سال 2022۔ایک اورنئے نظام کی تخلیق 

 سال 2022۔ایک اورنئے نظام کی تخلیق 
 سال 2022۔ایک اورنئے نظام کی تخلیق 

  

چودھری سرور ہمارے معاشرے میں کامیابی و کامرانی کے لیے ایک زندہ و جاوید مثال ہیں وہ ایک عام، بلکہ بالکل عام شہری کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کر کے کامیابیوں و کامرانیوں کی انتہائی منازل طے کرتے ہوئے ایک شاندار زندگی کا کامل نمونہ بن چکے ہیں انہوں نے دو بار گورنری حاصل کر کے سیاست میں بھی کامیابی کا ایک ریکارڈ قائم کر دکھایا ہے۔ ذرا تصور کریں  2022ء میں اچانک وہ گورنری چھوڑ کر سیاست کے میدان میں ایک ایسی چال چلتے ہیں کہ تجزیہ کار حیران رہ جاتے ہیں ان کی کامیابیوں کا ایک نیا باب شروع ہونے کو ہے دیکھتے ہیں یہ کیسے ہو گا بحر حال یہ ایک تصوراتی و تخلیاتی تجزیہ ہے۔

ذرا اس امکان پر بھی غور کریں کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ سروے رپوٹ کچھ ایسا ہی کہہ رہی ہے کہ حکومت وقت کے بارے میں عوام کی عمومی رائے اچھی نہیں ہے یہ سروے تمام صوبوں میں منعقد کیا گیا کرپشن کے حوالے سے عام رائے یہ ہے کہ پولیس کا محکمہ سب سے زیادہ کرپٹ ہے یعنی سروے کے مطابق لوگوں نے پولیس کو سب سے زیادہ کرپٹ محکمہ قرار دیا ہے ویسے یہ کوئی خبر نہیں ہے کوئی نئی اور انہونی بات نہیں ہے یہ تاثر نہیں بلکہ حقیقت ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ یہ تاثر حقیقت کے بالکل قریب ہے کہ ہماری پولیس حقیقتا ً کرپٹ ہے اور یہ کرپشن کوئی موجودہ حکومت کے دور میں ہی نہیں شروع ہوئی ایسا نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کے دور میں ہی پولیس کرپٹ ہوئی ہے پولیس کرپشن کی ایک طویل تاریخ ہے کرپشن کے حوالے سے پولیس کا ”اعلیٰ مقام“ تک پہنچنا ایک طویل تاریخی عمل کا نتیجہ ہے اس کی بہت ساری وجوہات ہیں سیاسی معاملات کے باعث بھی پولیس کی کارکردگی متاثر ہوئی، معاشی معاملات نے بھی بگاڑ پیدا کیا یہاں ان وجوہات کی تلاش کا موقع نہیں ہے لیکن بوجوہ پولیس ایک خوف و دہشت کی علامت بن چکی ہے اس کی کارکردگی کے بارے میں کیا کہیں اس کی ناکارکردگی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ایک تاثر یہ بھی ہے کہ پولیس جرائم کی بیخ کنی کی بجائے، جرائم کی سر پرستی کرتی ہے یہ بات کسی نہ کسی حد تک درست بھی ہے لیکن کرپشن کے حوالے سے پولیس کی شاندار کارکردگی کے بارے میں دو آراء نہیں پائی جاتی ہیں پھر دوسرے نمبر پر عدلیہ آتی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپوٹ میں عدلیہ کو دوسرے نمبر پر کرپٹ قرار دیا گیا ہے ویسے پولیس اور عدلیہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ 

معاشرے سے جرائم کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے نظام انصاف کا قیام وہ بنیادی پتھر ہے جس پر پر امن اور فلاحی معاشرے کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے نظام قدرت میں کفر کی گنجائش موجود ہے نظام ریاست کفر پر قائم رہ سکتا ہے لیکن کوئی بھی ملک و قوم نا انصافی کے ساتھ قائم اور باقی نہیں رہ سکتی،ہمارے ہاں نظام انصاف ہے ہی نہیں لوگ کورٹ کچہری سے خوف کھاتے ہیں ہمارا نظام انصاف نہ ہونے کے برابر ہے یہ سب کچھ بتدریج ہوا ہے ہم یہاں اس مقام تک ایک جست میں نہیں پہنچے۔ پہلے یعنی قیام پاکستان کے وقت پر یہ نظام اچھی بلکہ بہترین حالت میں تھا پولیس اور عدلیہ شہریوں کی داد رسی کرتی تھی انصاف ہوتا تھا لوگوں کو انصاف ملتا بھی تھا معاشرے میں امن و سکون تھا یہی وجہ ہے کہ ہم نے کچھ بھی مادی وسائل نہ ہونے کے باوجود قومی و ملی تعمیرو ترقی کے سفر کا آغاز کیا۔ ہماری سیاست، صحافت، معاشرت اور معیشت بہتر تھی مذہبی و سیاسی رواداری قائم تھی پھر چیزیں اپنی اصل سے ہٹنے لگیں سیاست میں انجیئنرنگ شروع ہوئی کنگز پارٹیاں بننے لگیں ایجنٹ اورکار کے سیاست دانوں کی شکل اختیار کر کے سیاسی افق پر چھانے لگے، ایسی ہی انجینئرنگ ایسی ہی انجینئرنگ نے  1971 میں رنگ دکھایا عالم اسلام کی سب سے بڑی مملکت پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی ہم پھر بھی نہیں سنبھلے گراوٹ کا یہ عمل جاری رہا۔ 1977ء ہو یا الیکشن 1985ء،   2000ء کا وقوعہ ہو یا 2013,ء 2008, 2003  اور 2018ء کے انتخابات معاملات سدھرنے کی بجائے بگاڑ کی طرف جاتے نظر آرہے ہیں حد یہ ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد متزلزل ہی نہیں ہوا بلکہ ختم ہو چکا ہے احتساب کا نعرہ اپنی کشش کھو چکا ہے۔ عوام اپنے حال سے تو مایوس ہیں بلکہ مستقبل سے بھی بالکل مایوس لگتے ہیں۔  

