اقتصادی سرگرمیاں مستحکم ہونے سے غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے منافع میں اضافہ

اقتصادی سرگرمیاں مستحکم ہونے سے غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے منافع میں ...

اسلام آباد (اے پی پی) گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال2014-15ء میں جولائی تا دسمبر2014ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران غیرملکی سرمایہ کاروں نے 37 فیصد زائد فنڈز اپنے ممالک کو واپس بھیجے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی تا دسمبر کے دوران ملک میں سرمایہ کاری کرنے والے غیرملکی سرمایہ کاروں نے 790.8 ملین ڈالر اپنے ممالک کو منتقل کئے ہیں جبکہ گذشتہ مالی سال2013-14ء کے اسی عرصہ کے دوران غیرملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے 577.4 ملین ڈالرکے منافع جات اپنے اپنے ممالک کو منتقل کئے تھے۔ بین الاقوامی کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ملک میں اقتصادی سرگرمیاں مستحکم ہونے کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں کومنافع حاصل ہورہا ہے جو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری کے بعد بیرون ممالک بھیجے گئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ملک کی تجارتی سرگرمیوں کی بہتری سے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے منافع جات کی بیرون ممالک منتقلی بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتصادی بحالی پر خصوصی توجہ دی ہے اور ملک کی بیمار معیشت کی بہتری کیلئے خصوصی اقدامات کئے ہیں جس کے نتیجہ میں بڑے صنعتی و کاروباری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران بیرون ممالک کو منتقل کی گئی ۔ مجموعی رقوم میں سے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع کی مد میں647.2 ملین ڈالر جبکہ پورٹ فولیوانویسٹمنٹ پر حاصل ہونے والے منافع جات کی مد میں 143.6 ملین ڈالر بیرون ملک بھیجے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہمنافع جات کی منتقلی کمیونیکیشن کے شعبہ سے کی گئی ہے اور شعبہ کے غیرملکی سرمایہ کاروں نے چھ ماہ کے دوران159.5 ملین ڈالر جبکہ مالیاتی شعبہ کے اداروں نے 128.2 ملین ڈالر اپنے ممالک کو منتقل کئے ہیں۔

مزید : کامرس