عدالت سے باہر عدالتیں بند کی جائیں

عدالت سے باہر عدالتیں بند کی جائیں
 عدالت سے باہر عدالتیں بند کی جائیں

  

ہمیں تو یقین کامل ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اب کسی نظریہ ضرورت کی تابع نہیں رہی۔ وہ آئین اور قانون کی بالادستی کا چراغ روشن رکھے گی۔ طوفانی ہوائیں اس چراغ کی لو کو ڈگمگا نہیں سکیں گی۔ پاناما کیس کا فیصلہ بھی آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔۔۔ لیکن سیاستدانوں کو نہ تو خود پر اعتماد ہے اور نہ ہی عدالت پر بھروسہ۔ فاضل جج صاحبان نے اس کیس پر وضاحتی سوالات بھی کئے اور فریقین سے ان کے جواب بھی طلب کئے ہیں، تاکہ اس کیس کی گہرائیوں سے آئین اور قانون کی شقیں تلاش کی جائیں، پھر ان کی بنیاد پر کوئی فیصلہ سنایا جائے، کیونکہ یہ کیس اور اس کا فیصلہ دونوں پاکستان کے سیاسی اور جمہوری نظام کے ساتھ معاشرتی اور معاشی راہیں متعین کرنے میں انتہائی اہمیت کے باعث ہوں گے۔عجیب بات تو یہ ہے کہ عدالت کا وقت ختم ہوتے ہی کچھ خود ساختہ عدالتیں باہر سجا دی جاتی تھیں، ان میں فریقین کے ہم نوا اپنے اپنے دلائل کو سچ ثابت کرنے لگتے۔ ایک طرف سے آواز آتی ،ہم جیت گئے ہیں ہمارا موقف تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ہم نے ثابت کر دیا ہے۔ اب کوئی مخالف کو بچانہیں سکتا۔ قطری شہزادہ آئے یا پھر امریکہ کا نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی آ جائے جیل مخالف کا مقدر بنے گی۔

دوسری طرف سے کہا جاتاکہ سب جھوٹ ہے۔ تمام پرانی باتیں اور پرانے الزام ہیں۔ کوئی دلیل کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، شام ڈھلتے ہی ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر دونوں طرف سے گھسے پٹے سیاسی دانشور عدالت میں سماعت کے دوران وکلاء کے دلائل اور فاضل جج صاحبان کے ریمارکس پر اپنے اپنے موقف کی صداقت پر وہ طوفان کھڑا کرتے کہ سننے والوں کی پریشانی اور دیکھنے والوں کی حیرت اپنی جگہ‘ کسی کی بھی عزت محفوظ نہ رہتی۔ ستم تو یہ ہے کہ اینکر اور صحافی حضرات بھی ریٹنگ کی دوڑ میں صحافتی آداب اور قلم کی حرمت کو روندتے چلے جاتے۔یہ سلسلہ ٹیلی ویژن کی سکرینوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ پرنٹ میڈیا بھی اسی کی زد میں رہا۔ آدھے آدھے صفحات کی سرخیاں اور خبریں بھی اس کیس اور اس سے جڑے سیاستدانوں کی سستی شہرت کے لئے دئیے گئے بیانات پر مبنی ہوتیں۔

سوال یہ ہے کہ پاناما کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے، ابھی اس کا حتمی فیصلہ نہیں آیا۔ کیا وکلاء کے دلائل اورفاضل جج صاحبان کے ریمارکس پر کسی قسم کا تبصرہ کرنا یا پھر ان ریمارکس کو جواز بنا کر انہیں اپنے موقف کی تائید کے لئے استعمال کرنا جائز ہے؟کیا یہ آئین اور قانون کی مخالفت نہیں؟ اور کیا یہ متبادل عدالتیں سجانا توہین عدالت نہیں؟ الیکٹرانک میڈیا میں تو بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ چینل الزام تراشی اور دشنام طرازی کے لئے سیاستدانوں کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔ وہ کچھ بولا اور کہا جاتاکہ پریشانی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ یہ لوگ گفتگو میں خود کو بھی بے نقاب کرتے اور دوسروں کو بھی حمام میں کھڑا کر دیتے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ’’پیمرا‘‘ کی توجہ اس طرف نہیں ہوتی۔ ابصار عالم کو چاہئے کہ وہ کم از کم عدالت کے تقدس اور احترام کو تو یقینی بنوائیں اور انہیں ہدایت جاری کریں کہ وہ فیصلے کا تو انتظار کریں، فیصلے کے بعد آئینی ماہرین اور دانشوروں کا مجمع لگائیں اور پھر تبصرہ کریں۔

مزید :

کالم -