سی پیک اور سیاسی صورتحال

سی پیک اور سیاسی صورتحال
سی پیک اور سیاسی صورتحال

  

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے۔ سی پیک ایک میگا پراجیکٹ ہے جس کے ذریعے تعمیر و ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔سی پیک کو دونوں ممالک چین اور پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔مئی2013ء میں چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پاکستان کا دورہ کیا پاکستانی حکومت کو سی پیک کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کو حکومت پاکستان نے اہمیت دی اور مثبت ردعمل دکھاتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف نے چین کا دورہ کیا۔اور سی پیک کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے۔

اب تک سی پیک اہم منصوبوں پر عمل درآمد کا سلسلہ موثر طریقے سے جاری ہے تاہم پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات اپنی کمزوری کو ظاہر کر رہے ہیں۔اس پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔اس کی واضح مثال وزیراعظم عمران خان کے حکومت میں آنے سے پہلے دھرنے کی ہے۔ان کے دھرنے کی وجہ سے چین کے صدر نے اپنا دورہ پاکستان ملتوی کیا۔ اب کرونا کی وجہ سے معاشی اور ہمارے سیاست دانوں کے سیاسی حالات  سب کے سامنے ہیں،لیکن اس کے باوجود چین کی ہمت سے منصوبے پر کام جاری ہے،جو منصوبے کو کامیابی سے کام کرنے کے لئے زیادہ ہمت، محنت اور اپنے وسائل سے کام کرے گا اور وہ فائدہ بھی زیادہ اٹھائے گا۔

سی پیک کے منصوبے پر چین کے بھرپور عمل دخل کی ایک مثال یہ ہے کہ سعودی عرب نے گوادر میں آئل ریفائنری لگانے کی پاکستان کو پیش کش کی اور فوری رقم بھی دینے کا اعلان کر دیا جس سے پاکستانی حکومت اور عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، لیکن چین نے اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا تھا۔ اسی طرح جرمنی، جاپان اور دیگر ممالک نے منصوبے میں شامل ہونے کی کوششیں کی ہیں، لیکن ہم چین سے مشاورت اور اجازت کے بغیر قدم نہیں اٹھاسکتے۔اگر ہماری حکومت بہتر حکمت عملی سے چین کے ساتھ چلے تو ہم زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں چین کو اعتمادمیں لے کر بڑے امیر ممالک کو سی پیک منصوبے کا حصہ بنائیں۔

سی پیک منصوبے کے تحت چین 2030ء تک پاکستان میں مختلف شعبہ جات میں تقریباً 62ارب ڈالرز کی سرمایا کاری کرے گا۔اس منصوبے کے تحت گوادر میں بین الاقوامی بندرگاہ  کی تعمیر کے ساتھ پاکستان کے فرسودہ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، سڑکوں کے جال بچھانے، ریلوے میں انقلابی تبدیلی لانا،ملک کے مختلف حصوں میں اقتصادی زونز کا قیام،بیجنگ کو گوادر بندرگاہ سے ملانا،پاکستان میں توانائی کی کمی کو پورا کرنا اور مختلف صنعتی زونز کا قیام بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت 2015ء سے2018ء تک تقریباً 20ارب ڈالرز کی سرمایا کاری کی گئی اور 2018ء سے2020ء کے درمیان 5ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایا کاری بھی کی گئی ہے اور مزید منصوبوں کے لیے رقم دی جارہی ہے۔اس بڑی سرمایاکاری کی وجہ سے پاکستان میں اچھے اثرات مرتب ہونگے اور ہزاروں لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات عالمی برادری کے لئے ایک واضح پیغام ہے اس بڑھتے ہوئے تعاون کا ایک اہم پہلو سی پیک کے ذریعے چین کو خلیجی اور مشرقی افریقہ کے ممالک تک پہنچنے کے لئے انتہائی کم مسافت والا راستہ مل گیا اور پاکستان تجارت اور توانائی کا ایک اہم کوریڈور بننے جارہا ہے۔اوریہ سب امریکہ اور بھارت کو کسی صورت برداشت نہیں ہے۔ اس کی ناپسندیدگی ان کے ترجمانوں نے کئی ایک مواقع پر ظاہر کی ان کے خیال میں سی پیک کا منصوبہ بھارت اور امریکہ کے منصوبوں میں کے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہے اس لئے خاص طور پر بھارت سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ جہاں دشمن اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں ہمارے سیاسی ومعاشی حالات بھی اس منصوبے کی تیز ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

دکھ کی بات ہے کہ پاکستان کی آزادی کے 73سال  میں ابھی تک ہمارے کسی وزیراعظم نے اپنے عہدے کی آئینی مدت پوری نہیں کی یہ بھی ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ہمارے دشمن تو ہمارے دشمن ہیں ہی لیکن ہم اپنے دشمن خود بھی ہیں مجھے منیر نیازی کا ایک پنجابی کا شعر یاد آرہا ہے ”کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج سانوں مرن دا شوق وی سی“  پاکستان آرمی کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ایک انٹرویو میں بھارت کے ناپاک عزائم کا پردہ چاک کیا تھا انہوں نے بتایا کہ ہم بھارتی ریاستی دہشت گردی کے جو ثبوت فراہم کیے ہیں عالمی برادری نے اسے سنجیدہ لیا ہے اور بھارت کے بارے میں پاکستان کا موقف درست ثابت ہوا ہے، لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو مظبوط کرنے کے لئے حکومت کو اپنی سفارتکاری کوبہتر کرنا ہو گا  جو ہمیں حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی اور شدید اختلافات کی وجہ سے کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے جس سے یقیناً ملک کے وسیع تر مفاد کو شدید نقصان پہنچے گا۔ افسوس صد افسوس ہے کہ ہمارے سیاستدانوں میں سیاسی رواداری بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

میری محترم وزیراعظم سے درخواست ہے کہ ملک کی ترقی و خوشحالی کی خاطر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کریں یہ لوگ بھی عوام کے ووٹوں کے ساتھ منتخب ہو کر اسمبلیوں میں آتے ہیں۔ تاکہ عوام کو پتہ چلے کے ہماری حکومت کتنی سنجیدہ ہے۔اپوزیشن کے جو کیسز عدالتوں میں ہیں اس پر ادارے کام کر رہے ہیں انہیں خاموشی سے کام کرنے دیا جائے اتنی بڑی اپوزیشن میں سب چور ڈاکو تو نہیں ہیں کہ جن سے بات نہیں ہوسکتی۔اس وقت سی پیک کا منصوبہ ملک کی ترقی میں ایک اہم رول ادا کر سکتا ہے اسی منصوبے کی کامیابی کے لیے ہی کچھ سوچ لیں کیوں کہ ملک کی خوشحالی کا دارومدار سی پیک کی کامیابی سے منسلک ہے۔

مزید :

رائے -کالم -