سرحد چیمبر کی مانیٹری پالیسی کو سال میں  8مرتبہ پیش کرنیکی مذمت 

  سرحد چیمبر کی مانیٹری پالیسی کو سال میں  8مرتبہ پیش کرنیکی مذمت 

  

      پشاور(سٹی رپورٹر) سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حسنین خورشید احمد نے مانیٹری پالیسی کو سال میں 8 مرتبہ پیش کرنے کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی فیصلہ کی بھرپور مخالفت کی اور کہا ہے کہ مرکزی بینک کا مذکورہ فیصلہ ملکی معیشت اور کاروبار کے لئے کسی صورت بھی بہتر مفاد میں نہیں ہے جبکہ حالیہ بجلی کی قیمتوں میں 4.74 روپے مزید اضافہ کو بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل بجلی ٗ گیس کے نرخوں میں اضافہ سے صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے جس سے اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں جو کہ عام آدمی کوبراہ راست متاثر کر رہی ہے اور مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی اضافہ کا باعث بن رہی ہے۔14دسمبر 2021ء کو مانیٹری پالیسی پیش کی جا رہی ہے جس کے تحت شرح سود ڈبل ڈیجیٹ تک لے جانے کی توقع کی جا رہی ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے اور کاروباری طبقہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اور تجارت ٗ ایکسپورٹ پر بھی منفی مرتب ہوں گے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں آئندہ مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سودکو برقراررکھا جائے اور بجلی کی قیمتوں میں واپس لیا جائے تاکہ ملک بھر میں کورونا لاک ڈاؤن / پابندیوں سے متاثرہ کاروبار ٗ صنعتوں اور تجارت کو مکمل بحال کیا جاسکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روزصنعتکاروں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر عمران خان مہمند ٗ نائب صدر جاوید اختر ٗ صنعتکار ٗ تاجر ٗایکسپورٹرز اور بزنس کمیونٹی کے نمائندے بھی موجود تھے۔ حسنین خورشید احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے فیصلہ کیا ہے کہ سال میں چھ کی بجائے آٹھ بار مانیٹری پالیسی پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی معاشی پالیسیوں میں عدم استحکام اور مانیٹری پالیسی کے سال میں آٹھ بار پیش کرنا احسن اقدام نہیں ہے جس سے معیشت ٗ کاروبار اور تجارت شدید متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے آرڈیننس کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو خود مختیاری دینے کا اقدام بھی آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا تسلسل ہے جس کے تحت مرکزی بینک صرف افراط زر پر توجہ دے گی ناکہ معیشت کی بہتری اور ترقی کے لئے اقدامات پر زور دے گی۔ مذکورہ آرڈیننس کے تحت مرکزی بینک عوام کو پارلیمنٹ اور عدلیہ کے ذریعے جوابدہ نہیں ہوگی بلکہ صرف آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے پہلے بھی مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود میں 8اعشاریہ 75فیصد اضافہ کیا تھا یعنی کہ 1.5 فیصد اضافہ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا ارو کاروبار ٗ تجارت اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سرحد چیمبر کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بے تحاشہ مہنگائی ٗ بے روزگاری ٗ کاروبار اورصنعتوں کی ترقی کے لئے شرح سود میں اضافہ کی بجائے کمی لانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا لاک ڈاؤن ٗ پابندیوں کی وجہ سے ملکی معیشت ٗ کاروبار اور تجارت پہلے ہی شدید متاثرہوئے ہیں جو کہ تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکے جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مسلسل مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود میں اضافہ سے کاروباری طبقہ کی مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث بنے گا اس لئے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے اور بزنس فرینڈلی پالیسیوں کے ذریعے کاروبار ٗ صنعتوں اور تجارت کو ترقی دی جائے۔ انہوں نے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مانیٹری پالیسی جو کہ 14 دسمبر 2021ء کو پیش کی جارہی ہے اس کے تحت شرح سود میں اضافہ کی بجائے کمی لائے تاکہ کورونا لاک ڈاؤن اور پابندیوں سے متاثرہ کاروبار ٗ صنعتیں اور تجارت مکمل بحال ہوسکے اور ملک بھر میں سرمایہ کاری کوفروغ دیکر روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -