کاش ہم سچ سامنے لائیں!

کاش ہم سچ سامنے لائیں!
کاش ہم سچ سامنے لائیں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں اگر سچ سامنے لانے کا کوئی مستند طریقہ رائج ہو جائے تو ہمارے بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے، جس معاشرے میں سچ کو چھپانے پر زور دیا جاتا ہو اور خود حکومتی ادارے اس میں کردار ادا کرتے ہوں، وہاں سچ کیسے سامنے آ سکتا ہے اور جب سامنے آ تا ہے تو اِسی قسم کی صورت حال پیدا ہوتی ہے، جیسے آج کل نظر آ رہی ہے۔ جب سچ کی تلاش کا سفر کچھوے کی رفتار سے کیا جاتا ہو تو ہرن کی رفتار سے زقندیں بھرتا ہوا جھوٹ کیسے قابو آ سکتا ہے۔

تقریباً اڑھائی سال بعد سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کی رپورٹ سامنے آئی ہے، تو ہا ہا کار مچ گئی ہے۔ یہ سچ اگر ابتدائی تحقیق میں ہی سامنے آ جاتا، تو اتنے شکوک و شبہات نہ ابھرتے، الزامات کی لمبی چوڑی پٹاری بھی نہ کھلتی۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ایک بڑے سانحے پر ہمارے اداروں نے برسوں چپ سادھے رکھی ۔ کیا کسی دوسرے مُلک میں اڑھائی سو سے زائد افراد کی اس طرح موت پر سچ کو سامنے نہ لانے کا رویہ اختیارکیا جا سکتا تھا۔ یہ کیا نااہلی ہے کہ جب تک کوئی ملزم گرفتاری کے بعد کسی جرم کا اعتراف نہیں کرتا اُسے جرم ہی قرار نہیں دیا جاتا۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے تحقیق پر مامور ادارے ہر سانحے کے بعد حقائق کو سامنے لانے کی سنجیدہ کوششیں کریں۔ اگر سانحۂ بلدیہ ٹاؤن شروع دن سے ایک تخریب کاری کی واردات محسوس ہو رہی تھی، تو پھر اس پرکام کیوں نہیں کیا گیا۔ کیوں مصلحت کی چادر ڈالی گئی، تاوقتیکہ ایک ملزم گرفت میں نہیں آیا، جس نے تمام حقائق اُگل دیئے۔

بات صرف بلدیہ ٹاؤن ہی کی نہیں، یہاں ہر ایسے بڑے واقعہ کو تاریخ کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ تاریخ جب کبھی گرد جھاڑ کر حقائق کو سامنے لاتی ہے، تو تب یہ عقدہ کھلتا ہے کہ کتنا بڑا ظلم ہو گیا ہے۔ سانحۂ بلدیہ ٹاؤن کی طرح سانحۂ ماڈل ٹاؤن کا بھی سچ سامنے نہیں آیا۔ کمال کی ہوشیاری تو یہ ہے کہ درجنوں کیمرے بھی تمام تر مناظر قلمبند کرنے کے باوجود سچ کو ثابت نہیں کر سکے۔ اسے ایسے شکوک اور جھوٹ کے پردوں میں چھپا دیا گیا ہے کہ کوئی سرا ہی نہیں مل رہا۔ اب آپ12مئی کے واقعہ ہی کو لے لیں۔ کراچی میں اُس دن جو خون کی ہولی کھیلی گئی وہ ریاست کی بہت بڑی ناکامی تھی۔ پورے شہر میں قاتل دندناتے پھر رہے تھے اور لاشیں گر رہی تھیں۔ اب کئی سال کے بعد رینجرز نے رفیق راجپوت نامی ایک شخص کو گرفتار کر کے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس قتل وغارت گری میں ملوث تھا۔ لگتا ہے وہ بھی اتفاقیہ ہی ہتھے چڑھ گیا ہے۔ وگرنہ ہمارے تحقیق کار اداروں میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ سائنٹیفک بنیادوں پر تفتیش کر کے اصل ملزموں تک پہنچیں یہ بڑی تشویشناک بات ہے۔ فرانس میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملہ ہوا، تو اسے تفتیشی اداروں نے گیلے کپڑے کی طرح دیوار پھر نہیں ڈال دیا، بلکہ چند دِنوں میں تفتیش کا عمل مکمل کر کے پوری منصوبہ بندی کا کھوج لگا لیا۔ہمارے ہاں کچھ تو سیاسی مصلحتوں اور کچھ قومی اداروں کی بزدلی یا نااہلی کے باعث سچ سامنے ہی نہیں آتے۔ اس میں زیادہ تر قصور ان حکمرانوں کا ہے جو اقتدار کی خاطر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ 12مئی کا واقعہ پرویز مشرف دور میں ہوا تھا۔ ویسے تو وہ اپنے دورِحکومت کو گڈ گورننس کا اعلیٰ نمونہ قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس قتل و غارت گری کے بعد مجرمانہ خاموشی اور صرفِ نظر سے کام لیا، بلکہ وہ اسے اپنے لئے عوامی طاقت کا مظاہرہ قرار دیتے رہے اور انہوں نے اسی دن اسلام آباد کے جلسے میں مُکا لہرا کر اپنی طاقت کا اظہار بھی کیا۔ بعد میں بھی مختلف جماعتوں کی طرف سے اس سانحے کا سچ سامنے لانے کے مطالبات کئے جاتے رہے، مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

جب کسی قوم کے امراء سچ کو صرف اپنے مقاصد کے لئے چھپانا شروع کر دیتے ہیں، تو وہ قوم ایک گہری دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہے۔ یہاں اکثر اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے والے یہ بھڑک ضرور مارتے ہیں کہ ان کے پاس راز ہیں، جو وقت آنے پر سامنے لائیں گے۔ کوئی ان شاطروں سے پوچھے کہ مناسب وقت کون سا ہوتا ہے۔ سچ کو تو بس سچ جان کر سامنے لانا چاہئے۔ یہ تو سیدھی سادی بلیک میلنگ ہے کہ آپ بہت سی باتوں کے راز دان ہونے کا دعویٰ تو کریں، لیکن سامنے نہ لائیں اور اس کے بعد مفاد پورا ہونے پر چپ سادھ کے بیٹھ جائیں۔پچھلے ڈیڑھ سال سے انتخابات میں دھاندلی کا شور مچا ہوا ہے۔ سیاسی سطح پرایک بے یقینی کی فضا ہے اور ہر لمحہ یہ دھڑکا لگا ہے کہ کچھ ہو جائے گا۔ کیا مُلک میں کوئی بھی ایسا فورم نہیں ہے کہ جو اس حوالے سے سچ کو سامنے لا سکے۔ الیکشن کمشن، سپریم کورٹ، ٹریبونلز، خفیہ ادارے اور نجانے کیا کیا کچھ ہمارے پاس موجود ہے، موجود نہیں تو وہ سچ ہے، جو عنقا ہو چکاہے۔ یہ آج کی بات نہیں، اصل میں ہم نے سچ کو سامنے لانے کی روایت ہی قائم نہیں ہونے دی۔ جھوٹ کی ملمع کاری نچلی سطح سے شروع ہو کر اوپر کی سطح تک جاتی ہے۔ یہاں بڑے سے بڑا واقعہ بھی ہو جائے تو اگلے دن اس پرمٹی ڈال دی جاتی ہے۔ جب اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں مبینہ طور پر مارا گیا تھا، تو پوری دنیا اس پرحیران رہ گئی تھی کہ اتنا ہائی پروفائل آدمی کیسے ایبٹ آباد کے ایک عام سے علاقے میں رہتا رہا۔ ہمیں امریکیوں نے جو داستان سنائی ہم نے اُس پر یقین کر لیا، کوئی شہادت مانگی اور نہ اسامہ کی موجودگی کا ثبوت طلب کیا۔ امریکہ نے تو اس کے حوالے سے ایک کہانی گھڑ کر دنیا کو سنا دی، لیکن ہماری پوزیشن اس کیس کے حوالے سے کیا تھی، اس کا فیصلہ آج تک نہیں ہو سکا۔

تاریخ کے واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان میں سچ کو صرف عوام سے چھپایا جاتا ہے، وگرنہ خواص کو اس کے بارے میں بخوبی علم ہوتا ہے، عوام درحقیقت اشرافیہ کی نظر میں اس قابل ہی نہیں کہ انہیں سب کچھ بتایا جائے۔ عوام کے سامنے سچ صرف میڈیا کے ذریعے آتا ہے، مگر یہ ادھورا سچ ہوتا ہے،کیونکہ سرکار اس پر مہر تصدیق ثبت نہیں کرتی۔ جیسے آج کل کرپشن کی کئی کہانیاں سامنے لا رہا ہے۔ سابق چیئرمین نیب سیف الرحمن کے میگا پراجیکٹس میں بطور پارٹنر شامل ہونے پر سوالات اٹھا رہا ہے، لیکن حکومت کا کوئی فرد دستاویزی ثبوت اور ایم او یوز پر اُن کے دستخط ہونے کے باوجود اُن کے ساتھ کسی بھی معاہدے سے انکاری ہے۔ فواد حسن فواد جو وزیراعظم کے ایڈیشنل سیکرٹری ہیں، ایک ٹی وی ٹاک شو میں بار بار یہ تکیہ کلام دہرا رہے تھے کہ وہ پوری ذمہ داری سے کہہ رہے ہیں کہ کراچی سے لاہور تک موٹروے کے پراجیکٹ میں کوئی فرضی کمپنی ملوث نہیں، بلکہ جن کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا جا رہا ہے وہ دُنیا کی معروف کمپنیاں ہیں۔ مَیں ان کی باتیں سُن کر حیران ہوتا رہا۔ ایک بیورو کریٹ کیسے پوری حکومت کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ وہ کیسے یہ کہہ سکتا ہے کہ پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں، وہ کس طرح اتنی بڑی ذمہ داری لے سکتے ہیں اور اگر ان کی بات غلط ثابت ہوتی ہے تو اس ذمہ داری کا دعویٰ کس پر کیا جائے گا۔ پاکستان میں کبھی کوئی مالی سکینڈل اپنے انجام کو نہیں پہنچا۔ یہاں سرے محلوں جیسے سکینڈلز بھی بنتے رہے اور حدیبیہ پیپر مل کے کیس بھی کھلے، مگر سچ آخر تک سامنے نہیں آیا۔ البتہ یہ ہوا کہ اُن سب پر وقت کی گرد پڑ گئی اور قوم اس تماشے کو خاموشی سے دیکھتی رہی۔

مجھے تو سب مسئلوں کی ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ ہم نے جھوٹ کو اپنی زندگی، حکومت اور طرزِ حکمرانی کا جزو بنا لیا ہے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک سب کے سب سچ کو دبانے پر لگے ہوئے ہیں، ابھی حال ہی میں پٹرول کا بحران پیدا ہوا تو سب انگشت بدنداں رہ گئے کہ آخر یہ کیسے ہوا؟ بیٹھے بٹھائے اتنی بڑی آفت کیسے آ گئی۔ بہت سی باتیں ہوئیں، بہت سے الزامات لگے، وزراء آپس میں بھی ایک دوسرے کے خلاف بولے، کمیٹیاں بنیں، تحقیق کے ڈول ڈالے گئے، مگر سچ آج تک سامنے نہیں آیا، بس قوم کو یہ خوشخبری سنا دی گئی ہے کہ آئندہ تیل کا بحران پیدا نہیں ہو گا۔ ان کی اذیتوں اور پریشانیوں کو معمول کی چیز سمجھ کر بھلا دیاگیا۔کیا اس اندازِ حکمرانی اور اس طرح کی مصلحت پسندی کی موجودگی میں ہم آگے بڑھ سکتے ہیں؟ میرا جواب نفی میں ہے،جن قوموں نے سچ کو دبایا نہیں، بلکہ اس کا سامنا کیا ہے، وہی دنیا میں سرخرو ہوئی ہیں ہم سچ کے بغیر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ انسان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اُسے کہا جائے کہ وہ منزل پر پہنچ جائے، اُسے سوائے ٹھوکروں کے اور کیا ملے گا،ہماری طرح!

مزید : کالم