مقام حاصل کرے گا۔

چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورمیں صرف اور صرف پاکستان کا مفاد مقدم رکھا گیا ہے اوریہ اللہ تعالیٰ کابے پایاں کرم اورچین کا عظیم تحفہ ہے جس پر تیزرفتاری سے کام کا آغاز کردیا گیا ہے اوراس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ ہمیں آج کے چیلنجز سے نمٹنے ہوئے مستقبل کی جانب تیزی سے بڑھنا ہے اورپاکستان کی ترقی اور معیشت کے فروغ کے لئے صنعت کاری کے عمل کو مضبوط کرناہے اور اس مقصد کے لئے توانائی درکار ہے ۔سی پیک کے تحت 36ارب ڈالرتوانائی کے منصوبوں پر صرف کیے جارہے ہیں اوران منصوبوں کی تکمیل سے نیشنل گرڈ میں ہزاروں میگاواٹ بجلی شامل ہوگی۔یہ امرقابل ذکر ہے کہ سی پیک صرف 46 ارب ڈالر کا پیکیج نہیں بلکہ یہ پاکستان اور چین کی بے مثال دوستی کاآئینہ دار ہے اور چینی قیادت کی پاکستان کے ساتھ مخلصانہ محبت اورایثار کا بین ثبوت ہے ۔ چینی قیادت نے یہ عظیم تحفہ پاکستان کو بغیر کسی شرط کے دیا ہے ۔ توانائی بحران سے نمٹے بغیرترقی کے اہداف حاصل نہیں ہوسکتے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب سمیت پاکستان بھر میں توانائی کے منصوبوں پر انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ کام کا آغاز ہوچکا ہے اورسی پیک کے منصوبوں میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی۔طوفان ہویا آندھی سی پیک کے منصوبوں کو پوری طاقت سے آگے بڑھائیں گے، کیونکہ یہ منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہیں۔ 2017-18 ء تک سی پیک کے منصوبوں سے 6سے 7ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی جس سے توانائی بحران میں کمی آئے گی۔ سی پیک کے تحت جتنے بھی منصوبے لگائے جارہے ہیں وہ اس سے عام آدمی کی حالت بدلے گی اورپاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا۔

چین ہمارا ایسا مخلص دوست ہے، جوجنگ ہو یا امن،سیلاب ہو یا زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل میں بھی ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔ اسی دوست مُلک چین نے پاکستان کے غریب عوام کی حالت بدلنے کے لئے تاریخ ساز سرمایہ کاری پیکیج دیا ہے، لیکن کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ بعض عناصر اسے گوادر پورٹ سے جوڑنے اوراس بارے میں غلط فہمیاں اورافواہیں پھیلانے میں مصروف ہیں۔ایسے عناصرکو یہ بات ذہین میں رکھنی چاہئے گوادر پورٹ کی اپنی اہمیت ہے اوریہ منصوبہ دونوں ممالک کے باہمی مفادات پر مبنی ہے، جبکہ سی پیک ،چینی قیادت عوام اورحکومت کا پاکستان کے عوام کے لئے بے مثال تحفہ ہے ۔سی پیک کے حقیقی ڈئزاین میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے تاہم چین اورتمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اس میں بہتری لائی جاسکتی ہے ۔سی پیک نے اس بات کو سچ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی کو ہمالیہ سے بلند،شہد سے میٹھی اورسمندر سے گہری ہے۔چین کے صدر کا کہنا ہے کہ پاکستان اورچین آئرن برادرز ہیں۔

