ملتان

ملتان

ملتان سے شوکت اشفاق

نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت ایسے مدارس اور دوسرے غیر سرکاری اداروں (این جی اوز) کے خلاف کارروائی کی کوششیں کر رہی ہے جو کسی بھی پراجیکٹ کے لئے غیر ممالک سے براہ راست امداد حاصل کر رہے ہیں لیکن حکومت کو ابھی تک اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور یہ سنجیدہ مسئلہ مختلف بیانات در بیانات اور الزامات در الزمات تک ہی محدود نظر آرہا ہے، بڑے شہروں خصوصاً اسلام آباد میں کام کرنے والی این جی اوز برملا مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مدارس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ ان مدارس میں انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے دوسری طرف مدارس کی تنظیموں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس الزام کے بعد مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ غیر سرکاری تنظیمیں بیرون ممالک سے نامعلوم وجوہ پر بھاری فنڈز براہ راست حاصل کرتی ہیں اور ملک میں سیکولرازم اور بگاڑ کے ذمہ دار ہیں، سانحہ پشاور کے بعد مقتدر اداروں نے ایسے مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا جو براہ راست غیر ملکی امداد حاصل کرنے میں ملوث ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایسی این جی اوز کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کی تیاری کر لی گئی جو کسی بھی پراجیکٹ کے لئے غیر ممالک سے براہ راست فنڈز حاصل کر رہے ہیں اور ان کی ایک معقول تعداد جنوبی پنجاب میں بھی سر گرم ہے خصوصاً مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے بعض علاقوں کو ان این جی اوز نے ’’فوکس‘‘ کر رکھا ہے اور کسی ضرورت کے بغیر فضول قسم کے پراجیکٹس پر فارن فنڈنگ ہو رہی ہے اور اس کی دیکھ بھال کے لئے مختلف ممالک سے فنڈز دینے والے ڈونرز بھی یہاں کا دورہ کرتے ہیں لیکن ذمہ دار حکومتی اداروں نے اس حوالے سے چپ سادھ رکھی ہے کیونکہ ان این جی اوز کے پیچھے نامی گرامی سیاستدان، بیورو کریٹس، کے بچے اور بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز لوگوں کی پشت پناہی ہے۔ اب ایسی صورت میں کیا سرکاری ادارے ایسی این جی اوز کے خلاف کوئی حقیقی کارروائی کرنے میں کامیاب ہوں گے جو وطن عزیز کے انتہائی اہم اور حساس علاقوں میں غیر ملکی فنڈز پر دندناتے پھر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم جنوبی پنجاب میں پارٹی کو عوامی سطح پر دوبارہ مقام دلائیں گے اور ایسی تنظیم سازی کریں گے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی یہ پارٹی پھر اپنا کھویا ہوا سیاسی مقام دوبارہ حاصل کر کے گلی محلے میں ایک مرتبہ پھر بھٹو، بھٹو کرا دے گی۔ مخدوم احمد محمود ایسا کس طرح کر پاتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ان کے جنوبی پنجاب کے صدر بننے سے پارٹی کے اندر جو توڑ پھوڑ اور لے دے ہو رہی ہے وہ پارٹی کو مزید نقصان پہنچائے گی اور ’’جیالا‘‘ مزید بددل اور مایوس ہو گا پہلے بھی پارٹی کے اندر ایسے افراد کو عہدے دئیے جا رہے ہیں جو جیالوں کو اس طرح قبول نہیں ہیں اور وہ پارٹی معاملات سے کنارہ کشی کر رہے ہیں جس سے جنوبی پنجاب میں فائدہ کی بجائے نقصان ہو رہا ہے کیونکہ مخدوم احمد محمود ایک جاگیردار اور صنعت کار ہیں جن کا مزاج عوامی نہیں ہے جو پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کی پہچان ہوا کرتی ہے اور نہ ہی وہ کارکنوں کے لئے آسانی سے ملاقات کے لئے دستیاب ہوں گے اس لئے جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی سیاسی طور پر مزید کمزور ہو سکتی ہے جس کا نقصان انہیں آئندہ ضمنی یا عام انتخابات میں اٹھانا پڑے گا اب بھی وقت ہے کہ کسی عوامی جیالے کو جنوبی پنجاب کا صدر نامزد کر کے مقامی پارٹی معاملات انہیں کے سپرد کر دئیے جائیں گے تاکہ مقامی طور پر پارٹی کی ساکھ بچائی جاسکے۔

توقع اور اندازہ تھا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف مل کر دو بزرگ مسلم لیگیوں سردار ذوالفقار کھوسہ اور سید غوث علی شاہ کو منا لیں گے اور انہیں ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے ’’خدمت‘‘ کا موقعہ دیں گے لیکن لگتا ہے کہ میاں برادران نے کم از کم ان دو بزرگوں کو پکی نو لفٹ کرا دی ہے حالانکہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوا کرتی لیکن ان کے معاملے میں میاں صاحبان نے بھی ضد پکڑ رکھی ہے اور شاید تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے ان دونوں دیرینہ ساتھیوں کو منانے کی کوشش نہیں کریں گے یہ سیاست میں ایک اچھی روایت نہیں ہے لیکن کیا جائے دوسری طرف بھی تو اسی قماش کے سیاسی لیڈر ہیں جو ’’سیاست‘‘ کرنے سے باز نہیں آسکتے اور کوئی موقع جانے نہیں دیتے اب بھی سید غوث علی شاہ اور سردار ذوالفقار کھوسہ ایک مرتبہ پھر بھر پور طریقے سے میاں برادران خصوصاً (ن) لیگ کے خلاف سیاسی طور پر متحرک ہو چکے ہیں اور اس مرتبہ تیزی سے رابطے تو کر رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ اپنی موومنٹ کو خفیہ بھی رکھ رہے ہیں لیکن ان سیاسی ’’بابوں‘ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہوا چلتی ہے تو اسے سب محسوس کرتے ہیں لہذا ان کے رابطوں کے بارے میں (ن) لیگی حکومت کو معلوم ہے لیکن وہ کوئی رد عمل ظاہر نہیں کر رہے اور شاید یہ سمجھ رہی ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت میاں صاحبان معاملے کی سنجیدگی کو محسوس نہیں کر رہے ہیں کیونکہ یہ دونوں بزرگ سیاسی شخصیتیں ایسے سیاسی پنڈتوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں جو سیاسی بساط کو پلٹنے کی صلاحیتوں سے ’’مالا مال‘‘ ہیں۔ کیا ایسا ہو پائے گا یہ تو وقت ہی انکشاف کرے گا لیکن ایک بات تواتر سے سنی جا رہی ہے کہ متبادل لیگی قیادت کا انتظام ہو رہا ہے کچھ لیگیس اکٹھی کی جا رہی ہیں اورایک متحدہ پلیٹ فارم بنایا جا رہا ہے اور اس سیاسی بساط میں تحریک انصاف بھی دھندلا رہی ہے اس لئے پیپلز پارٹی اتنی ’’جلدی‘‘ متحرک ہو رہی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1