جیل کے قیدیوں کا جدید آلات کے ذریعے جسمانی ریکارڈمرتب کر لیا گیا

جیل کے قیدیوں کا جدید آلات کے ذریعے جسمانی ریکارڈمرتب کر لیا گیا

لاہور(کرا ئم سیل )دہشت گردی ، اغوا ، ڈکیتی ، قتل ، اقدام قتل اور دیگرسنگین وارداتوں میں ملوث ہونے پرجیل جانے والے کوٹ لکھپت اور کیمپ جیل کے تمام قیدیوں اورحوالاتیوں کے ڈی این اے ، فنگر پرنٹ اوردیگر اہم جسمانی علامات حاصل کر کے ریکارڈ مرتب کر لیا گیا ۔بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ افسران کی مشاورت کے بعدایس پی سی آراورعمرریاض چیمہ انسپکٹر سی آر او عرفان ہاشمی اوردیگر سٹاف نے خود کوٹ لکھپت اور کیمپ جیل میں قیدیوں اور حولاتیوں کا ساراریکارڈاکٹھا کیا ۔سنگین مقدمات میں ملوث قیدیوں اور حوالاتیوں کے خون اور تھوک کے نمونہ جات بھی لیے گئے۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کی مشاورت سے جدید آلات کے ذریعے ان کے ڈی این اے حاصل کرکے قیدی اورحوالاتی کے جسم پر دیگر نشانات کا ریکارڈ بھی مرتب کر لیا گیا ہے۔ اس ریکارڈ کے بعد اگرکوئی ملزم جیل سے رہا ہو بھی جائے تودوبارہ پکڑے جانے یا کسی بڑی واردات سے ملنے والے فنگر پرنٹس سب سے پہلے اس ریکارڈ سے ملائے جائیں گے جس سے فوری پتہ چل جائے گا کہ ملزمان کون ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہرشخص کا ڈی این اے کسی سے میچ نہیں کرتا اس ریکارڈ کے مرتب کرنے سے جرائم پر کنٹرول میں مدد ملے گی ۔

مزید : علاقائی