مہنگائی، مہنگائی، نہیں ہے؟

 مہنگائی، مہنگائی، نہیں ہے؟
 مہنگائی، مہنگائی، نہیں ہے؟

  

وفاقی وزیر علی زیدی برطانیہ سے ہو کر آئے ہیں، اور یہاں آتے ہی انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک طرف تو یہ کہا کہ پاکستان میں مہنگائی ہے اور ماننا چاہیے، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ پاکستان، برطانیہ سے سستا ملک ہے، علی زیدی نے تو برطانیہ اور پاکستان کا ذکر کیا ہے، تاہم اگلے ہی روز وزیراعظم عمران خان نے پھر کہا کہ پاکستان دنیا کے تمام ممالک سے سستا ملک ہے۔ آج ہی مشیر خزانہ شوکت ترین کی تازہ گفتگو پڑھی تو وہ کہتے ہیں، وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں ”گھبرانا نہیں“ تو میں بھی یہی کہتا ہوں، ”گھبرانا نہیں“ شوکت ترین جلد ہی سینیٹر منتخب ہونے کے بعد جلدی جلدی وفاقی وزیر کا حلف اٹھا لیں گے کہ یہ سارا تردّد ہی ان کو وزیر بنانے کے لئے کیا گیا ہے۔ وہ اب بھی کہتے ہیں کہ اگلے چار ماہ میں پٹرول سستا ہوگا تو مہنگائی بھی کم ہو جائے گی۔ان کی تسلی و تشفی اپنی جگہ مگر ہمارے ملک کے حقائق تو یہ ہیں کہ یہاں معمول کے دنوں میں کسی شے کا بھاؤ بڑھ جائے تو پھر کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا جیسے آج کل چینی اور آٹے کے بھاؤ کا معاملہ ہے، حکومت کی سرتوڑ کوشش چینی کی درآمد اور کرشنگ وقت سے پہلے شروع کرانے کے باوجود عام بازار میں چینی پانچ، دس روپے سے زیادہ سستی نہیں ہوئی اور آج بھی 110سے 115روپے فی کلو ہی بک رہی ہے۔ البتہ درآمدی اور سبسڈی والی چینی کے نرخ واقعی نوے روپے فی کلو ہیں۔ یہی نرخ 55روپے فی کلو تھے اور اس سے بڑھ کر 120سے 125روپے تک پہنچ گئے تھے۔ چینی کا بحران (حکومت کی نظر میں) ختم ہو چکا، لیکن آٹے کا جاری و ساری ہے۔

حکومت کی طرف سے دی جانے والی رعائتی گندم کے عوض جو آٹا ملتا ہے، وہ صارفین کی اکثریت نہیں کھاتی کہ اس میں سے سوجی اور میدہ مقررہ مقدار سے کہیں زیادہ نکالا جاتا ہے اور عام گھروں والے اسے سفید آٹا کہتے ہیں، یہ آٹا بڑے سٹوروں اور یوٹیلٹی سٹورز پر 55روپے فی کلو (10سیر 550روپے) میں دستیاب ہے، تاہم چکی آٹا، جو غذائیت والا گنا جاتا ہے وہ 85روپے فی کلو سے بڑھا کر اب 88روپے فی کلو ہو گیا ہے اور ایسی ہی صورت حال کچھ باقی اشیاء کی بھی ہے تازہ ترین صورت حال کے مطابق تنور کی روٹی بارہ روپے اور نان 18روپے کا کر دیا گیا ہے۔تنور مالکان کا دعویٰ ہے کہ وہ بازار سے غذائیت والا آٹا خریدتے ہیں جو اب 1750سے 1800روپے (فی بیس کلو) ملتا ہے، اس لئے روٹی، نان کی قیمت بڑھانا مجبوری ہے۔

مجھے تو آج اپنے کرم فرماؤں کی طرف سے پاکستان دنیا کا سستا ملک ہے  اور مہنگائی عالمی مسئلہ ہے پر بات کرنا ہے کہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حقائق سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔ میں آج سے اچھے دنوں کی بات کرتا ہوں، جب مہنگائی اک شور اور ہنگامہ نہیں تھا، یہ 1988ء کا دور تھا، جب مجھے پہلی بار ملکی سرحدوں سے باہر جانے کا موقع ملا، میں اپنے دوست نصراللہ خان کی دعوت اور ڈاکٹر خالد رانجھا سے مکمل مشاورت کے بعد ایک ذاتی کام کے حوالے سے برطانیہ گیا۔ جب میں نے اپنی روانگی کے حوالے سے اپنے ایڈیٹر (تب امروز زندہ تھا) محترم حمید جہلمی (مرحوم) سے چھٹی کے لئے کہا تو انہوں نے اجازت دینے کے ساتھ یہ بھی ہدایت کی کہ احتیاطاً امریکی ویزا بھی لے لوں کہ شاید جانے کا موقع مل جائے، چنانچہ میں امریکی ویزا بھی حاصل کر لیا۔ برطانیہ کا دو سالہ اور امریکہ کا پانچ سالہ ”ملٹی پل“ ویزا جاری ہوا تھا، ان دنوں زرمبادلہ کے لئے قواعد تھے اور جانے والوں کو انٹربینک سے 1000ڈالر ملتے تھے۔ جو میں نے حاصل کر لئے اور نرخ 18 روپے کے عوض ایک ڈالر تھا، یوں مجھے 18ہزار پاکستانی روپے ادا کرنا پڑے۔ برطانیہ اور امریکہ میں میں معزز مہمان تھا، اس لئے ساڑھے چار ماہ میں بہت کم خرچ ہوا، تاہم پھر بھی پلے سے خرچ تو کرنا پڑتا تھا۔ مثلاً لندن میں کئی بار صبح کا ناشتہ کرنا پڑا۔ دو انڈے فرائی، دو ڈبل روٹی کے سلائیس اور ایک چاء کی پیالی کے عوض ایک پونڈ ادا کرنا پڑا تھا،کافی کا کپ آدھے پاؤنڈ (50پنس) کا ملتا، اس کے بعد کی بات ہے جب مجھے 20روز کے لئے امریکہ جانے کا موقع ملا، لندن میں قیام کے دوران میں نے اپنے بچوں کے لئے کھلونے خریدنے کی کوشش کی تو ایک دوست نے مجھے منع کرتے ہوئے ہدایت کی کہ امریکہ سے خریدوں کہ وہاں باقاعدہ صنعت ہونے کی وجہ سے سستے اور اچھے کھلونے ملیں گے۔

