حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ علم و عمل کے پیکر تھے،مولانا عبیداللہ

حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ علم و عمل کے پیکر تھے،مولانا عبیداللہ

لاہور(نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی کی یاد میں جامعہ اشرفیہ لاہور میں مہتمم حضرت مولانا محمد عبید اللہ کی زیر صدارت تعزیتی سیمینار منعقد ہوا جس میں علماء کرام اور طلبہ سمیت بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ سیمینار سے متحدہ علماء بورڈ حکومت پنجاب کے چیئرمین مولانا حافظ فضل الرحیم، جسٹس (ر) علامہ خالد محمود، مولانا محمد اکرم کشمیری، پروفیسر مولانا محمد یوسف خان، پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف، حاجی صغیر احمد اور پروفیسر ڈاکٹر حافظ زاہد علی ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ علم و عمل کے پیکر تھے ان کی تمام زندگی عقیدہ ختم نبوت، دینی مدارس کے تحفظ، دین کی اشاعت اور درس و تدریس میں گزری اور وفات سے چند لمحہ قبل بھی ملتان میں وفاق المدارس کے زیر اہتمام تحفظ دینی مدارس سیمینار سے آخری خطاب کیا جہاں وہ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے انہوں کہا کہ آج پوری دنیا میں جہاں جہاں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جدوجہد ہو رہی ہے وہاں وہاں مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر ہونے کی حیثیت سے محنت و ثواب شامل ہے۔ جسٹس (ر) علامہ خالد محمود نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد سر ظفر اللہ قادیانی کو وزیر خارجہ بنانے کے خلاف اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے سب سے پہلے جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسن ؒ نے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام کا مشترکہ اجلاس بلانے کی سعادت حاصل کی آج مفتی محمد حسنؒ کے بیٹے مولانا حافظ فضل الرحیم نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ کی یاد میں اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے سب سے پہلے سیمینار منعقد کرایا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1