بھارتی جمہوریت بے نقاب

بھارتی جمہوریت بے نقاب

  

 جھوٹ کے دبیز لاکھ پردے بھی ڈال دیئے جائیں حقیقت آشکار ہو کے رہتی ہے۔ رات کے مکمل اندھیرے بھی سورج طلوع ہونے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ دنیا کے گہرے ترین اندھیرے بھی جگنو کی معمولی سی روشنی ڈھانپ نہیں سکتے کہ اندھیروں کی شدت بذات خود روشنی کو نمایاں کرتی ہے۔ روشنی کا ئناتی سچ ہے، جسے دبانا یا مکمل چھپا دینا ممکن ہی نہیں، بالکل ایسے ہی سچائی کائناتی سچ ہے ۔ ساری دنیا بھی زمین سے لے کر آسمان تک جھوٹ سے بھر دی جائے، سچائی کا ایک چھوٹا سا لفظ پھر بھی نمایاں رہے گا۔ سچائی بھی روشنی کی طرح پھیلتی ہے، جس قدر جھوٹ کی گرد بڑھتی جائے گی، سچائی اتنی ہی واضح ہوتی جائے گی۔ یہی فطرت ہے ان اصولوں میں سے ایک اصول جن پر کائنات کا نظام چلتا ہے۔

اپنے آپ کو بادشاہ کہنے والے بادشاہ بن نہیں پاتے ،جب تک کہ لوگ انہیں مان نہ جائیں ۔ کوئی کم عقل، نا فہم دیوار کو اگر چھت کہنے لگے تو دیوار چھت بن نہیں جاتی، ہاں مگر اس کا پاگل پن لوگوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ کوئی نادان اگر پھر بھی نہ مانے تو اندھے کو سورج بھی نہیں دکھایا جا سکتا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا محض دعویٰ کرنے سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ لبرل کہلوانے کا جنون اور اصل میں لبرل ہونا ایسے ہی دو مختلف چیزیں ہیں، جیسے زندگی اور موت جو کبھی بھی کسی بھی صورت میںاکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ بھارت کی زمین پر کئی مذاہب آباد ہیں، جن کے حقوق کی پاسداری کے دعوے کرتے حکومت کی سانسیں پھول جاتی ہیں۔

سیکیورٹی رسک ایک ایسا ہتھیار بن کے رہ گیا،جس سے حکومتیں اپنے عوام کے حقوق غصب کرتی ہیں۔ مزید اس کا استعمال کم ہی دیکھنے میں آتا ہے ۔وگرنہ اتنی بھی کیا بات کہ حکومت اپنی ہی سرحدوں کے اندر تحفظ محسوس نہ کرے ۔ اگرایسا ہے بھی تو ایسی کمزور اور لاغر حکومت کا کیا معیار ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہو اور حکومت اسے سبوتاژ کرنے کی ایسی گھٹیا کوشش کرے۔ اس امر سے انتہا پسند ہندوانہ تعصب جھلک رہا ہے۔ عوام نہ تو اس پروگرام سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی کسی کے جانے یا نہ جانے سے فرق پڑتا ہے۔ بس کوئی لمحے ہوتے ہی چھپی حقیقتوں کو آشکار کرنے کے لئے ہیں اور ان لمحات نے بھارت کے سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے کے پیچھے چھپی ہوئی اصل حقیقت دنیا پر آشکار کر دی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات سے ہی نہیں،بلکہ لاکھوں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے عوام کے جذبات سے بھی کھیلا گیا۔ وعدہ کر کے عین وقت پر وعدہ خلافی کی گئی۔ بھارتی میڈیا اس گھناﺅنے عمل کی جیسی بھی توجیہات گھڑ گھڑ کے پیش کرتا رہے، اس سے حکومت کی بد نیتی اور جارہانہ عزائم چھپ نہیں سکتے۔

