تاریخی عمارتوں کی بحالی کیلئے،دلکش لاہور پراجیکٹ پر عملدرآمد نہ ہو سکا

تاریخی عمارتوں کی بحالی کیلئے،دلکش لاہور پراجیکٹ پر عملدرآمد نہ ہو سکا

 لاہور( جاوید اقبال) دلکش لاہور پراجیکٹ ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے اس پروگرام کے تحت مال روڈ سمیت اندرون شہر لکشمی چوک کی تمام قدیم اور تاریخی عمارتوں کو ان کی اصل شکل میں بحال کیا جانا تھا جبکہ ان علاقوں میں پلازوں مارکیٹوں دوکانوں پر لگائے گئے بے ہنگم سائن بورڈز اور ہوورڈنگ بورڈز کو ختم کرکے ان کی جگہ ایک ہی سائز کے بورڈ آویزاں کئے جانے تھے جبکہ مال روڈ کی سروس روڈز کو مکمل طور پر واگزار کروانا تھا مگر یہ پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی دم توڑ گیا ہے عمارتوں کو دلکش بنانا تو درکنار مال روڈ کو تجاوزات کی نرسریوں اور سروس روڈز پر لاہور پارکنگ کمپنی اور ضلعی انتظامیہ نے ناجائز پارکنگ سٹینڈوں کی منڈیاں بنا دی ہیں جس سے مال روڈ کا حسن تباہ و برباد ہو کررہ گیا ہے ۔الحمراء سے انارکلی تک مال روڈ کے دونوں اطراف واقعہ سروس روڈز پر مقامی ایم پی ایز کے چہیتوں کو جگہ جگہ پارکنگ سٹینڈز آلاٹ کر دئیے گئے ہیں صبح سے رات تک سروس روڈ پارکنگ سٹینڈوں کی وجہ سے گذر گاہوں کے لئے بند رہتے ہیں یہاں تک کے ان مقامات سے اب پیدل چلنا بھی مشکل ہو چکا ہے ۔اسی طرح دلکش لاہور پراجیکٹ کے تحت مال روڈ ‘ ہال روڈ پر دوکانوں پر سے جو بے ہنگم بورڈز اتار کر ایک ہی سائز کے جو سائن بورڈز لگائے جانے تھے یہ کام بھی دم توڑ گیا ہے ۔دوسری طرف مذکورہ علاقوں میں90 عمارتوں کو اس پراجیکٹ کے تحت ان کی تاریخی حثیت میں بحال کرنا تھا یہ کام بھی اکا دکا عمارتوں کی تکمیل کے بعد دم توڑ چکا ہے جبکہ اس پروگرام کے تحت لاہور کے 12دروازوں اور ایک موری کو بھی ان کی اصل شکل میں بحال کیا جاناتھا جس کا سروے بھی مکمل نہیں ہو سکا اس پراجیکٹ کے لئے ڈی سی او لاہور کی چیئرمین شپ میں ایک بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کا آج تک کوئی اجلاس ہی نہیں ہو سکا ہے اس بورڈ نے لاہور کی داخلی اور خارجی گذر گاہوں کو دلکش بنانا تھا جس پر بھی کام شروع نہیں ہو سکا ہے ۔اس حوالے سے ڈی سی او لاہور کیپٹن عثمان کا کہنا ہے کہ یہ بات سچ ہے کہ پراجیکٹ پر کام سست روی کا شکار ہے مگرا س میں تیزی لائی جائے گی اور اس کا آغاز مال روڈ سے کیا گیا ہے مال روڈ لاہور کی پہچان ہے سروس روڈ پر پارکنگ سٹینڈ ز اگر خوبصورتی میں داغ ہیں تو اس کی رپورٹ طلب کریں گے اگر ضروری ہوا تو ان کو ختم بھی کر دیں گے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1