سعودی مالی امداد اور بعض عناصر کا بے بنیاد پروپیگنڈہ

سعودی مالی امداد اور بعض عناصر کا بے بنیاد پروپیگنڈہ
سعودی مالی امداد اور بعض عناصر کا بے بنیاد پروپیگنڈہ

  

سعودی عرب او ر پاکستان کی حکومت اور عوام کے درمیان بے مثال تعلقات کسی تعارف کے محتاج نہیں، اور اسی طرح دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں پختگی اور گرمجوشی واضح دکھائی دیتی ہے، یہ تعلقات دین، ثقافت اور باہمی عادات واقدار میں ہم آہنگی کی صورت میں نظر آتے ہیں، سعودی عرب ہر خوشی اور غم کے موقع پر پاکستانی عوام اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو کہ بیت اللہ جو ہم سب کا روحانی مرکز ہے، سعودی عرب کی سرزمین میں ہے، جس سے پھوٹنے والی کرنوں نے سار ی دنیا کو منور کردیا، اور آج بھی سب اہل ایمان روحانی تازگی کے لئے ادھر کا رخ کرتے ہیں، اور اس دوران بھی ہر لب پر دعا ہوتی ہے کہ یا رب حرمین شریفین میں نماز جنازہ نصیب ہو اور جنت البقیع کا قبرستان ہمارا مقدر ہو سعودی عرب نے اپنے قیام کے اول روز سے ہی امت اسلامیہ کی خدمت کو اپنا شیوہ بنایا ہوا ہے.اور امت مسلمہ کی وحدت کے لئے کوشاں رہتا ہے۔

آج کل بعض ذرائع ابلاغ سعودی عر ب کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں اور یہ غلط تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب پاکستان میں دینی مدارس کو مالی امداد فراہم کررہا ہے، جس سے ملک میں دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے، بعض عناصر دن رات اسی قسم کے جملوں کو دہرانا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں اس بات سے بے خبر ہو کر کہ یہ پروپیگنڈہ بالآخر امت کے اتحاد کو پارا پارا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مختلف دینی مدارس، مساجد اور رفاہی تنظیموں کی جانب سے سعودی عرب کو مالی امداد کے حصول کے لئے جب بھی درخواستیں موصول ہوتی ہیں تو سعودی سفارتخانہ ان درخواستوں کو پاکستانی وزارت خارجہ کے ذریعے حکومت پاکستان کو بھیج دیتا ہے، تاکہ پاکستانی حکومت ان درخواست دہندگان کے بارے میں چھان بین کرکے سفارتخانہ کو مطلع کرے، اور جب پاکستانی حکومت سعودی سفارتخانہ کو تحریری طور پر یہ ضمانت دیتی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے درخواست دہندہ کو ملنے والی متوقع امداد رفاہ عامہ میں ہی استعمال ہو گی تو پھر سعودی حکومت یہ امداد فراہم کرتی ہے۔

جبکہ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مذکورہ بالا طریقہ کار سے گزرنے کے بعد بھی دینی امور کے لئے دی جانے والی سعودی امداد کو بعض عناصر شک وشبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں، حالانکہ سعودی عرب یہ امداد فرقہ وارانہ نظریات کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور دین کی خدمت کے لئے فراہم کرتا ہے اور اس میں کسی کو شک وشبہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہمارا دین ایک ہے، قرآن پاک ایک ہے اور رسول ﷺ ایک ہیں، اور پیارے نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق ہم سب مسلمان جسد واحد کی مانند ہیں، تو پھر کیونکر ہم ایک دوسرے کی مدد واعانت کرنے میں کوتاہی سے کام لیں اور جب دین اسلام کی خدمت کا معاملہ ہو تو کوئی دین دار حکومت کس طرح سے انکار کر سکتی ہے۔ دین کی خدمت کے لئے تو سعودی حکومت نے کبھی کسی قسم کی پس وپیش سے کام نہیں لیا، پورے عالم اسلام کے حجاج اور معتمرین کرام اس بات کے گواہ ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت نے ہمیشہ حجاج اور معتمرین کرام کی سہولت کو پیش نظر رکھا اور ہمیشہ سے سعودی حکومت حرمین شریفین کے توسیعی منصوبوں پر فراخ دلی سے اربوں ریال خرچ کررہی ہے۔

