فوجی عدالتوں کے قیام سے بھی پہلے یہ کام کریں!

فوجی عدالتوں کے قیام سے بھی پہلے یہ کام کریں!
فوجی عدالتوں کے قیام سے بھی پہلے یہ کام کریں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کا جنون پاکستان میں کہاں تک جا پہنچا تھا اس کے مظاہر خودکش دھماکوں کی صورت میں ملک میں جا بجا ملتے رہے۔ اس ناسور کی جڑوں تک پہنچنے کے لئے جس حکمت و تدبر کی ضرورت تھی وہ قوم کو درپیش دوسرے فوری مسائل کی گرد میں اٹا رہا۔بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، کرپشن، اخلاقی بے راہ روی، سیاسی شعبدہ بازی اور میڈیا کی چکاچوند نے مذہبی انتہا پسندی کو ہمارے عقبی آنگن میں دھکیلے رکھا۔ 16دسمبر 2014ء کو پشاور میں جو سانحہ رونما ہوا، وہ پاکستان کی سماجی اور سیاسی تاریخ میں ایک واٹرشیڈ کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے۔

پریس میڈیا میں کالم نگاری اور مضمون نویسی کے فرائض انجام دینے والے زیادہ تر شہروں اور قصبوں میں رہتے ہیں لیکن ہماری دیہاتی آبادی، شہری آبادی سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔ اعدادوشمار کی رو سے 30فیصد لوگ شہروں میں اور 70فیصد گاؤں میں رہتے ہیں۔ مذہبی شدت پسندی کے فروغ میں بھی یہی تناسب کس طرح کارفرما تھا، اس کا اندازہ مجھے دو تین برس پہلے ہوا۔

ہوا یہ کہ میرا ایک کزن کسی گاؤں سے اپنے ایک دوست کے ساتھ مجھے ملنے آیا اور کہا کہ یہ لڑکا کسی مجاہد بٹالین میں سپاہی ہے۔ اس کے کچھ واجبات، فوج کی طرف نکلتے ہیں، غریب آدمی ہے، اس کی مدد کیجئے۔ ازراہِ اتفاق اس سپاہی کی پلٹن ، لاہور میں مقیم تھی۔ مَیں نے بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیااور اس طرح اس کے بقایا جات کی ادائیگی کا مسئلہ حل ہو گیا۔ باتوں باتوں میں مجھے معلوم ہوا کہ سپاہی اکرم ویسے تو پرائمری پاس نوجوان ہے۔ لیکن اس کا مذہبی مطالعہ پوسٹ گریجویٹ لیول کا ہے۔ وہ کسی مسئلے کا ذکر کرتا تو اس کی تشریح و تعبیر میں بڑی ثقہ مذہبی تصنیفات کے حوالے دیتا اور پھر دیتا ہی چلا جاتا ۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ ایک پرائمری پاس نوجوان جس کا تعلق ایک نیم عسکری تنظیم (مجاہد بٹالین) سے بھی ہے، وہ مذہب کے موضوع پر اتنا ’’عالم فاضل ‘‘ کس طرح بن گیا۔ کریدنے پر معلوم ہوا کہ اس کے گاؤں میں یہ ’’وبا‘‘ عام ہے!

اس کی زبانی معلوم ہوا کہ چار پانچ سو گھروں پر مشتمل اس کے گاؤں میں چھ مسجدیں اور دو امام بارگاہیں ہیں۔ دیو بندیوں، سُنیوں اور شیعوں کی ان عبادت گاہوں میں دن رات ’’آوازۂ حق‘‘ بلند رہتا ہے۔ یہی کام چونکہ لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی ہو رہا تھا اس لئے مجھے یہ سن کر چنداں تعجب نہ ہوا۔ لیکن جب اس نے یہ کہا کہ ہر ماہ گاؤں میں مبلغین اور واعظین کی ایک بڑی جماعت آتی ہے جس میں خاتون واعظ بھی ہوتی ہیں تو میرا اشتیاق بڑھا اور میں نے پوچھا کہ خواتین واعظ کیا کرتی ہیں؟۔۔۔ اس کا جواب حیران کن تھا:

’’سر! یہ خواتین مبلغ اور واعظ، مردوں سے کہیں آگے ہیں، ان کو بزعمِ خود اسلام کی ساری تاریخ ازبر ہے۔ بات بات پر احادیث کے حوالے دیتی اور روایات کا انبار لگا دیتی ہیں۔ خوش گلو اور خوش رو ہونے کی وجہ سے گاؤں کی ساری خواتین ان کا وعظ سننے کے لئے اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ عید گاہ کے چاروں طرف پردے تان دیئے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے لاؤڈ سپیکر اور ڈیک لگ جاتے ہیں اور سٹیج سج جاتی ہے‘‘۔

’’کیا وہ چندہ بھی مانگتی ہیں؟‘‘۔۔۔ میں نے پوچھا

’’سر! ان کو چندہ مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جلسہ گاہ کے عین درمیان میں ایک بڑا سا پلنگ بچھا دیاجاتا ہے اور اس پر ایک سفید چادر ڈال دی جاتی ہے۔ دورانِِ وعظ حاضرین اس چادر پر نوٹ نچھاور کرتے جاتے ہیں۔ اس بخشیش کا آغاز ہمارے گاؤں کی نمبردارنی کرتی ہے۔ جوں جوں جلسہ ’’گرم‘‘ ہوتا ہے، واعظ کی خوش بیانی اور خوش نوائی بھی تیز تر ہوتی جاتی ہے۔ پھر اچانک خاتون مبلغ اس سوز و ساز سے نغمہ سرا ہوتی ہے کہ سننے والی اکثر خواتین آنسو بہانے پر اتر آتی ہیں۔ باقاعدہ نعرہ ہائے تکبیر لگتے ہیں اور اس کا نقطہ ء عروج وہ لمحات ہوتے ہیں جب خاتون واعظ خود آبدیدہ ہو کر ایسی رقت آمیز دھن میں خطاب کرنے لگتی ہیں کہ بہت سی لڑکیاں اور خواتین اپنے کانوں کی بالیاں اور ہاتھوں کے طلائی کنگن تک اتار کر پلنگ کی چادر پر پھینک دیتی ہیں۔۔۔

’’پھر ؟‘‘

’’پھر اسی شام مخلوط واعظین کا یہ طائفہ ہمارے گاؤں سے رخصت ہو کر کسی اور گاؤں کا رخ کرتا ہے۔ ان واعظین کے پاس اپنی گاڑیاں ہوتی ہیں جن کے اندر دونالی اور یک نالی بندوقیں اور رائفلیں تک موجود ہوتی ہیں۔‘‘

سپاہی اکرم کی یہ باتیں میرے لئے انکشاف تھیں۔ میں نے کہاکہ کبھی موقع ملا تو میں بھی تمہارے گاؤں آکر اس ’’منظر‘‘ کا تماشا کروں گا۔ اگلی بار وہ جب یونٹ سے چھٹی پر گاؤں جانے لگا تو مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ بوجوہ مَیں تو نہ جا سکا۔ لیکن جب وہ چھٹی کاٹ کر آیا تو پھر ملاقات کی۔ اور ایک کیسٹ بھی مجھے پیش کی۔ وہ کیسٹ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔

کیسٹ میں بند اس وعظ کا موضوع ہے ’’یتیموں کے ساتھ سلوک‘‘ ۔۔۔سچی بات یہ ہے کہ واعظ نے پنجابی زبان میں خوش الحانی کا حق ادا کر دیا ہے۔ قرآن و احادیث کے حوالے اتنے مدلل ہیں کہ پنجابی زبان میں مذہب کی تشریح اور اسلامی تاریخ کے واقعات سامع کو اپنے ساتھ بہا لے جاتے ہیں۔۔۔ لیکن پھر اچانک پانسہ پلٹتا ہے اور کیسٹ کا دوسرا نصف حصہ موضوع سے ہٹ کر بریلوی مخالف اور نفرت انگیز تقریر (Hate Speech) کا روپ دھار لیتا ہے۔دراصل تقریر کا یہی حصہ وعظ کا اصل مقصود و مدعا ہے۔ ’’یتیموں کے ساتھ سلوک‘‘ کی شوگر کوٹنگ جب اترتی ہے تو تب معلوم ہوتا ہے کہ گولی کتنی کڑوی تھی!۔۔۔

