پرائمری سکولز کو \'گود \'لینے کا تجربہ ماضی میں بھی کیا گیا تھا، سجاد اکبر

پرائمری سکولز کو \'گود \'لینے کا تجربہ ماضی میں بھی کیا گیا تھا، سجاد اکبر

 لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی، امتیاز احمد عباسی ، چوہدری محمد سرفراز، رانا لیاقت علی، جام صادق، امتیاز طاہر، ملک سجاد اختر اعوان، عبدالقیوم راہی، رانا انوار اور رحمت اللہ قریشی و دیگرنے کہا ہے کہ پرائمری سکولز کو \'گود لینے کا تجربہ ماضی میں بھی کیا گیا تھا لیکن محکمہ تعلیم کے ضلعی افسرن کے عدم دلچسپی کے باعث ناکام ہو گیا کیونکہ حقائق چھپانا اور غلط اعداد و شمار ظاہر کرنا محکمہ تعلیم کے افسران کا وطیرہ بن چکا ہے اور اپنی پوسٹوں کو بچانے کیلئے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہیں لہٰذا اس منصوبے کو دوبارہ سوچ سمجھ کر شروع کیا جائے اور اس کیلئے ہم سے مشاورت کی جائے تاکہ اس کے دور رس نتائج حاصل ہوسکیں ورنہ ایسے پرائمری سکول جو پہلے ہی بہترین اور اچھے نتائج دے رہے ہونگے وہ افسران خود گود لے لیں گے اور باقی دوسرے لوگوں کو سونپ دئیے جائیں گے تمام پرائمری سکولز کو \'\'گود دینے کی بجائے پہلے مرحلہ پر ایسے سکولوں کو \'گود \' دیا جائے جو ضلع میں بارڈر ایریا میں واقع ہوں وہاں پر اساتذہ سمیت بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں۔     جہاں تک ہائی اور مڈل سکول ہیڈماسٹرزکو پرائمری سکولز \'گود\' (Adoption ov Schools) لینے کا کہا جارہا ہے اس سے اُن کے اداروں کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔لہذا وزیر اعلی پنجاب ، وزیر تعلیم پنجاب اور سکرٹری سکولز پنجاب سے مطالبہ ہے کہ اس منصوبہ پر جلد بازی میں عمل درآمد نہ کروایا جائے بلکہ اس کے لئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔ وگرنہ یہ منصوبہ بھی محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران کی روایتی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھ جائے گا اور مورد الزام پرائمر ی اساتذہ کو ٹہرا کر پیڈا ایکٹ کے تحت سخت سزائیں دی جائیں گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 4