حرمین شریفین کی توسیع کے لئے اٹھائے گئے بہترین اقدامات اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی حکومت مساجد کی تعمیر اور دیکھ بھال کو اپنا دینی اور اخلاقی فریضہ سمجھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام آج بھی سعودی حکومت سے دلی محبت اور عقیدت رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی دیکھ بھال اور عازمین حج کے لئے سہولتوں کی فراہمی پر وہ ان کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں وفاقی دارالحکومت میں موجود فیصل مسجد کی تعمیر ومرمت کے لئے سعودی حکومت کی طرف سے 10 لاکھ ڈالر کی خطیر امداد کی منظوری دی گئی، اور اس سے مسجد میں موجود صوتی نظام کو حرمین شریفین کی مانند جدید خطو ط پر استوار کرنا، عمارت کے مختلف حصوں کی مرمت، حرمین شریفین کی طرح بیرونی صحن میں چھتریوں کی تعمیر اور مسجد کے آئمہ کرام ومؤذنین کی اقامت گاہوں کی تعمیر کی جائے گی۔

یاد رہے کہ فیصل مسجد کی تعمیر سعودی عرب سے ملنے والے 120 ملین ڈالر کی لاگت سے 1986 میں مکمل ہوئی، فیصل مسجدکی تعمیر کو کئی برس گزر چکے ہیں اس دوران موسمی اثرات اوردیگر عوامل کی وجہ سے مسجد میں مرمت کے کئی کام ایسے تھے جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سعودی حکومت کی طرف سے فیصل مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے فوری امداد کی منظوری دی۔ پاکستان میں اربوں روپوں کے لاتعداد منصوبے ایسے ہیں جو دونوں ممالک کی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جو اس ملک کے عوام کی بہتری کے لئے شروع کیے گئے ہیں، ہمارے سیلاب زدگان جن بھائیوں کو ہماری اپنی وفاقی اور صوبائی حکومتیں فراموش کر چکی ہیں ان کے لئے آج بھی سعودی عوام کی طرف سے عطیہ کردہ رقم سے تعمیر کیے گئے مکانا ت جو ضرورت کی تمام اشیاء سے آراستہ ہیں متاثرین کے حوالے کیے جارہے ہیں۔

دنیا بھر میں کسی بھی جگہ حادثات اور قدرتی آفات کے موقع پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد دینے والے ممالک میں سعودی عرب کا شمار میں پہلے نمبر پر ہوتا ہے، اس لئے اس مملکت کو’’مملکت انسانیت‘‘کہا جاتا ہے۔ سعودی عرب، سعودی ترقیاتی فنڈ کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کو معاشی امداد اور مالی قرضے بھی فراہم کرتا ہے، حال ہی میں سعودی ترقیاتی فنڈ نے آزاد کشمیر مظفر آباد میں ( چلہ بانڈی پتیکا روڈ ) کے منصوبے کے لئے پاکستان کو آسان شرائط پر 20 سال کے لئے 20 کروڑ62 لاکھ50 ہزار سعودی ریال مالیت کے قرضے کی منظوری دی ہے۔

سعودی حکومت اور عوام کے تعاون سے پاکستان میں جاری مذکورہ بالا منصوبے حال ہی کی بات ہیں جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستانی عوام سعودی حکومت کے بے شمار منصوبوں سے مستفید ہو رہے ہیں اور وہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے دعا گو ہیں۔اللہ تبارک وتعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں معاملات کا صحیح فہم عطا کرے، ہم میں اتفاق واتحاد پیدا کرے اور ہم سب کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے،. آمین!

مزید : کالم