میں نے سپاہی اکرم سے پوچھا کہ یہ کیسٹ کہاں سے دستیاب ہے؟ اس نے کہا کہ سڑک پر جتنے بس سٹاپ ہیں ان پر ایک دکان ان CDs اور کیسٹوں کی بھی ہوتی ہے۔ لوکل بسوں اور ویگنوں میں یہ کیسٹیں عام چلائی جاتی ہیں اور اگر کوئی ڈرائیور ایسا نہیں کرتا تو سواریاں خود فرمائش کرکے کہتی ہیں کہ فلاں مولوی صاحب کی فلاں کیسٹ لگاؤ!

مجھے لاہور سے قصور، دیپالپور، پاک پتن، وہاڑی، میلسی، لودھراں، رحیم یارخان اور صادق آباد تک سفر کرنے کا اتفاق رہتا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ سپاہی اکرم کیسٹوں کی جن دکانوں کی بات کرتا تھا، وہ واقعی موجود تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری دیہی آبادی میں مذہبی شدت پسندی کا یہ ناسور کتنی گہرائی تک چلا گیا ہے۔

اور اب شہروں کی طرف آتے ہیں۔۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر رکشاؤں کی پشت پر ایک بڑا سا اشتہار چسپاں ہوتا ہے جس پر فرشتہ صورت، پُرنور تمتماتے چہروں والے باریش نوجوان اور ادھیڑ عمر واعظین کی تصاویر لگی ہوتی ہیں۔ ان میں کئی نعت گو ہوتے ہیں اور کئی پیرانِ طریقت۔ ان کے ناموں سے پہلے ان کے القابات لکھنے لگوں تو باقی کالم ختم ہو جائے گا۔

لاہور صدر میں بھی ہر ماہ رات کو کسی نہ کسی سڑک کو بند کرکے قمقموں کی قطاریں لگا دی جاتی ہیں۔ دریاں اور چاندنیاں بچھ جاتی ہیں، ڈیک لگا دیئے جاتے ہیں اور سٹیج سجا دی جاتی ہے۔ گیارہ بارہ بجے شب یہ ’’محفلِ وعظ‘‘ شروع ہوتی ہے اور اذانِ فجر تک جاری رہتی ہے۔ اِدھر اُدھر کا کوئی محلے دار اس لئے مخل ہونے کی جرات نہیں کرتا کہ نعت گوئی سے روکنے والا اور خدا کا نام لینے سے ٹوکنے والا نعوذ باللہ پاکستان میں کہاں رہ سکتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں کہنا چاہوں گا کہ مذہب کے چند نام نہاد ٹھیکے داروں نے اسلام کے نام پر پورے معاشرے کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ جی ٹی روڈ یا کسی بھی بڑی روڈ سے گزرتے ہوئے آپ نے سنا ہوگا کہ لبِ سڑک واقع بہت سی مساجد سے بیک وقت اذانیں بلند ہو رہی ہوتی ہیں۔60،70 کچے پکے گھروں والے گاؤں میں دو تین مسجدوں کا ہونا کوئی تعجب انگیز بات نہیں۔ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ گاؤں کے مکین اور راہ گزرتے لوگ اپنی گاڑیوں میں سفر کرتے اس آوازِ اذاں کی اثر و تاثیر سے بیگانہ رہتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ہم پاکستانیوں کی ترجیحات کیا ہیں؟۔۔۔ گیس، بجلی، پانی بے شک نہ ہو، لیکن مسجدوں کے مینار جگہ جگہ نظر آنے چاہئیں۔ نماز کے معانی بیشک نہ آتے ہوں، عربی متن فرفر آنا چاہیے۔ عمل بے شک مفقود ہو، تھیوری موجود ہونی چاہیے۔ ہم پاکستانیوں کا اسلام یہی ہے۔۔۔ بس اسی قسم کا اسلام ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں پھیل رہا ہے اور اسلام کی یہی برانڈ ہے جس کی پاکستان کی 70فیصد آبادیوں میں ترویج کی جا رہی ہے۔

