خاتون محتسب کا ادارہ……ورکنگ وویمن کیلئے ڈھال

خاتون محتسب کا ادارہ……ورکنگ وویمن کیلئے ڈھال

  

طلوع اسلام سے قبل خواتین کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی سی تھی اور وہ معاشی و معاشرتی طور پر آزادانہ تھیں۔ان کی قسمت کا فیصلہ کرتے وقت اس کی رائے نہیں لی جاتی تھی بلکہ خاندانی روایات کی بھینٹ چڑھا دی جاتی۔ زمانہ جاہلیت میں جب کسی کے گھر بچی پیدا ہوتی تو اسے زندہ دفن کر دیاجاتا۔ دین اسلام نے عورت کو ذلت و رسوائی کے قصر عمیق سے نکال کر عزت و تکریم کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ عورت کو نہ صرف وراثت میں حصہ دار بنایا بلکہ ان کو اپنی قسمت یعنی شادی میں فیصلہ سازی کا حق دیا۔ عورت کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کے پاس ملنے کیلئے جب آپ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ یا رضائی والدہ حلیمہ بی بیؓ تشریف لاتیں تو آپؐ ان کی تعظیم میں کھڑے ہوجاتے اور اپنی چادر ان کے بیٹھنے کیلئے بچھا دیتے۔ اسلام میں جو عزت عورت کو دی ہے اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔

1973ء کا آئین شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ کام کرنے کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف ایکٹ 2010(ایکٹ 2010- IV) نافذ کیاگیا۔ حکومت پنجاب نے پنجاب پروٹیکشن انگیسٹ ہراسمنٹ وویمن (ترمیمی) ایکٹ 2012(ایکٹ 2013 III) کا نفاذ کیا تاکہ کام کرنے کی جگہ پر خواتین کو ہراساں نہ کیاجاسکے۔حکومت پنجاب نے شق (7) کے تحت فروری 2013میں خاتون محتسب کا آفس قائم کیا۔ اس دفتر کے قائم کرنے کا بنیادی مقصد خواتین کو وقار کے ساتھ کام کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کرنا ہے تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکیں اور اپنے خاندان کی کفالت کرسکیں۔ یہ دفتر خواتین کو جنسی ہراسگی کی حوصلہ شکنی اور مقابلہ کرنے اور انہیں سازگارماحول فراہم کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے۔تمام سرکاری و نیم سرکاری، پرائیویٹ تعلیمی اداروں، آرگنائزیشن اور کارپوریشن میں جنسی ہراسگی کے خلاف انکوائری کمیٹی بنانا لازمی ہے،جس کے تین ممبر ہیں اور ان میں ایک خاتون ممبر کا ہونا لازمی ہے۔جنسی ہراسگی کا شکار خواتین اس کی کمیٹی کو بھی شکایت پیش کرسکتی ہیں اور کمیٹی کے فیصلہ کے خلاف خاتون محتسب کو اپیل بھی کرسکتی ہیں یا براہ راست خاتون محتسب کو درخواست دی جاسکتی ہے۔

