بچے کے بالخ ہونے تک کفالت باپ کے ذمے ہوتی ہے،عدالت

بچے کے بالخ ہونے تک کفالت باپ کے ذمے ہوتی ہے،عدالت

لاہور(نامہ نگار)ایڈیشنل سیشن جج ظفراقبال نے باغبانپورہ کی صدف رشید کے حق میں خرچے کی ڈگری بحال رکھتے ہوئے شوہرتنویراحمد کو بچوں کا خرچا 3 ہزار بیوی کا خرچا 2 ہزارروپے دینے کا حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ بچے کے بالخ ہونے تک اس کی کفالت باپ کے ذمے ہوتی ہے عدالت سے صدف رشید کے سابق شوہرتنویراحمد نے سول جج محمد اسلم کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرتے ہوئے حکم امتناعی حاصل کررکھا تھا،عدالت میں یہ کیس 2012سے زیرسماعت تھا ،عدالت میں گزشتہ روز صدف رشید اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئی تو اس نے موقف اختیار کیا کہ اس کا سابق شوہراس کو خرچہ نہیں دے رہا اور حکم امتناعی حاصل کرکے صرف وقت پاس کررہا ہے ،ایک عورت اس مہنگائی کے دور میں کیسے بچے کو پال سکتی ہے۔عدالت سے استدعا ہے کہ سول عدالت نے جو فیصلہ اس کے حق میں جاری کیا ہے اس کو بحال کیا جائے جس پر عدالت نے دونوں وکلا کو بحث کیلئے طلب کیا اور دونوں فریقین کی بحث سننے کے بعد صدف رشید کے حق میں ڈگری جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ شرعی طور پر باپ پر فرض ہے کہ وہ اپنے بچے کی کفالت کرے اگر کسی وجہ سے وہ نہیں رکھ سکتا تو پھر بھی اس کا خرچا دینے لازمی ہے جس کے بعد عدالت نے تنویرکا حکم امتناعی خارج کردیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4