اس مرض کا علاج وہی ہے جو ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ میں 20نکاتی ایجنڈے پر مشتمل ہے لیکن جس کو ہم نے دو ماہ گزر جانے کے بعد بھی بروئے عمل نہ لانے کا عہد کر رکھا ہے۔ کسی بڑی بلڈنگ کے ہال میں اگر اندھیرا زیادہ ہو تو زیادہ روشنی کی ضرورت ہوتی ہے وگرنہ جو ذی روح اس ہال میں داخل ہوگا، خود اندھا ہو جائے گا۔16دسمبر کے بعد دو ماہ گزر رہے ہیں ہم نے صرف 12مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے ہیں۔ یعنی 6مقدمات فی ماہ کی یہی رفتار اگر قائم رہی تو 24ماہ (دو برس) میں 144مقدمات فوجی عدالتوں تک بھیجے جائیں گے۔ دسمبر میں پشاور سانحے کے فوراً بعد میڈیا پر بتایا گیا تھا کہ 8000سے زیادہ مقدمات ایسے ہیں جن میں مجرموں کو نہ صرف سزائیں سنائی جا چکی ہیں بلکہ ان کی اپیلیں تک خارج ہو چکی ہیں اور وہ اپنے منطقی انجام کے منتظر ہیں۔۔۔ دوسرے لفظوں میں 8000مقدمات میں سے فوجی عدالتوں کی دو سال کی آئینی مدت پوری ہونے تک صرف 144مقدمات ہی بغرض سماعت وہاں پہنچیں گے اور بالفرض اگر زیادہ تیر مارا گیا تو یہ تعداد 244یا 544یا 844ہو جائے گی۔۔۔ اس سے کیا ہوگا؟

یہ فوجی عدالتوں کا ذکر درمیان میں ویسے ہی آ گیا۔ کالم کا مدعا یہ سوال تھا کہ پاکستان کے قریہ قریہ اور شہر شہر میں جس مذہبی شدت پسندی کو ہم نے گزشتہ برس ہا برس سے پروان چڑھا رکھا ہے اس کا ازالہ کب اور کیسے کیا جائے گا؟۔۔۔ اس کا روڈ میپ کیا ہوگا؟۔۔۔ اس کے تدارک کے لئے کون سی نئی ’’ فوجی عدالتیں‘‘ بنائی جائیں گی؟۔۔۔ دیہاتوں ،قصبوں اور شہروں میں مذہبی جلسے جلوسوں اور محافل درود و نعت کے نام پر کی جانے والی انتہا پسندیوں کا قلع قمع کیسے کیا جائے گا؟۔۔۔

ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ وہ اس طرف دھیان دیں۔ یہ ایک مزمّن اور مہلک مرض ہے۔فوجی عدالتیں اور ان میں بھیجے جانے والے چند مقدمات یا ان کے فیصلے اس مرض کا علاج نہیں ہیں۔ مرض کی اولیں علامات کی طرف توجہ دیں۔ مساجد اور مدرسوں کا نظام ٹھیک کریں۔ یہ ایک نہایت مشکل، مسلسل اور جان لیوا ٹاسک ہے۔ اس راہ میں ان گنت مشکل اور سخت مقام آئیں گے۔ اگر منزل تک پہنچنا ہے تو فوجی عدالتوں کے قیام کی طرف کم اور ان عدالتوں کی ضرورت کی وجوہات کی طرف زیادہ توجہ دیجئے۔

مزید : کالم