حکومت کے اقدامات سے یوریا کی بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ

حکومت کے اقدامات سے یوریا کی بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کھاد کی بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف حکومت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے کھادکی قیمتیں 1768روپے فی بیگ کی سطح پرواپس آچکی ہیں اور مارکیٹ میں کھاد وافر مقدار میں موجود ہے۔ ذخیرہ اندوزوں کی بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری کی وجہ سے کھاد کی قیمتیں 2300روپے فی بیگ تک پہنچ گئی تھیں۔ حکومت کی زراعت دوست پالیسیوں اور مارکیٹ میں نمایاں طورپر کم قیمتوں کی وجہ سے اس سال یوریا کی طلب میں اضافہ ہواہے۔ موجودہ سال کے پہلے 11ماہ میں 5768ٹن کی ریکارڈ مقدار فروخت ہوئی جوکہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 11فیصد زیادہ ہے جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ملک میں 6لاکھ ٹن سے زائد یوریا فروخت کی جاچکی ہے۔پاکستان میں یوریا کی فروخت میں 11 فیصد اضافے کے برعکس، پڑوسی ملک بھارت میں یوریا کی فروخت میں 5 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے اور بھارت میں ملک گیر احتجاج کی وجہ سے کسانوں کو نقصان کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں کھاد کی طلب میں کمی کی وجہ سے زرعی پیداوار میں کمی آئے گی۔ بڑھتی ہوئی سپلائی اور یوریا کی وافر مقدار میں دستیابی کے باوجود، مارکیٹ میں تاثریہ تھاکہ مقامی اور بین الاقوامی یوریا کی قیمتوں کے درمیان بھاری فرق اور فرٹیلائزرز پر جی ایس ٹی میں اضافے کی افواہوں کی وجہ سے کھاد کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ ان افواہوں کی وجہ سے مارکیٹ میں کھاد کی قیمتیں زیادہ ہوگئیں۔ حکومت، خاص طور پر وزیرِ اعظم عمران خان نے اس صورتحال کا ازخود نوٹس لیا اور ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کاروائی کا حکم دیا۔ حکومت نے انڈسٹری کے ساتھ ساتھ روزانہ کی ترسیل کی نگرانی شروع کردی اور مختلف علاقوں میں فراہمی کے انتظام کو بہتر بنانے کیلئے یوریا کی فروخت کو طلب کے ساتھ جوڑ دیا۔ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف200سے زائد ایف آئی آرز درج کی گئیں اور بھاری جرمانے عائد کیے۔ اس کے علاوہ کسانوں کو کھاد کی مقررہ قیمتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کیلئے بروقت میڈیا مہم کی شروع کی گئی اور کسانوں پر زوردیا گیا کہ مقررہ نرخوں سے زائد قیمت ادا نہ کریں۔ حکومت کے بروقت اور فیصلہ کن اقدامات سے ملک میں یوریا کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور اس وقت یوریا پنجاب میں 1800روپے فی بیگ اور سندھ میں 1900روپے فی بیگ دستیاب ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -