”عمران جعفر کی نذر“

”عمران جعفر کی نذر“
”عمران جعفر کی نذر“

  

آج محنت، مشقت، ریاضت اورلگن جیسے الفاظ درسی کتابوں،ترغیبی و تحریکی مقرروں کی کہانیوں اور علماء و دانشوروں کی تقریروں میں شاید بہتر سجتے ہیں۔اگر ان الفاظ کی معنوی حیثیت کا ادراک ہرکس و ناقص کرنے کے قابل ہو جائے تو ہمیں کہیں بھی،اِرد گرد، کوئی نِکَما، نِکَھٹو، نالائق اور ناکام شخص نظر نہ آئے، کیونکہ ”یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا“۔ اس کے لئے خود کی نَفی کرنا پڑتی ہے۔جھلمل کرتے مناظر،گرم بستر، ائیرکنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا،جگری یاروں کی محفلیں، موبائل فون کی لذتیں اور دلنیشنوں کے لَب و رخسار کی مَستی کے وجود سے تب تک یکسر انکار کرناپڑتا ہے،جب تک منزلِ مقصود تک پہنچ نہ لیا جائے۔ جو اِس”میدانِ کارزار“میں قدم رکھنے کاحوصلہ یا سکت نہیں رکھتے،وہ اپنے اردگرد،کامیابی کی منزل کے حصول کے لئے سرگرداں ”محنت کَشوں“کو نہ صرف راستے کی دُشواری کو بڑھا چڑھا کر بیان کر کے متُزلزل کرتے رہتے ہیں،بلکہ اقرباء پَروری،سفارش اور رشوت ستانی کوساحلِ مُراد تک پہنچنے میں حائل بتا کر اُن کے جذبے کی آتش کو اوس زدہ کرتے رہتے ہیں۔اور جو منزلِ مقصود کو جا لیتے ہیں،اُن کو دیکھ دیکھ کر بُغض،کینہ اور حَسد کی آگ میں جَلتے،سُلگتے اور کُڑھتے رہتے ہیں۔کچھ، بھاری معاوضہ کے عوض ماہر جادو گروں، پیروں اور چلّہ بازوں کی خدمات حاصل کرنے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ایسے شخص سے اُن کا رشتہ یا قربت جتنی گہری ہوتی ہے۔اُس کی کامیابی کا دکھ اُن کے لئے اُتنا ہی دل دوز ہوتا ہے۔ شب و روز اِس آس میں بِتاتے ہیں کہ صاحب ِ عزّت یا متمّول عزیز کو کوئی حادثہ پیش آجائے، وبائی یا موذی بیماری سے دوچار ہو جائے یامالی بحران کا شکاربن جائے۔ اور ان تمنّاؤں کی ”آبیاری“ کے لئے وہ شب وروز اپنے حِصّے کا کام مقدور بھر کرتے رہتے ہیں۔جب مشیّت ِ ایزدی اُن کی خواہشات پر پورا نہیں اُترتی تو کچھ”آرزو مند“حیلے بہانوں سے جال بِچھا کر اُن سے زندہ رہنے کا حق بزورِ بازو چھین لیتے ہیں۔

مذکورہ سوچ کا عملی نمونہ 4دسمبر2021ء کو سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر اسسٹنٹ کمشنر جھنگ،عمران جعفر کے قتل کی خبر کی صورت میں سامنے آیا۔عمران اُس قافلے کے ہراول دستے کا ایک طاقتور کردار تھا،جو محنت کی صراطِ مُستقیم پر ڈٹے رہنے کو اپنا ایمان سمجھتا ہے۔واپڈا میں بطورِ میٹر ریڈر کام کرنے کے بعد پولیس میں سپاہی کی ”عاجزانہ“ملازمت اختیار کر لی،مگرمحکمے کے بے ہنگم اوقاتِ کار،کام کے لامتناہی بوجھ اور گھریلو ذِمّہ داریوں میں اُلجھے شب وروز کے باوجود اُس نے آرام کے لئے مُیّسرمختصر اوقات میں سے اپنالمحہ لمحہ مُوتیوں کی طرح سنبھال کر سُہانے مستقبل کے خوابوں کی”پرورش“کے لئے کتابوں کے اوراق میں صرف کردیا۔اُس کی مُشقّت رنگ لے آئی، اور وہ مقابلہ جاتی امتحان کے ذریعے اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس بننے میں کامیاب ہو گیا،چونکہ اُس کا نصب العین سرکار کی جانب سے متعین اعلیٰ عُہدوں کی معراج تک پہنچنا تھا،لہٰذا اُس کے پائے استقامت میں ذرا بھی جھول نہ آیا،اور لگن کے ساتھ محنت کا سبق جو اُس نے شروع میں پڑھا تھا،پڑھتا ہی چلا گیا۔

2014ء میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے زیر سایہ ہونے والے پراونشل مینجمنٹ سروسز کے مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب ہونے والے اُنتیس امیدواروں میں عمران جعفر کا چودہواں نمبر تھا۔عمران جعفر اسسٹنٹ کمشنر بن چُکا تھا۔اُس کے سامنے ڈپٹی کمشنر،کمشنر،سیکرٹری اور دیگر بہت سارے ذِمّہ داریوں اور معاشرتی احترام کے حامل عہدے دامن وا کیے ہوئے تھے۔مگر اُس کے خواب راستے میں ہی بد نظری کا شکار ہو گئے۔اُس کے عزیزوں میں جو نِکمّے،نِکھٹّواورنالائق تھے، اُس کی پَے در پَے کامیابیوں پر تِلملا رہے تھے۔ عمران جعفر نیلی بتی والی سرکاری گاڑی میں بیٹھتا،گاڑی سے اُترتا،ماتحتوں میں گِھرا،عوام کے مسائل سُنتا اور اُن کی داد رسی کرتا،اُن کا سینہ چَھلنی کیے جا رہا تھا۔بجائے اِس کے کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے کہ علاقہ کے متوسّط طبقہ سے تعلق کے باوجود عمران جعفر کی صورت میں اُن کی علاقائی سطح پر جاندار نُمائندگی ہو رہی ہے، اور مستقبل میں وہ اُن کے اور اُن کی نَسلوں کے لئے رہنمائی،ترقی اور خوشحالی کا چراغ ثابت ہوگا،اُنہوں نے وہ چراغ ہی گُل کر دیا۔

یہ ”قریبی دوست اور رشتہ دار“بھی خُدا کی منفرد مخلوق ہیں۔کام پڑے توتحکّمانہ انداز میں کام کرنے کا کہتے ہیں۔کام ہو جائے تو ”فرماتے“ ہیں،”اصل میں فلاں فلاں سے بھی درخواست گزار رکھی تھی، چلیں،تمہارا بھی شکریہ“۔اور اگر وہ کام ناجائزہونے کے باعث نہ ہو سکتا ہوتوطعنہ دیتے ہوئے کہتے ہیں ”اتنا چھوٹا سا کام کہا اور تم وہ بھی نہیں کر سکے،کیا فائدہ تمہاری اَفسری کا“۔تاہم جہاں اپنے کسی مفاد کے لئے حوالہ دے کر کام نکالنا ہو تواس ملازم سے اپنا گہرا رشتہ دار جتا کرکروا لیتے ہیں۔ اگر کسی انجان سرکاری اَفسر یا ملازم سے کسی سلسلہ میں ملاقات ہو جائے توخوشامد کرتے نہیں تھکتے۔ اپنی چارپائی،کُرسی یا صوفہ سے اُٹھ کر اس کا استقبال کرتے اور تعظیم بجا لاتے ہیں۔اگر رشتہ دار سرکاری اَفسر یا ملازم اَز راہِ محبّت اُنہیں گھر ملنے چلا جائے یا کسی ڈیرے یا بیٹھک پر ملاقات ہو جائے تو اپنی جگہ پر بیٹھے ہاتھ آگے بڑھا کر دو انگلیوں کے سلام کو کافی سمجھتے ہیں۔

اخلاقی بیماریاں جسمانی بیماریوں سے زیادہ گمبھیر، ”اَثرانگیز“ اور تباہ کُن ہوتی ہیں۔جسمانی بیماری جَسد ِ واحد کو مُتاثر کرتی ہے جبکہ اخلاقی بیماری پوری معاشرتی ساخت کو زیروزَبر کر کے رکھ دیتی ہے۔حَسد اِنہی میں سے ایک معاشرتی بیماری ہے۔ایسے سرکاری اَفسر یا ملازم جن کا بالخصوص دیہاتی پس ِ منظر ہو یا چھوٹے شہروں یا قصبوں سے اُٹھے ہوں اور رشتہ داروں براداری کے ساتھ کسی ایک مقام پر رہتے ہوں تواُنہیں عمران جعفر سے لازماً سبق سیکھنا چاہیے۔دیواروں پر پکّی اینٹیں لگانے سے پہلے اپنے رشتہ داروں،عزیزوں کے سامنے ”سلامِ عقیدت“پیش کریں۔اُن کے سامنے ہمیشہ نظریں جُھکا کر رکھیں۔مناسب لباس پہنیں،اور اکثر معاملات میں اُنہیں ہی سچّاسمجھیں۔جب کبھی شہر سے قصبے یا گاؤں جانے کا اتفاق ہو،اُن کے لئے کھانے،پینے یا استعمال کی کوئی چیز ضرور لے کر جائیں۔ جس کا بھلے اُنہوں نے تشکّر بجا نہیں لانا، لیکن اس سخاوت کی وجہ سے شاید حَسد کا بھانبڑ ٹھنڈا پڑ جائے۔

مزید :

رائے -کالم -