برونائی نے نہ صرف برطانیہ سے آزادی لینے سے انکار کر دیابلکہ معاملہ عدالت لیجانے کی دھمکی بھی دیدی

برونائی نے نہ صرف برطانیہ سے آزادی لینے سے انکار کر دیابلکہ معاملہ عدالت ...
برونائی نے نہ صرف برطانیہ سے آزادی لینے سے انکار کر دیابلکہ معاملہ عدالت لیجانے کی دھمکی بھی دیدی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بندرسری بیگاوان (نیوز ڈیسک) آزادی ایک عظیم نعمت ہے اور محکوم اقوام آزادی کے حصول کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گھبراتی ہیں ہے مگر دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے کہ جسے باربار آزادی کی پیشکش کی جاتی ہے مگر وہ کسی طور بھی آزادی لینے کے لئے تیار نہیں ہورہا۔

امریکی اخبار ”لاس اینجلس ٹائمز“ کے صحافی جیک پوئسی کہتے ہیں کہ برونائی دارالسلام وہ منفرد ملک ہے کہ جو عملاً برطانیہ کے ماتحت ہے اور گزشتہ چند دہائیوں میں برطانیہ نے بار بار اس سے درخواست کی ہے کہ یہ ملک مہربانی فرما کر آزادی حاصل کرلے مگر برونائی آزادی لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ بورنیو جزیرے کے شمالی ساحل پر واقع ملک برونائی ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت برطانیہ کے زیر تحفظ ریاست ہے۔

جاپان کی نفرت میں چینی شہری حد سے آگے نکل گیا،گاہکوں سے فوجیوں کے منہ میں۔۔۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ برونائی ایک امیر کبیر ملک ہے جو اپنی معیشت بآسانی چلا سکتا ہے اور اپنی فوج قائم کرکے کسی بیرونی مدد کے بغیر اپنا تحفظ کرسکتا ہے لہٰذا اسے برطانیہ کے زیر تحفظ ریاست رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اسی بنیاد پر کئی دفاع اس سے درخواست کی گئی ہے کہ یہ آزاد ریاست بن جائے مگر ہر بات برونائی کی طرف سے صاف انکار کردیا ہے۔ یہ ملک تیل کی دولت سے اس قدر مالا مال ہے کہ اس کے 1لاکھ 50 ہزار شہریوں کو ایک روپیہ بھی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ حال ہی میں جب مملکت کے سربراہ سلطان حسن البولکش کو ایک دفعہ پھر آزادی کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے اسے واضح الفاظ میں ٹھکرا دیا جبکہ اس سے پہلے ان کے والد بھی آزادی لینے سے ہمیشہ انکاری رہے۔ سلطان حسن انگریزی تہذیب اور طرز زندگی کے اس قدر مداح ہیں کہ انہوں نے سابق برطانوی وزیراعظم ونگسٹن چرچل کو برونائی کا قومی ہیرو قرار دے رکھا ہے۔ ماضی میں موجودہ سلطان کے والد یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ اگر برطانیہ نے برونائی کو زبردستی آزادی دینے کی کوشش کی تو وہ اقوام متحدہ کے پاس شکایت لے کر جائیں گے۔ برطانیہ اور برونائی کا معاہدہ ایک صدی سے زائد عرصہ سے چل رہا ہے اور اب نئے معاہدے پر دستخط کئے جانے والے ہیں جس کے مطابق برونائی کے تحفظ پر اٹھنے والے تمام تر اخراجات برونائی کے خزانے سے ادا کئے جائیں گے۔ برونائی میں اعلیٰ ترین کوالٹی کا خام تیل نکلتا ہے اور اس ملک کی خوش قسمتی ہے کہ اس کا سب سے بڑا خریدار جاپان بھی قریب ہی واقعہ ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ملک بے پناہ دولت کا مالک ہے۔ موجودہ سلطان کی عمر 26 سال ہے اور وہ چار سال پہلے اقتدار میں آئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس