تحفظ حقوقِ انسانی،توانا جمہوریت اور غربت کا خاتمہ

تحفظ حقوقِ انسانی،توانا جمہوریت اور غربت کا خاتمہ
تحفظ حقوقِ انسانی،توانا جمہوریت اور غربت کا خاتمہ

  

10دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔جس میں اس دن کی اہمیت اور انسانی حقوق کے عالمی منشور پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔یہ دن اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ 10 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی منشور منظور کیا تھا۔ جس کے تیس نکات ہیں۔ یو ں تو انسانی حقوق کے منشور کی تمام دفعات اہم ہیں اور بعد ازاں ہر شق پر اقوام متحدہ نے الگ سے کنوینشن بھی پاس کر رکھے ہیں۔

حقوقِ انسانی کے اس عالمی منشور کے چیدہ نکات میں کہا گیا ہے کہ تمام انسان پیدا یشی طور پر آزاد ہیں اور وقار میں سب کے حقوق برابر ہیں،زندگی ، آ زادی اور تحفظ کا ہر شخص حقدار ہے،کسی کو غلام نہیں بنایا جاسکتا، کسی شہری سے متشدد،ظالمانہ یا تحقیر آمیز رویہ اختیار نہیں کیا جا سکتا،ہر شخص کو ضمیر اور مذہب کی آزادی حاصل ہے،ہر شہری کو اپنا نقظہ نظر رکھنے اور اس کے اظہار کی مکمل آزادی حاصل ہے، تمام شہریوں کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونین اور سیاسی نظریات کے فروغ کے لیے جماعت بنانے کا حق حاصل ہے، شہریوں کی شخصی آزادی کا تحفظ کیا جائے گا اور اسے یقینی بنایا جائے گا۔

یہ اور دیگر نکات میں بھی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستان نے بھی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی چارٹر پر دستخط کئے ہوئے ہیں۔ریاست شہریوں کو ان بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔

لیکن لاغر جمہوریت اور ابتر معاشی صورتحال میں بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ پس منظر میں گم ہو جاتا ہے اور شہریوں کو اکثر دو وقت کی روٹی اور اپنے پہلے بنیادی پیدائشی حق فکر اور سوچ کی آزادی کے لئے بھی جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور لڑنا پڑتا ہے۔

احترام حقوقِ انسانی کا خواب توانا،دیرپا اور مضبوط جمہوریت کی موجودگی،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور معاشی انصاف کے ذریعے غربت کے خاتمے سے پوری طرح جڑا ہوا ہے۔

آپ مشاہدہ کر لیجئے کہ جن معاشروں میں جمہوریت پائیدار ہوکر رسم و رواج کی طرح لوگوں کی زندگی کا حصہ بن گئی اور انصاف، مساویانہ معاشی پالیسیوں کی بدولت تمام شہریوں کو ترقی کے یکساں مواقع کی بدولت آسودگی اور خوشحالی میئسر آ گئی وہاں احترام حقوقِ انسانی پر کبھی آ نچ نہیں آ تی بلکہ انسانی حقوق اب ان معاشروں کے انتظام و انصرام کا بنیادی جزو بن چکے ہیں۔پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بلکہ پامالی کے حوالے سے جولائی 1977تا اگست 1988 ء کا عرصہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

5 جولائی کو جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل ضیاء الحق کی سربراہی میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ 1973 ء کا آئین جس میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی اسے معطل کر دیا گیا۔سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔

اور سیاسی سرگرمیاں روک دی گئیں۔اخبارات پر سنسر شپ لگا دی گئی۔ ٹریڈ یونین اور طلبہ تنظیموں کو کالعدم قرار دے کر تعلیمی،صعنتی اور دیگر اداروں میں ہر طرح کی انجمن سازی پر پابندی عائد کر دی گئی۔

سیاسی اور سرگرم سماجی کارکنوں کو جمہوریت، آ ئین اور انسانی حقوق کی بحالی کی جدوجہد سے روکنے کے لیے ان پر مقدمات قائم کیے گئے۔ملک میں خوف و ہراس کی فضا تھی پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کے منشور میں انسانی حقوق کی فراہمی اور تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔اب اسکے سوااور کوئی چارہ بھی نہیں۔