میں امریکہ روانہ ہوا تو استاد محترم (سید اکمل علیمی مرحوم) کا مہمان تھا اور پندرہ روز ان کے پاس رہا، جب کھلونوں کی بات کی تو وہ مجھے ایک بڑے شاپنگ سنٹر میں لے گئے جو کھلونوں والا تھا، میں گھوم پھر کر کھلونے پسند کرتا اور ان کی قیمت دیکھ کر جمع تفریق کرنے لگ جاتا۔ یوں میں پھرتا رہا تو شاہ جی کو یہ محسوس ہو گیا۔ انہوں نے مجھے ڈانٹ کر کہا حساب کتاب بند کرو اور کھلونے پسند کرو، میں نے چار کھلونے پسند کر لئے اور انہوں نے کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کر دی اور گاڑی میں آکر مجھے کہا ”تم حساب کتاب کرتے ہو، یہاں ڈالر ایک روپیہ ہے، جسے تم 18سے ضرب دے رہے ہو اور یہ بنیادی کرنسی ہے جیسی تمہارے ملک میں روپیہ بنیادی کرنسی کی حیثیت رکھتا ہے۔تو قارئین کرام! آج بھی صورت حال وہی ہے، میں نے یہ کالم لکھنے سے قبل اپنے دوست انور شاہد سے امریکی اور اپنی عزیزہ اور صاحبزادی سے برطانوی نرخ پوچھے تو معلوم ہوا کہ 1988ء کے مقابلے میں عام نرخ (اشیاء خوردنی و ضرورت) بڑھے اور تقریباً دو گنا ہو گئے۔ کافی اور کولڈ ڈرنک اب ایک پاؤنڈ اور ایک ڈالر سے کچھ زیادہ کا ملتا ہے۔ تاہم جب ہم ضرب تقسیم کریں تو یہاں بیٹھ کر یہی اندازہ ہو گا کہ برطانیہ اور امریکہ میں یہ 250اور 176روپے میں ملتا ہے، لیکن جب ملکی اور ان ممالک کی کرنسی سے موازنہ کریں تو معلوم ہوگا کہ وہاں تو ایک اور ڈیڑھ روپیہ ہی میں یہ مل جاتے ہیں، اگرچہ جب وہ حضرات یہاں تشریف لائیں تو ان کے ایک روپے کے عوض ان کو 250اور 176 روپے مل جائیں گے۔یوں یہ ملک (پاکستان) سستا ہے، لیکن اوورسیز پاکستانیوں کے لئے،جب وہ یہاں آئیں اسی لئے تو ڈالر کی قدر بڑھنے پر سٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا تھا اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خوش کن ہے کہ وہاں معاوضے پاؤنڈ اور ڈالر میں ملتے ہیں اور معاوضے بھی کئی گنا بڑھے ہیں۔

میں نے یہ عرض کیا، تاکہ ان حضرات کو معلوم ہو کہ اب دنیا سکڑ کر گلوبل ویلج ہے اور عوام حساب کتاب لگا سکتے ہیں، وہ کہتے ہیں تو، یہ مہنگائی ہم قبول کر لیتے ہیں، معاوضے ان ممالک کی کرنسی میں انہی کے مطابق ادا کریں ہم آپ کے نعرے لگائیں گے اور پھر ”عمران دے، نعرے وجن گے“ میاں کے نہیں، اور اگر یہ نہیں ہو سکتا تو پھر نعرے بھی پہلے والے ہی رہیں گے۔ ضد نہ کریں بہلانے کی کوشش نہ کریں، تسلیم کریں کہ حقائق کیا ہیں اور انہی کے مطابق بات کریں، اللہ آپ کا بھلا کرے گا، نہ تو مہنگائی آپ سے تھم رہی ہے، نہ روپیہ مستحکم ہو رہا ہے اور نہ ہی روزگار بڑھا اور بے روزگاری کم ہوئی اور پھر آمدنی بھی جوں کی توں۔ روپے کی قدر جوں جوں کم ہوتی ہے، پریشانی بڑھتی رہتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -