وفاقی کابینہ میں ’’ اکھاڑ پچھاڑ ‘‘ کیوں ؟

وفاقی کابینہ میں ’’ اکھاڑ پچھاڑ ‘‘ کیوں ؟
 وفاقی کابینہ میں ’’ اکھاڑ پچھاڑ ‘‘ کیوں ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ایک طرف تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جرات سے بات کر رہے ہیں ، انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے دوٹوک اعلان سے فی الحقیقت پوری پاکستانی قوم کے دلی جذبات کی بالکل درست ترجمانی کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ سے ایسے تعلقات کے لیے ہرگز تیار نہیں جس میں پاکستان کی حیثیت کرائے کے سپاہی یا بندوقجیسی ہو ، اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے قومی مفادمیں ہو گا‘‘ اس بیان میں انہوں نے ان الفاظ سے مزید واضح کیا کہ ’’سپر پاور سے تعلقات کون نہیں چاہے گا لیکن ہم امریکا سے چین جیسے تعلقات چاہتے ہیں‘‘کیونکہ پاک چین تعلقات دوستی، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہیں لیکن کچھ کھوکھلے فیصلوں کے سبب قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں ہی ہماری خارجہ پالیسی غیر جانبداری کے اصول پر استوار ہونے کے بجائے مکمل طور پر امریکہ کے زیر اثر آ گئی،جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ ہم سپر پاور کے مفادات کا آلہ کار بن کر رہ گئے۔

ہمیں جب بھی بھارتی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو امریکہ کے ساتھ کئے گئے معاہدے لکڑی کی تلوار ثابت ہوئے۔ اپنے قومی مفادات کی قیمت پر امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہونے کا یہ سلسلہ نائن الیون واقعات کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان پر امریکی فوج کشی میں ہماری جانب سے مکمل تعاون کے فیصلے سے اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس پرائی جنگ میں ہم شریک ہوئے تھے وہ ہماری اپنی سرزمین پر شروع ہو گئی اور ہمیں سمجھایا جانے لگا کہ یہ ہماری اپنی جنگ ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب پورے ملک میں امن و امان بحال ہو چکا ہے لیکن موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈرا دھمکا کر پاکستان کو ان مزاحمت کار قوتوں سے متصادم کر دینے کیلئے کوشاں ہیں جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادی 17سال کی جنگ میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکے۔

خدا کے فضل سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت دونوں پْرعزم ہیں کہ پرائی جنگ لڑنے کی غلطی اب دہرائی نہیں جائے گی۔ کیونکہ پاک فوج کے ترجمان کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کی گئی کارروائی میں شریک ہوکر ہم نے سخت نقصان اٹھایا اور اب پاک آرمی ایک ایک اینٹ چن کر پاکستان کو دوبارہ تعمیر کر رہی ہے لہٰذا ہم اب کسی اور کی جنگ نہیں لڑیں گے ۔ وزیراعظم پاکستان نے صدر ٹرمپ کے ٹویٹر پیغام کا بے لاگ جواب دے کر جس جرات مندانہ طرزِ عمل کا آغاز کیا تھا، اس انٹرویو میں اُسی روش کو قائم رکھتے ہوئے انہوں نے امریکہ پر واضح کر دیا کہ ’’ہم اب کبھی اس طرح کے تعلقات نہیں چاہیں گے کہ جس میں پاکستان کی حیثیت کرائے کے سپاہی کی ہو کیونکہ اس سے نہ صرف ہمارا ملک تباہی کا شکار ہوا بلکہ ہماری عزتِ نفس کو بھی نقصان پہنچا‘‘۔

طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی امریکی خواہش کی تکمیل کیلئے تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے لگی لپٹی رکھے بغیر بتا دیا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ عمران خان وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بغیر چھٹی کئے کام کر رہے ہیں ، انہوں نے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کا عزم کیا ہوا ہے ، جب کہ دوسری طرف وفاقی وزراء اپنی اپنی وزارتوں کی تبدیلی کی بحث اور وزیر اعظم کو غلط معلومات دینے کا کام ثواب سمجھ کر کر رہے ہیں ، چاہیئے تو یہ تھا کہ وفاقی کابینہ اپنی پسند اور نا پسند کو پس پشت ڈال کروزیر اعظم کا دست و بازوبنتی لیکن اس کے بر عکس وزیر خزانہ اسد عمر اور جہانگیز ترین کی بحث و تکرار نے عمران خان کے مثبت کاموں پر گہرا اثر چھوڑا ہے ۔

