”یہ کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے ، عدالت کریڈٹ نہیں لیتی “ چیف جسٹس اطہر من اللہ کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس 

”یہ کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے ، عدالت کریڈٹ نہیں لیتی “ چیف جسٹس اطہر من ...
”یہ کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے ، عدالت کریڈٹ نہیں لیتی “ چیف جسٹس اطہر من اللہ کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کاون کی منتقلی پرفخرہوناچا چاہیے ،عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے، یہ کریڈٹ وزیراعظم کوجاتاہے،عدالت کریڈٹ نہیں لیتی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریچھوں کی منتقلی کا پرمٹ منسوخ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی ۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آگاہ کیے بغیرپرمٹ منسوخ اورریچھوں کومنتقل نہ کرنےکافیصلہ کیاگیا، سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی ،چیئرپرسن وائلڈلائف بورڈ کا رویہ نامناسب تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شیروں کے ساتھ جو ہوا وہ کوئی معمولی بات نہیں،اس وقت بورڈ،میئراوروزارت موسمیاتی تبدیلی میں چپقلش تھی،کاون کی منتقلی پرفخرہوناچا چاہیے ،عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے ۔ وکیل نے کہا کہ کاون کی منتقلی کا کریڈٹ اس عدالت کو جاتاہے جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کریڈٹ وزیراعظم کوجاتاہے،عدالت کریڈٹ نہیں لیتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کوذمہ داری دی،شیروں کی ہلاکت کاذمہ دارکون ہے؟، آپ توہین عدالت کارروائی شروع کراناچاہتے ہیں توہم کردیتے ہیں، کوئی فیصلے کیخلاف جاناچاہتاہے توعدالت کارروائی کرے گی، ریچھوں کوایک چڑیاگھرسے نکال کردوسرے میں رکھنا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی،ایم سی آئی۔

وکیل نے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ میں گزشتہ 4 سال سے لڑائی چل رہی تھی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اسی لڑائی کو دیکھ کرچڑیا گھر کی ذمہ داری وزارت موسمیاتی تبدیلی کودی تھی، وزارت موسمیاتی تبدیلی کے چارج کے دوران دونوں شیروں کی ہلاکت ہوئی، وزارت موسمیاتی تبدیلی نے عدالت سے غلط بیانی کی۔

مزید :

قومی -