خاتون محتسب کو جنسی ہراسگی کے خلاف درخواست دینے اور انکوائری کا طریقہ کار بہت سادہ اور سہل ہے۔ کسی بھی ادارے میں کام کرنے والی خاتون جس کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایاگیاہو یا بنایا جا رہا ہو وہ ایک تحریری درخواست خاتون محتسب کو دے سکتی ہے۔ خاتون محتسب آفس درخواست موصول ہونے کے تین یوم کے اندر ملزم کو شوکاز نوٹس جاری کرے گا۔ ملزم شوکاز نوٹس موصول ہونے کے پانچ یوم کے اندر اپنے دفاع میں تحریری بیان جمع کرائے گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو کیس کا یکطرفہ فیصلہ کر دیاجائے گا۔اگر ملزم اپنا بیان جمع کرا دیتا ہے تو پھر انکوائری کا عمل شروع ہوجاتاہے۔ خاتون محتسب دونوں پارٹیوں کو بلوائیں گی اور اس کی سماعت کریں گی۔ دونوں پارٹیاں تمام معلومات، دستیاویزات اور گواہاں کے ساتھ خاتون محتسب کے سامنے پیش ہوں گی۔ خاتون محتسب انکوائری کیلئے کسی قسم کی دستاویز یا کہ متعلقہ ادارے کے اہلکار و افسر کو طلب کرسکتی ہیں۔ خاتون محتسب تمام ریکارڈ،ثبوت اور دیگر مواد کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنائیں گی اور دونوں پارٹیوں کو اس سے آگاہ کریں گی۔ خاتون محتسب کے اختیارات کی وضاحت پروٹیکشن انگیسٹ ہراسمنٹ آف وویمن ایٹ ورک پلیس ایکٹ 2010کی شق (10) میں کی گئی ہے۔اگر کسی فریق کو خاتون محتسب کے فیصلے پر اعتراض ہو تو وہ فیصلہ کے 30دنوں کے اندر گورنر پنجاب کو اپیل کرسکتا ہے اور گورنر پنجاب کا فیصلہ حتمی ہوگا۔خاتون محتسب پنجاب نے کئی اہم کیسوں میں ملزمان کو کڑی سزائیں بھی سنائیں ہیں۔ مثال کے طورپر ڈسٹرکٹ انڈسٹریل ہوم کے کیس میں ملزم کو نوکری سے برخاست کرنے کی سزا سنائی اور شکایت کنندہ کو ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا۔اسی طرح سکول ایجوکیشن کے ایک مقدمہ میں جنسی ہراسگی ثابت ہونے پر ملزم کو ملازمت سے جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ دیا۔ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے ایک کیس میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو ملازمت سے جبری ریٹائرمنٹ کا فیصلہ سنایا۔ واپڈا کے ایک کیس میں خاتون اہلکار کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانے کا جرم ثابت ہونے پر ملزم کی پانچ سال تک دو انکریمنٹس روکنے کا فیصلہ دیا۔ ایسے کئی کیس خاتون محتسب کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔خاتون محتسب کا ادارہ ورکنگ خواتین میں اپنے حقوق کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی مہم کے سلسلے میں سیمینارز کا انعقاد بھی کرتاہے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی معاشی ترقی میں خواتین کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ خواتین کی شرکت کے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ جن ملکوں نے ترقی کی ان میں خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل کو ہر پلیٹ فارم پر بیان کریں تاکہ ان کو حل کیاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ جنسی ہراسگی کی لعنت کو اس وقت تک ختم نہیں کیاجاسکتا جب تک خواتین اس کے خلاف آواز بلند نہیں کرتیں۔

