پنجاب میں ہزاروں گاڑیوں کی رجسٹریشن غیر قانونی ہونے کا انکشاف، لیکن یہ پتا کس طرح چلا؟ حیران کن خبر آ گئی

پنجاب میں ہزاروں گاڑیوں کی رجسٹریشن غیر قانونی ہونے کا انکشاف، لیکن یہ پتا ...
پنجاب میں ہزاروں گاڑیوں کی رجسٹریشن غیر قانونی ہونے کا انکشاف، لیکن یہ پتا کس طرح چلا؟ حیران کن خبر آ گئی

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب میں ہزاروں گاڑیاں غیر قانونی رجسٹریشن کے ساتھ چل رہی ہیں۔ پروپاکستانی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک ٹیم نے مبینہ طور پر محکمے کے سافٹ ویئر میں تبدیلی کرکے متعدد کیٹیگریز میں گاڑیوں کے ریکارڈ کو بدل دیا ہے۔اورایسی گاڑیوں کو رجسٹرڈ کرلیا ہے جو چوری شدہ تھیں یا جن کے چیسز نمبرز بدلے گئے یا پھر بوگس کاغذات پر ان کی رجسٹریشن کی گئی۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر کیسز 2017 کے ہیں جب محکمے کا تمام کمپیوٹر ڈیٹا سنٹرلائزڈ کرکے ایکٹو کیاگیاتھا۔یہ انکشاف اس وقت ہوا جب محکمے کا ڈیجیٹل آڈٹ کیاگیااس دوران تحقیق کرنے والوں کو گڑ بڑ کا اندازہ ہوا۔

صورتحال کااندازہ ہوتے ہی ڈائریکٹر لاہور موٹر برانچ نے ایک نیاحکمنامہ جاری کیا ہے جس میں تمام کمرشل گاڑی مالکان کو کہا گیا ہے کہ وہ نئی رجسٹریشن سے پہلے محکمے سے پنجاب وہیکل انسپکشن اور سرٹیفکیشن سسٹم سے گاڑیوں کی تصدیق کروالیں۔

رپورٹ کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت ایل پی ٹی سیریز کی ہزاروں گاڑیوں کی رجسٹریشن غیر قانونی طریقے سے کی گئی ہے۔اس مذموم مقصد کے تحت گاڑیوں کی نئی جعلی کاپیاں تیار کرکے انہیں دیگر صوبوں یا شہروں میں سمگل کردیاگیاہے۔لاہور اور اٹک کے کیسز میں سیڈان کو ٹرک ، بس اور مزداکی کیٹیگری میں شامل کردیاگیاہے۔اس جعلسازی کے دوران جعلی شناختی کارڈز، سرٹیفکیٹ استعمال کئے گئے۔ان جعلی کاپیوں کی مدد سے نہ صرف چوری اور سمگل شدہ گاڑیوں کو چھپایا گیا ہے بلکہ ان کے انجن اور چیسز نمبرز کو بھی تبدیل کرکے نئے نمبرز لگادیئے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایکسائز موٹروہیکل کمپیوٹر سافٹ ویئر 2017سے پہلے سنٹرلائزڈ نہیں ہوا تھااور ایکسائز افسروں کو گاڑی کے اصل ڈیٹا تک رسائی ممکن نہیں ہوتی تھی، کرپشن کیلئے لوگوں نے ان خامیوں کا فائدہ اٹھایااور جعلی رجسٹریشن کی۔اس مقصدکیلئے انہوں نے پرانی گاڑیوں کا انتخاب کیا تاکہ مالکان کوپچھلا ریکارڈ مل ہی نہ سکے۔

پی آئی ٹی بی کے جنرل منیجر فیصل یوسف کہتے ہیں کہ جو لوگ بھی اس کارستانی میں ملوث ہیں انہیں ڈیجیٹل ریکارڈز اور پاسورڈز کی مدد سے پکڑ لیاجائے گا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور