ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ افغانستان کو سمجھنے میں ناکام رہا 

ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ افغانستان کو سمجھنے میں ناکام رہا 

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کو امید ہے کہ اس بار امریکہ کے ساتھ  ان کے جو مذاکرات تین ماہ بعد دوبارہ شروع ہوئے ہیں وہ کامیاب ہوں گے اور جو معاہدہ ہوگا متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں اس پر دستخط ہوں گے۔ تین ماہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات یکطرفہ طور پر اچانک ختم  کرنے کا اعلان کردیا تھا، ان کا یہ کہنا تھا کہ ایسے نہیں ہوسکتا کہ مذاکرات بھی جاری رہیں اور انسانوں کا قتل عام بھی، امریکی صدر کے اس بیان پر حیرت نہیں ہوئی تھی کیونکہ یہ ان کے مزاج کے عین مطابق تھا، امریکہ نے اس سے پہلے انسانوں کے کشت و خون پر اس قدر شدید ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا،  لیکن اب کی بار محض ایک امریکی کے قتل پر جاری مذاکرات ختم کردیئے،  خیر ان مذاکرات نے دوبارہ شروع ہونا تھا سو ہوگئے، اب بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ان مذاکرات کا اختتام کس انداز میں ہوگا اور اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، لیکن اتنا یقینی ہے کہ امریکیوں کو اچھی طرح احساس ہوگیا ہے کہ وہ ایک بے مقصد جنگ لڑ رہے تھے۔ جرنیلوں کو جب یہ احساس ہوگیا کہ وہ افغانستان کی جنگ نہیں جیت سکتے تو انہوں نے یہ سوال کرنا شروع کردیا تھا کہ وہ آخر افغانستان میں کر کیا رہے ہیں، چونکہ جو جنگ جیتیّ نہیں جاسکتی اس کا ادراک ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد ہی کیوں ہوا؟ اگرچہ افغانستان کی جنگ شروع ہونے کے تھوڑے عرصے بعد ہی اس وقت کے امریکی صدر بش نے یہ دعویٰ کر دیا تھا کہ وہ جلد ہی فاتح بن کر افغانستان سے نکلیں گے، کیونکہ   ”چوہے بلوں میں گھس رہے ہیں“ لیکن 18سال بعد آج بھی افغانستان کے کوہسار اور طالبان کی کامیابیاں ان کے اس دعوے کی صداقت کا منہ چڑا رہے ہیں۔ اب تو خود امریکہ کے معتبر ترین اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ نے سرکاری دستاویزات کے حوالے سے انکشاف کر دیا ہے کہ امریکی صدور اور امریکی جرنیل  جان بوجھ کر حقائق پر پردہ ڈالتے رہے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ایسے غلط اعداد و شمار کا سہارا لیتے رہے جن سے یہ تاثر ملے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ جیت رہا ہے۔ اس جنگ کو صدر بش نے شروع کیا، اوبامہ نے جاری رکھا، حالانکہ وہ اپنی انتخابی مہم میں مسلسل یہ کہہ رہے تھے کہ وہ صدر بن کر افغانستان سے فوج واپس بلالیں گے، لیکن جب وہ اس عہدے پر بیٹھے اور اپنے وعدے کے مطابق فوج واپس بلانے کے لئے اقدامات شروع کرنے لگے تو بعض جرنیل ان کے اس ارادے کے آڑے آگئے، پھر انہیں طویل مشاورت کے بعد نہ صرف فوج  واپس بلانے کا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا بلکہ اس کے برعکس افغانستان میں مزید فوج بھیجنے پر رضامند ہونا پڑا، امریکی جرنیلوں کا خیال تھا کہ اگر افغانستان میں فوج بڑھائی جائے تو اس کے نتیجے میں فتوحات حاصل کرکے بالآخر ایک فاتح کے طور پر افغانستان سے نکلا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ایک وقت تھا جب افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 30ہزار کے لگ بھگ ہوگئی تھی، لیکن اوباما  کا پورا8سالہ عہد ختم ہوگیا، جنگی کامیابیوں کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا، صدر ٹرمپ بھی انتخابی مہم میں افغانستان سے فوج واپس بلانے کے حامی رہے لیکن برسر منصب آنے کے بعد ان کی رائے بھی بدل گئی اور انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ فوج واپس بلانے کی تاریخ نہیں دے سکتا اور فوج کا کچھ نہ کچھ حصہ افغانستان میں رہے گا، لیکن بعدازاں وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ اس بے مقصد جنگ کو کسی کامیابی پر نہیں پہنچایا جاسکتا۔ چنانچہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔ مذاکرات پر طالبان کو آمادہ کرنے کے لئے پاکستان نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ قطر کے مذاکرات میں طالبان کی جانب سے ایسے رہنما بھی شریک ہوئے جو جیلوں میں تھے۔ مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد صدرٹرمپ نے جب اچانک ختم کرنے کا اعلان کیا تو امید تھی کہ یہ جلد دوبارہ شروع ہوں گے، جو اب ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ”واشنگٹن پوسٹ“ کی رپورٹ نے امریکی منصوبوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور انکشاف کیا ہے کہ اعداد و شمار بدل کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ جنگ میں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں جبکہ ایسا کچھ بالکل نہیں تھا، 18سالہ جنگ اورایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا حاصل امریکی جنرل ڈگلس نے اس ایک فقرے میں بیان کیا ہے کہ امریکی 18 سال میں افغانستان کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

ایک ٹریلین ڈالر

مزید :

تجزیہ -