اہلسنّت و الجماعت قومی ایکشن پلان کی بھرپور حمایت کرتی ہے، ابوالخیر محمد زبیر

اہلسنّت و الجماعت قومی ایکشن پلان کی بھرپور حمایت کرتی ہے، ابوالخیر محمد ...

لاہور( نمائندہ خصوصی) جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کے صدر ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیرنے اسلام آباد میں عید گاہ شریف کے سجادہ نشین پیر نقیب الرحمن اور جماعت اہلسنّت کے مرکزی ناظم اعلیٰ سید ریاض حسین شاہ اور تنظیم المداس کے سرپرست اعلیٰ سید حسین الدین شاہ صاحب اور لاہور میں پیر معصوم شاہ ،پیر غلام رسول اویسی،امجد چشتی،صاحبزادہ مصطفےٰ اشرف رضوی ،پیر اختر رسول ،علامہ طاہر تبسم،علامہ خادم حسین خورشیدازھری سے ملاقاتیں کیں اور ملک کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی ان رہنماؤں نے اس بات پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف حکومت نے جوقومی ایکشن پلان تشکیل دیا ہے اور ان کے خلاف جو آپریشن کیا جارہا ہے اہلسنت والجماعت کے تمام اکابرین اور تمام جماعتیں اس کی بھرپور حمایت کررہی ہیں لیکن افسوس اہلسنت والجماعت کے سینکڑوں علماء خطباء اور نعت خواں حضرات کو ایمپلی فائر ایکٹ کے بہانے درودوسلام پڑھنے پر بھی گرفتار کیا جارہا ہے ان پر جھوٹے مقدمات قائم کئے جارہے ہیں،اکابر صوفیاء اور علماء کی وہ کتابیں جو غیر متنازعہ ہیں اس پر بھی اکیسویں ترمیم کے بہانے پابندیاں لگا کراہلسنت کو مشتعل کیا جارہا ہے۔    بلکہ ایسامحسوس ہوتا ہے کہ حکومت میں شامل دھشت گردوں کے بعض سرپرست اس قسم کے اقدامات کر کے اس آپریشن کو ناکام کرنا چاہتے ہیں اور اصل دھشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں حکومت کو اسکا فوری نوٹس لینا چاہئے اور حکمراں اگر اس آپریشن میں واقعی مخلص ہیں تو ان کو علماء ،خطباء پر بنائے گئے جھوٹے مقدمات فوری واپس لینے چاہئے جن کو گرفتار کیا ہے ان کو فوری رہاکرنے کا اعلان کریں اور اذان ،کے وقت درود وسلام پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں اس کا واضح اعلان کریں تاکہ اس بہانے پولیس مساجد کے علماء خطباء اور انتظامیہ کو بلاوجہ پریشان نہ کرے ،اکابرین نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے اہلسنت والجماعت کیخلاف یہ زیادتیاں بند نہیں ہوئیں تو جلد اہلسنت والجماعت کی تمام جماعتوں کا ایک اہم اجلاس جلد بلاکراس میں مشترکہ طور پر لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4