رخسانہ گیلانی کے خاتون محتسب پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس ادارے کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ تحقیقات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ان کا مشن ہے۔ دور دراز علاقوں کے لوگوں کی سہولت کیلئے راولپنڈی اور ملتان میں ریجنل ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔اسی طرح ٹال فری ہاٹ لائن قائم کرنے کا پلان ہے تاکہ جنسی ہراسگی کی شکار خواتین آن لائن درخواست دے سکیں۔ خواتین میں ہراسگی کے خلاف شعور اجاگر کرنے کیلئے تین سالہ پراجیکٹ شروع کیاگیاہے جس پر 100ملین روپے خرچ کئے جائیں گے۔ خاتون محتسب پنجاب کے آفس میں 3476شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 3401شکایات کو نماٹا دیاگیا ہے جبکہ 75شکایات زیرسماعت ہیں۔3161شکایات گھریلو تشدد، ہراسمنٹ، جائیداد کے حقوق سے محروم کرنا کی تھیں جبکہ 315شکایات کام کرنے کی جگہ پر ہراسمنٹ کی تھیں۔جن میں سے 64شکایات کو نامکمل اور گمنام ہونے کی بناء پر ابتدائی مرحلہ پر نمٹا دیا گیا۔251شکایات کو مزید کارروائی کیلئے منظورکیاگیا۔تفصیلی انکوائری اور گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد 206شکایات کا فیصلہ کیاگیا۔جرم ثابت ہونے پر 125افسران و اہلکاران کو بڑی و چھوٹی سزائیں جن میں سالانہ ترقی روکنا، تنزلی، ملازمت سے برخاستگی شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں حکومت پنجاب خواتین کی فلاح و بہبود اور انہیں ہرممکن سہولیات کی فراہمی کیلئے بھرپور اور جامع اقدامات کر رہی ہے۔ عثمان بزدار کے ان اقدامات سے ورکنگ وویمن کو کام کرنے کی جگہوں پر بہترین اور سازگار ماحول میسر ہوگا۔ عثمان بزدار اس بات یقین رکھتے ہیں کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ سوا سال کے دوران ورکنگ خواتین کیلئے مثالی اور تاریخی اقدامات کئے ہیں۔ یونیورسٹیز اور کالجز کی فارغ التحصیل طالبات کو ملازمت کے حصول میں مدد دینے کیلئے Internet Based Profile Development Skill کے موضوع پر ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیاہے۔ اس سے نہ صرف طالبات کیلئے روزگار کے حصول میں آسانیاں پیدا ہوں گی بلکہ ان میں خوداعتمادی پیدا ہوگی جو فیلڈ میں ان کی کامیابی کیلئے ممدومعاون ثابت ہوگی۔ ورکنگ وویمن کیلئے لاہور، ڈی جی خان، سرگودھا، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گجرات، ملتان اور چکوال میں 23نئے ڈے کیئر سنٹرز کا قیام عمل میں لایاجا رہا ہے۔اس کے علاوہ دوسرے مرحلے میں 40نئے ڈے کیئر سنٹرز قائم کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ ’وویمن ہاسٹلز اتھارٹی“ قائم کی گئی ہے جس سے ملازمت پیشہ خواتین کو محفوظ اور معیاری رہائش گاہیں میسر آسکیں گی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پہلی مرتبہ ”آن لائن ڈیجیٹل میگزین“ قائم کیا ہے جس سے خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے مؤثر قانون سازی، صوبے کے مختلف علاقائی معاملات میں رابطے اور ان کے حقوق سے متعلق آگاہی پروگرام میں مدد ملے گی۔ اسی طرح ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت سے 28نجی اداروں میں ورکنگ وویمن کے بچوں کیلئے ڈے کیئر سنٹرز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ حکومت پنجاب نے تیزاب کے حملے میں متاثرہ خواتین کیلئے 100ملین روپے کا ”نئی زندگی“ پروگرام شروع کیا جار ہاہے۔ 36ملین پونڈ سے وویمن انکم گروتھ اینڈ سیلف ریلائنس پروگرام کاآغاز کیا جا رہا ہے جس سے تقریباً 3لاکھ خواتین مستفید ہوں گی۔

خواتین پر تشدد خلاف انسانیت فعل، معاشرتی برائی اور قانوناً جرم ہے۔ کسی بھی عورت کیساتھ صرف عورت ہونے کی بنیاد پرناانصافی ظلم کے مترادف ہے۔خواتین کو بااختیار بناکراوربرابر کے حقوق دے کر ایسی معاشرتی برائی کا خاتمہ ممکن ہے۔خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی ترجیحات میں شامل ہے۔خواتین کے حقوق کے تحفظ اوران کیخلاف تشدد کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی کی گئی ہے۔خواتین کی دادرسی اورانہیں فوری انصاف کی فراہمی کیلئے ملتان میں سٹیٹ آف دی آرٹ سنٹر کام کر رہا ہے اور اس سنٹر میں پولیس،پراسیکیوشن، میڈیکل اور فرانزک کی سہولتیں ایک ہی جگہ پر دستیاب ہیں۔ خواتین کی دادرسی اورانہیں فوری انصاف کی فراہمی کیلئے سنٹرز کا دائرہ کار صوبہ بھر میں پھیلایا جائے گا۔نئے پاکستان میں خواتین پر تشدد کے حوالے سے وضع کردہ پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔عثمان بزدار نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت تشدد کا شکارخواتین کی داد رسی کیلئے اقدامات کرنے میں سنجیدہ ہے۔نئے پاکستان کا خواب خواتین پر تشدد کے مکمل خاتمے تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

مزید :

رائے -کالم -