تاریخی طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں مختلف حیلے بہانوں سے ہمیشہ انسانی حقوق کے مخالف کیمپ کا ساتھ دیتی نظر آتی ہیں حالانکہ دین اسلام نے جدید ترین مذہب ہوتے ہوئے رائج الوقت تمام نظریات سے پہلے انسانی حقوق کا تصور پیش کیا۔نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے ایک ایسا عالمی انسانی منشور جاری کیا جسے آج بھی انسانی حقوق کے عالمی منشور کی حیثیت حاصل ہے۔ ہادی بر حق کا عطا کردہ ’’خطبہ حجتہ الوداع‘‘ آ ج بھی انسانی حقوق کے منشور کا بہترین نمونہ ہے۔

حجتہ الوداع کے موقع پر آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 9 ذی الحج کو نماز ظہر کے بعد اونٹنی پر سوار ہو کر عرفات کے میدان میں ایک خطبہ دیا جسے’’خطبہ حجتہ الوداع‘‘ کہا جاتا ہے۔

آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جہالت کے تمام دستور میرے قدموں کے نیچے ہیں، کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، تم سب آ دم کی اولاد ہو اور آ دم کو مٹی سے پیدا کیا گیا،ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تم سب آ پس میں بھائی بھائی ہو،دور جہالت کے تمام سود اور گناہ باطل کر دیئے گئے ہیں۔

یہ خطبہ انسانی تہذیب و تمدن کے اصول،حقوق انسانی کے تحفظ،عالمی امن کی بحالی عدل و انصاف کے فروغ اخوت ومساوات ، رواداری اور بھائی چارے کے قیام اور معاشرے سے عدم مساوات و معاشی ناہمواری کو ختم کرنے کے لیے ہدایتوں کا جامع اور مثالی منشور ہے۔لیکن ہمارے ہاں انسانی حقوق کی بابت حکومتی اداروں نے میدان این جی او کے لئے خالی چھوڑ رکھا ہے۔

حکومتی کارکردگی، توجہ اور دلچسپی چونکہ نہ ہونے کے برابر ہے لہٰذا ان غیر سرکاری تنظیموں کو پوری طرح کھل کھیلنے کا موقع ملا ہوا ہے۔ ان میں بہت اچھی اور مثالی تنظیمیں بھی ہیں جن کے کام کی بدولت پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کی صورت حال میں بہت بہتری آئی۔دوسری طرف بیرونی چندے اور امداد سے چلنے والی بعض تنظیموں نے سماجی شعور، بیداری اور awareness کے نام پر دکانیں سجا رکھی ہیں یہ تنظیمیں غیر ملکی ڈونرز ایجنسیوں سے پیسے بٹورنے کے علاؤہ کچھ نہیں کرتیں بس انسانی حقوق کے انٹر نیشنل ٹرینڈ اور مانگ کو دیکھ کر طلب اور رسد کے فارمولے کے تحت لوگوں نے دھڑا دھڑ یہ این جی اوز قائم کر لیں۔

اس قسم کی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں دراصل حقیقی معنوں میں مشنری جذبے سے کام کرنے والی تنظیموں کے لئے بھی بدنامی کا باعث بنتی ہیں کوئی شک نہیں کہ تمام تر مسائل مشکلات،خرابیوں اورکمیوں کوتاہیوں کے باوجود پاکستان میں حقوق انسانی کے احترام،فراہمی اور تحفظ میں بہت بہتری آئی ہے۔ آزاد، متحرک میڈیا،سیاسی جماعتوں، کارکنوں، سول سوسائٹی۔

وکلاء اور غیر سرکاری تنظیموں کا اس میں بہت اہم کردار ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنی زمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکز اور صوبوں میں انسانی حقوق کی فعال ، مضبوط اور با اختیار وزارتیں قائم کر کے اس سارے عمل کو سرکاری سر پرستی میں آ گے بڑھائے۔

مزید :

رائے -کالم -