عقل ضروری ہے سمجھنے کے لئے ،اگر ہو تو اشارہ ہی بہت ہے، نہ ہو تو ساری عمر بھی بیکار ۔ بہت اہم نکتہ ہے۔ ویزہ دینے کا وعدہ کر کے انٹری کلیئرنس اور سیکیورٹی رسک کو بنیاد بنا کر ویزہ دینے سے انکار کس کو کیا گیا، جس شخصیت کو میلاد پاک کی محفل میں خطاب کے لئے منہاج القرآن انڈیا اور آبزرور ریسرچ فاﺅنڈیشن نے مدعو کیا، جس کے پُراثر خطاب کو سننے کے لئے بنگلور کے لاکھوں عوام ایک جگہ جمع ہوئے۔ وہ اصل میں ہے کون؟ اور وہ تو وہی شخصیت ہے،جس کی تحریر و تقریر اور عمل کو دیکھتے ہوئے امن کا نوبل انعام دینے کے لئے نامزد کیا گیا، جس کے علمی اور تحقیقی مقام کو آج صرف عالم اسلام ہی نہیں، بلکہ ساری کی ساری اقوام عالم مان چکیں ۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری ایک ایسی علمی شخصیت ہیں، جن پر آج تک کوئی مسلکی یا مذہبی انتہا پسندی کی ایک بھی مثال دینا چاہے تو دے نہیں پائے گا۔ آپ نے ساری عمر نہ صرف فرقہ واریت کے خلاف علمی جنگ لڑی، بلکہ بین المذاہب امن اور احترام کو بھی پروان چڑھایا۔ آج شیخ الاسلام کا ہی مقام ہے کہ کبھی امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں اسلام کے تشخص پر لیکچر دیتے ہیں تو کبھی ہندﺅوں، سکھ اور دیگر مذاہب کے بڑے بڑے رہنما موجودہ مسائل پر آپ کی رائے لیتے اور احترام کرتے ہیں۔ ایسی ہمہ گیر شخصیت کے لئے بھارت میں داخل ہونے کے لئے ویزہ نہ دینے کا جواز چاہے کوئی بھی گھڑ لیا جائے، خاص طور پر ایسے مقدس موقعے پر ایسا کرنا کھلم کھلا تعصب ہے اور کچھ نہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اگر بھارت حقیقت میں پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہشمند ہے ۔ حکومت اگر چاہتی ہے کہ دونوں ملکوں میں بسنے والے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ دونوں ملکوں میں حائل نفرتوں کی خلیج ختم ہو اور محبت کا آغاز کیا جائے تو اس سے اچھا موقع اور کیا ہو سکتا تھا۔ ایک ایسا پروگرام جس میں بنگلور کے لا کھوں عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے 250 شہروں سے بھی لاکھوں عوام شریک ہوتے۔ ایک ایسا پروگرام جس میں عوام اپنی مدد آپ کے تحت سارا پروگرام سر انجام دے رہے تھے۔ حکومت کو رائے عامہ تک ہموار کرنے کی ضرورت درپیش نہیں تھی کہ یہ سارا کام عوام خود بخود رضا کارانہ طور پر انجام دے چکے۔ بات صرف بھارت میں بسنے والے مسلمانوں تک محدود نہیں، اگر ایسا ہوتا تو بنگلور کی ہندو تنظیم کے صدر کی طرف سے اپنی ریاست سے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کو انٹری کلیئر نس دینے کی دراخواست نہ دائر کی جاتی۔

معاملہ مگر مختلف ہے۔ ثابت یہ ہو رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام تو قریب آنا چاہتے ہیں۔ مذہب اور قومیت کے تعصب سے آزاد ہو کر ایک دوسرے کو سننا اور سمجھنا چاہتے ہیں، مگر حکومتی اور ریاستی سطح پر کچھ عناصر موجود ہیں جو ایسا نہیں چاہتے،جن کی سیاسی دوکانداری اسی بات پر چلتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فاصلے حائل رہیں اور وہ انہی فاصلوں کو جواز بنا کر کبھی انہی فاصلوں کو مٹانے کا نعرہ لگا کر عوام کو بے وقوف بناتے رہیں اور حکومت کو اپنے ہاتھوں تک ہی محدود رکھے رہیں۔ بھارت کو اشد ضرورت ہے کہ ایسے شرپسند عناصر کو نہ صرف پہچانے، بلکہ ان کا خاتمہ کرے کہ اسی صورت میں ان دو ملکوں میں تعاون اور دوستانہ تعلقات ممکن ہیں وگرنہ سب قیاس آرائیاں ۔ دل بہلانے کی خاطر کھیل تماشہ۔

مزید :

کالم -