لاہور

لاہور

لاہور سے چودھری خادم حسین

ہفتہ رفتہ کے دوران لاہور میں ملی جلی سرگرمیاں رہیں، سیاست حسب سابق اسلام آباد اور کراچی میں زیادہ رہی ۔ لاہور میں معمول کی تقریبات تھیں، گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ سرکاری محکموں کے ملازمین نے آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم پر اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کئے اور اعلان کیا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو اسمبلی اور سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کیا جائے گا، کلرک حضرات دیر سے اپنے مطالبات پر زور دے رہے ہیں، جو الاؤنسز، ترقیوں اور شرائط ملازمت سے متعلق ہیں، ایپکا دو حضوں میں بٹی ہوئی ہے، لیکن حکومت کے تاخیری حربوں کی وجہ سے دونوں نے مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کرلیا اب احتجاج بھی مل کر کررہے ہیں۔

علم و ادب کا شہر لاہور ایسی تقریبات سے خالی خالی نظر آتا ہے کبھی کبھار کوئی دل والا محفل سجا بھی لیتا ہے۔پنجاب آرٹس کلچرل آڈیٹوریم میں عالمی پنجابی کانگرس نے پنجابی زبان کے حوالے سے ایک روزہ کانفرنس منعقد کر ڈالی۔ کانگریس کے چیئرمین فخر زمان تین ماہ تک دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کرکے واپس آئے ہین، اس دوران انہوں نے مختلف ممالک کے ادیبوں، دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال کیا۔ لاہور آنے کے بعد انہوں نے پنجابی کے فروغ کے لئے جہاں ایک روزہ عالمی پنجابی کانفرنس کا اعلان کیا جو لاہور میں ہوگی اور دنیا بھر کے وفود شرکت کریں گے۔ وہاں الحمراء آرٹس کلچرل کمپلیکس قذافی سٹیڈیم میں کانفرنس منعقد کی۔ جس کے تین سیشن ہوئے۔ عبداللہ حسین نے صدارت کی جبکہ فخر زمان کے علاوہ احمد سلیم، قاضی جاوید،طارق خورشید، پرویز قمر عباس اور انجم بھٹی کے علاوہ متعدد ادیبوں اور دانشوروں نے خطاب کیا۔

کانفرنس میں اس امر پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیاکہ پنجابی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور پنجاب میں ماں بولی کو بول چال میں بھی بھلایا جا رہا ہے۔کانفرنس کے اعلامیہ میں پنجابی یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ فخر زمان نے انکشاف کیاکہ اس وقت ہزاروں ایم اے (پنجابی) نوجوان بے روزگار ہیں ان کو بھی ملازمتیں دی جائیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے طویل وقفہ کے بعد انتخابات میں دلچسپی لی ہے اور صوبائی تنظیم کی طرف سے حلقہ این اے 137 کے ضمنی انتخاب کے لئے امیدوار نامز کردیا ہے۔ اس کے لئے شاہ جہاں بھٹی کو ٹکٹ دیا گیا، جس کا اعلان میاں منظور احمد وٹو نے خود کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی یہ الیکشن جیتے گی۔ یہ نشست رائے منصب علی خان کی وفات سے خالی ہوئی اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مرحوم کی صاحبزادی کو ٹکٹ دیا گیا۔ یوں یہ براہ راست مقابلہ ہوگا۔

سینٹ کی خالی ہونے والی نشست پر انتخاب 11مارچ کو ہونا ہے۔ اس سلسلے میں تمام جماعتوں نے اپنے اپنے طور پردرخواستیں منگوا کر امیدواروں کا فیصلہ کیا۔ مسلم لیگ(ن) کو زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ہے کہ اس کے پاس قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اکثریت اراکین ہیں جبکہ بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے۔ کے پی کے میں بھی مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ہیں۔ سندھ میں دو تین نشستیں اب بھی ہیں، تاہم پنجاب میں دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت ہے۔ یہاں سے پیپلزپارٹی نے چودھری اعتزازاحسن، ندیم افضل چن، بابر اعوان اور نرگس فیض کو ٹکٹ دیئے ہیں، یہاں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ق) سے مذاکرات کئے اور مل کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تاہم دونوں مل کر بھی ایک نشست آسانی سے حاصل نہیں کر سکتے۔ پیپلزپارٹی نے چار ٹکٹ جاری کر دیئے ہیں۔ کیا یہ امیدوار مسلم لیگ (ن) والوں سے ووٹ لیں گے، اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض خانہ پری ہے، اگر کوئی تھوڑا امکان ہے تو وہ یہ کہ چودھری اعتزازاحسن اپنے تعلقات دیرینہ کے حوالے سے شاید اتنی حمایت حاصل کرلیں جتنی جیتنے کے لئے ضروری ہو، باقی کسی امیدوار کا جیتنا تو درکنار ووٹ ملنا بھی مشکل ہوگا۔پنجاب سے مسلم لیگ (ن)ہی کو تمام نشستیں حاصل کرنے کی ترجیح حاصل ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں معتدبہ کمی کے بعد اس کا فائدہ عوام تک پہنچانے کی تگ و دو کی جا رہی ہے لیکن منافع خور قیمتیں کم کرنے پر تیار نہیں۔ سبزیوں، فروٹ اور دالوں وغیرہ کے نرخ کم نہیں ہوئے۔ ٹرانسپورٹروں نے رضا کارانہ طور پر کرائے کم کئے اور آئندہ کے لئے بھی اعلان کیا تاہم پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے جو نرخنامہ منظور کیا اسے ان حضرات نے مسترد کر دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ آر ٹی اے کے مجاز افسر ٹرانسپورٹر حضرات کا کاروبار بند کرانا چاہتے ہیں اور ان کی طرف سے جاری نرخنامہ وغیرہ معقول ہے۔ جو منظور نہیں کیا جا سکتا، ٹرانسپورٹ والوں کی مختلف تنظیموں نے متحد ہو کر تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ آج (بدھ)کے لئے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ تادم تحریر سرکار کی طرف سے مذاکرات کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اگرچہ امکان ہے کہ وزیراعلیٰ خود نوٹس لیں گے۔

مزید : ایڈیشن 1