عوام الناس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم بہت سے وزراء کے قلمدان تبدیل کر رہے ہیں جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کی جگہ شیخ رشید کو لایا جائے گا ، بقول شیخ رشید اس بات کا عندیہ انہیں عمران خان نے خود دیا ہے ۔ابھی حکومت کو قائم ہوئے کچھ ماہ ہوئے ہیں اور وزارتوں کی لڑائی نے سر اُٹھا لیا ہے ، وزیر اعظم عمران خان کو چاہیئے کہ وہ ابھی اپنے وزراء کو کم سے کم ایک سے دو سال تک کام کرنے دیں ، کیونکہ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری جس محنت اور لگن سے کام کر رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ، انفارمیشن منسٹر کے لئے فواد چوہدری سے بہتر کوئی بھی ایم این اے تحریک انصاف میں موجود نہیں ۔

اگر وزیر اعظم نے شیخ رشید سے ایسی کوئی بات کی تھی تو انہیں یہ بات میڈیا پر نہیں لانی چاہیئے تھی کہ جس کی وجہ سے نعیم الحق کو صفائی دینا پڑی کہ فواد چوہدری اور اسد عمر سے اُن کے قلمدان چھینے نہیں جائیں گے ۔پاکستانی عوام کو بھی صبر و تحمل کے ساتھ اچھے دنوں کی اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیئے ، کیونکہ جن مخدوش حالات میں تحریک انصاف کواقتدار ملا وہ ملکی حالات ٹھیک کرنے میں کچھ مدت تو درکار ہو گی ۔

پاکستان کی کئی نسلیں 70سال سے وطن عزیز کو ترقی کے راستوں پر لانے کے جھوٹے وعدوں اور نعروں کیسحر میں مبتلا رہ چکی ہیں اب اس قوم کو موجودہ حکومت کے پانچ سال بھی برداشت کرنے چاہئیں ، کیونکہ عمران خان نے ای چالان سے لے کر ٹیکس کی وصولی تک بہت سے تاریخی فیصلے کئے ہیں اور ویسے بھی پاکستان کا کوئی حکمران آج تک امریکہ کے سامنے اس جرات سے بات نہیں کر سکا جس طرح عمران خان نے کی ہے ۔عمران خان نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی جو کوشش کی ہے اُس میں وفاقی اور صوبائی وزراء سمیت صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو چاہیئے کہ وہ وزیر اعظم کو ایمانداری سے ملکی حالات سے آگاہ کریں ، کیونکہ پاکستان چند گلیوں پر محیط ملک نہیں کہ جہاں حاکم وقت رات کو پیدل چل کر عوام کے حالات کا پتا کر سکے ، پاکستان بہت بڑا ملک ہے اور موجودہ حکومت کے وزراء ہی وزیر اعظم کے لئے صحیح معلومات کا ذریعہ ہیں ،

وزراء اگر وزارتوں کی تبدیلی میں دلچسپی لینے کی بجائے وزیر اعظم پاکستان کو وطن کی اصل اور حق سچ پر مبنی معلومات مہیا کریں گے تو انہیں بڑے اور جرات مندانہ فیصلے کرنے میں آسانی ہوگی ، لیکن اگر مری کے محکمہ جنگلات کا ریسٹ ہاؤس کھول کر عمران خان کو بتایا جائے گا کہ ہم نے عوام کے لئے گورنر ہاؤس کھول دیا ہے تو یہ وزیر اعظم اور عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی ، وفاقی کابینہ کو چاہیئے کہ وہ وزیر اعظم پاکستان کو امریکہ اور دوسری سپر پاورز کے سامنے جرات سے بات کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے دیں ناں کہ انہیں اپنی لڑائیوں کی طرف متوجہ کریں کیونکہ عمران خان کی طرف سے کئے گئے ایسے جرات مندانہ اور مثبت فیصلے ملکی سالمیت اور ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہیں ۔

مزید :

رائے -کالم -