چین کی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے اور ہم چین کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر ترقی کرسکتے ہیں۔ آئندہ برس فروری میں پنجاب سے 300 طلباء و طالبات کو چینی زبان سکھانے کیلئے چین بھجوایا جائے گااوراس دوسالہ کورس کرنے والے طلباء و طالبات کے تمام اخراجات حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔ چینی زبان سیکھانے کیلئے طلباء و طالبات کو چین بھجوانے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔چین میں چینی زبان سیکھنے کے لئے جانے والے طلبا ء و طالبات پر پنجاب حکومت 70کروڑ روپے خرچ کررہی ہے اوریہ رقم اخراجات نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل پر سود مند سرمایہ کاری ہے۔ چین جانے والے طلبا و طالبات کے انتخاب کا تمام عمل شفاف طریقے سے میرٹ پرکیا جائے گا۔پاکستان کی 60فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں با اختیار بنا کر مُلک و قوم کی حالت بدلی جاسکتی ہے۔ پنجاب حکومت نے نوجوانوں کی ترقی اورانہیں بااختیار بنانے کے لئے سکل ڈویلپمنٹ کا شاندار پروگرام شروع کررکھا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کی جاری ہے۔ اگر ہم نوجوانوں کو جدید تربیت اور علوم سے روشناس کروائے تو نہ صرف انہیں باعزت روزگار میسر آئے گا، بلکہ پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ بھی ملے گا۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئے آبادی کے مسائل پر قابو پانے کے لئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا ہوگاکیونکہ آبادی کے مسائل ایک گھمبیرمسئلہ اختیار کرچکے ہیں اورترقی کی شرح کو تیزکرنے کیلئے ان مسائل پر قابو پانا انتہائی ضروری ہے اور اس ضمن میں تما م متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک مکالمہ ہونا چاہئے،جس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے پاکستان کے تاریخی اور معتبر ترین تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج یورنیورسٹی، لاہورمیں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے حوالے سے دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں شرکت کی اورپاک چائینہ اکنامک کوریڈور کے بارے میں حکومت کے موقف کو کامیابی سے پیش کیا۔کانفرنس میں وزراء، ملکی و غیر ملکی مندوبین،پروفیسرز،اساتذہ، فکیلٹی ممبران اور طلباء وطالبات کی بڑی تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی ۔جی سی یونیورسٹی میں دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے دلائل اور حقائق کے ذریعے پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کی افادیت کو ثابت کیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل کے لئے جان لڑادیں گے اوراس کی اس طرح حفاظت کریں گے، جس طرح ماں اپنے بچوں کی کرتی ہے ،سی پیک کا بچہ جب بڑا ہوگا تو وہ سب سے کامیاب اورطاقتور بچہ بن کر سامنے آئے گا۔سی پیک کے تحت پنجاب سمیت پاکستان بھر میں توانائی ،انفراسٹرکچراوردیگر منصوبوں پر کام کا آغازہوچکا ہے،ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلے گی۔ وزیراعلیٰ نے پاک چائنہ کوریڈورکی تکمیل کے بارے میں اپنے عزم صمیم کا بھر پور اظہار کیا ۔

جی سی یونیورسٹی میں تقریب کے دورا نسینٹر آف ایکسیلنس چائنہ سٹڈیز کے ڈائریکٹر خالد منظور بٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سنٹر آف ایکسیلنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے ۔انہوں نے چا ئنہ پاکستان اکنامک کوریڈور گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی اہمیت بڑھے گی ۔مُلک سے غربت اور بیروزگاری کا خا تمہ ہوگااوراس منصوبے سے پاکستان کے مشرق وسطی ، یورپ،افریقہ کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات میں وسعت آئے گی۔وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حسن عامر شاہ نے سنٹر آف ایکسیلنس چائنہ سٹڈیز کے قیام میں وزیراعلیٰ کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنٹر حقیقی تھنک ٹینک میں بدلے گا۔سابق ڈپٹی چےئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر اکرم شیخ نے اپنے کلیدی خطاب میں سی پیک کے خدوخال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے پنجاب میں ووکیشنل ٹریننگ میں لیڈ لی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پریکٹیکل آدمی ہیں جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے سی پیک اورپاک چین تعلقات بڑھانے میں بھی اہم کردارادا کیا ہے ۔تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے ڈاکٹر اکرم شیخ کو سونےئر دیا،جبکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے وزیراعلیٰ کو سونےئر پیش کیا ۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں سنٹر آف ایکسیلنس چائنہ سٹڈیز کا قیام خوش آئند ہے اور یہ شعبہ پاکستانی طلباء کوچینی زبان سے آگاہی دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ایسے ادارے پنجاب کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی بنائے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان چینی زبان سیکھ سکیں،جبکہ مَیں سمجھتا ہوں کہ چینی زبان سیکھانے کے ادارے پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی بننے چاہئیں۔

مزید :

کالم -