منظر بدلنے کی باتیں ہو رہی ہیں وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ کے حوالے سے باتیں شروع ہو چکی ہیں موجودہ حکمران اپنی کریڈبلٹی کھوتے ہوئے نظر آرہے ہیں کیونکہ معاملات، چاہے انتظامی ہوں یا معاشی، قابو میں ہی نہیں ہیں گڈ گورنس کہیں نظر نہیں آرہی ہے ہاں بلکہ آئی ایم ایف کھلی آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ بند آنکھوں سے بھی نظر آتا ہے اس کی پالیسیوں پر عمل در آمد کرتے کرتے تھوڑے ہی عرصے میں ہم جان بلب ہو چکے ہیں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے احکامات نے بھی ہمارا ناطقہ بند کر رکھا ہے قوت خرید ہے کہ گھٹتی چلی جا رہی ہے ڈالر کی اڑان جاری ہے کہا جا رہا ہے کہ یہ 200روپے پر جا کر سانس لے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی پر لگا چکی ہیں پٹرول کی قیمت کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی 200 روپے تک پہنچ کر رکے گی۔ قرضے سرخ لائن کراس کر چکے ہیں ہماری تقریبا ساری ٹیکس آمدنی قرضوں کے طے شدہ اصل زر اور سود کی ادائیگی پر اٹھ جاتی ہے ملکی انتظام انصرام چلانے کے لیے درکار مالی وسائل کا حصول ہمارے لیے سوھاں روح بن چکا ہے ہم نیا قرض لے کر پرانا قرض چکانے کی پالیسی اختیار کر چکے ہیں آئی ایم ایف اپنی رقم کی وصولی کے لیے ہمارے اداروں پر اپنی گرفت دن بدن مضبوط کرتا چلا جا رہا ہے سٹیٹ بینک حکومت کی گرفت سے آزاد ہو چکا ہے معاشی پالیساں بھی اپنی ڈائریکشن آئی ایم ایف کی ہدایت کی روشنی میں ترتیب دی جا رہی ہیں۔

روزانہ کے مالی و زری امور نمٹانے اور چلانے کے لیے بھی ہمیں ان کی ہدایات پر عمل در آمد کرنا ہو تا ہے ایسے حالات میں ایک نیا منصوبہ پروان چڑھنے کی خبریں سنائی دے رہی ہیں الیکٹ ایبلز پر مشتمل ایک ایسی حکومت کی تخلیق  جس میں تمام قومی جماعتوں کے الیکٹ ایبلز شامل کر کے ایک نیا نظام تشکیل دیا جائے جو عام انتخابات کا بندوبست کرے اور پھر ایک نئی منتخب حکومت نئے مینڈیٹ کے ساتھ ملک کی باگ دوڑ سنبھالے اور ملک کو نا امیدی کے بڑھتے ہوئے اندھیروں سے بچانے کی منصوبہ سازی کرے۔اس حکومت کا سربراہ کون ہو گا؟ کیا سیاسی حکومتیں ایسے نظام پر راضی ہو جائیں گی؟ کیا ایسی حکومت غیر جانبدارانہ انتخابات منعقد کرا سکے گی؟ ایک اور مفروضہ یہ بھی ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں نے 2018ء کے انتخابات کی طرح ان انتخابی نتائج کو بھی تسلیم نہ کیا تو کیا ہو گا؟ایسے بہت سے سوال سامنے ہیں جن کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے ویسے جواب نہ بھی ملے تو کوئی بات نہیں کیونکہ یہ سب کچھ ابھی مفروضہ ہی ہے اور اس وقت تک مفروضہ ہی رہے گا جب تک یہ نظام تخلیق نہ ہو جائے۔ 

مزید :

رائے -کالم -