منی ڈیم اور ڈرپ ایریگیشن پوٹھوہار کی زراعت کے لئے لائف لائن ہیں: ڈاکٹر فرخ جاوید

منی ڈیم اور ڈرپ ایریگیشن پوٹھوہار کی زراعت کے لئے لائف لائن ہیں: ڈاکٹر فرخ ...

 لاہور( کامرس رپورٹر) ڈرپ ایریگیشن اور منی ڈیم خطہ پوٹھوہار کی زراعت کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔کچھ ہی عرصے میں پوٹھوہار کا علاقہ زیتون اور انگور کے باغات کا بڑا مرکز بن جائے گا۔علاقے کی آب و ہوا زیتون اور انگور کی نشوونما کے لئے نہایت موزوں ہیں اور محکمہ زراعت کسانوں کو حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے معاونت فراہم کررہا ہے ۔ تیل دار اجناس کی کاشت کو فروغ دے کر خوردنی تیل پر خرچ ہونے والے سالانہ 3ارب ڈالر کا کثیر زر مبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے پوٹھوہار ریجن کے تین روزہ دورے کے بعد آج یہاں زراعت ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت ڈرپ ایریگیشن کے لئے انتہائی معقول سبسڈی فراہم کررہا ہے جس سے کاشتکاروں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔پوٹھوہار ریجن میں منی ڈیم اور ڈرپ ایریگیشن کے نظام کے باعث سبز انقلاب آرہا ہے ۔علاقے کے لوگ خوشحال ہورہے ہیں اور زراعت کو فروغ مل رہا ہے ۔ ڈاکٹر فرخ جاوید نے بتایا کہ ملک ہر سال تقریبا 3ارب ڈالرکی لاگت سے خوردنی تیل درآمد کرتا ہے ، اگر زیتون اور تیل دار اجناس کی کاشت میں متواتر اضافہ کیا جائے تو کھانے کے تیل پر خرچ ہونے والا زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔  انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت کسانوں کو ڈرپ ایریگیشن اور منی ڈیم بنانے میں 60فیصد تک سبسڈی فراہم کررہا ہے۔ یہ کاشتکاروں کے لئے سنہری موقع ہے کہ پوٹھوہار ریجن میں سرمایہ کاری کریں اور بے پناہ منافع کے ساتھ ساتھ ملکی زراعت کو نئی بلندیاں عطا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ بارانی علاقے میں زراعت کی ترقی کے لئے محکمہ 5 ہزار منی ڈیمز تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کر رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ 89 ملین روپے سے بارانی علاقوں کی ترقی کے لئے کاشتکاروں میں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ محکمہ زراعت پوٹھوہار کے علاقے میں زیتون، انگور، مالٹا، بادام، آڑو وغیرہ کے بیج اور پودے کاشتکاروں میں زمین اور موسم کے مطابق فراہم کر رہا ہے۔

مزید : کامرس