سنٹرل پولیس آفس لاہور کی استعداد کار بڑھانے کیلئے اسکی ری سٹرکچرنگ کی منظوری

سنٹرل پولیس آفس لاہور کی استعداد کار بڑھانے کیلئے اسکی ری سٹرکچرنگ کی ...

لاہور(وقائع نگارخصوصی)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، مشتا ق احمد سکھیرا نے سنٹرل پولیس آفس لاہور کی استعداد کار کو بڑھانے ، اس کو مزید خود مختار کرنے، احتسابی عمل کو شفاف بنانے، افسروں اور اہلکاروں کی کارکردگی کو جانچنے اورجرائم کی مستقل مانیٹرنگ، اور ان کے موجودہ Statusکے بارے میںUpdateرکھنے ، پبلک سروس ڈیلیوری کو بہتر کرنے اور نئی پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عملدر آمد کو یقینی بنانے کے لئے اس کی Restructuringکی حتمی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں سنٹرل پولیس آفس لاہور میںآئی جی پنجاب، مشتاق احمد سکھیرا کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس سہیل خان ، ایڈیشنل آئیR&D رائے الطاف، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان ، ایڈیشنل آئی جی PHP جاوید اسلام ، ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب طارق مسعود یسین، ڈی آئی جی محمد طاہر،ڈی آئی جی غلام محمودڈوگر، ڈی آئی جی PHP سلمان چوہدری، ڈی آئی جی عظیم لغاری، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ نواز وڑائچ، ڈی آئی جی اظہر حمیدکھوکھر، ڈی آئی جی غلام رسول زاہدکے علاوہ سی پی او کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ری سٹرکچرنگ کے مطابق سی پی او کے6اہم عہدوں کے Nomenclaturesکو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جس میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کا عہدہ اب ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس اسٹیبلشمنٹ کہلائے گا۔ اسی طرح ایڈیشنل آئی جی R&Dکا عہدہ تبدیل کر کے ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کر دیا گیا ہے۔DIGڈسپلن اینڈ انٹرنل انوسٹی گیشن کا نیا نام DIGاسٹیبلشمنٹ I-ہو گا۔ DIGاسٹیبلشمنٹ کے عہدے کو تبدیل کر کے ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ II-، AIGکیرئیر اینڈ پلاننگ کو AIGکمپلینٹس جبکہ ڈپٹی ڈائر یکٹر ، R&Dکے عہدے کو اے آئی جی Legislative Businessکے ساتھ تبدیل کر دیا گیا ہے۔آئی جی پنجاب نے اس موقع پر تمام سیکشنل ہیڈز کو ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انفرادی طور پر ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ری سٹرکچرنگ کے بعد تمام شعبہ جات میں متعلقہ افسران اور سٹاف کی تعیناتی کر دی گئی ہے اور اس کا مقصد ایک ایسی مشترکہ ورکنگ کو فروغ دینا ہے جس سے کسی بھی شعبے میں تاخیر کو روکنا اور بروقت فیصلوں اور مستقل مانیٹرنگ کے ذریعے پینڈنگ کورٹ کیسز کو حل کرنا ۔ خصوصی طور پر سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو انجام تک پہنچانے کے لئے تفتیشی عمل کو تیز کرنا جیسے اقدامات شامل ہیں۔اس موقع پر آئی جی پنجاب نے افسروں سے کہا کہ وہ سی پی او میں تمام کلیریکل سٹاف کو جو کئی سالوں سے ان عہدوں پر فائز ہیں انہیں ہٹایا جائے اور ان کی جگہ پر دیانت دار اور اچھی کارکردگی کے حامل سٹاف کو لگایا جائے۔اس موقع پر آئی جی کو بتایا گیا کہ ان کے احکامات کے مطابق سی پی او میں اکاؤنٹس برانچ میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور پرانے لوگوں کو ہٹا کر نئے لوگوں کی تعیناتی کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ٹریننگ کے متعلق ہدایات دیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ ریجن لیول پر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انوسٹی گیشن، اینٹی رائٹس، سیکیورٹی اور محرر کورسز لازمی طور پر ٹریننگ کا حصہ بنیں ۔اس کے علاوہ پنجاب بھر کے مال خانوں کی انسپکشن جلد از جلد مکمل کی جائے ۔ اس موقع پرصوبائی پولیس سربراہ نے افسروں کو بتایا کہ تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو پہلے سے ہی DSPs کی ACRsمکمل کرنے کے لئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور اس سلسلے میں کرپشن اوردیگر مختلف جرائم میں ملوث اورباقاعدہ چالان کیے گئے DSPs کو اچھی ACRدینا دیانتدار اور پروفیشنل ڈی ایس پیز کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے فیلڈ افسران کو اچھی ACRنہیں مل سکے گی۔ صوبائی پولیس سربراہ نے ویلفےئر کے متعلق ہدایات جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی ویلفےئر کو کہا کہ وہ تمام فیلڈ افسران کو ویلفےئر کے متعلق فنڈز خرچ کرنے کے بارے میں واضح ہدایات جاری کریں کہ یہ فنڈز کانسٹیبلری کی ویلفےئر خرچ ہوں اور اگر فورس میں سے کوئی ضرورت مندقرضہ لینا چاہے تو اس کو یہ سہولت فراہم کی جائے۔اس کے علاوہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ فورس میں سے کوئی بھی افسر یا اہلکار کسی مسئلے کے بارے میں آئی جی پنجاب کو ملنا چاہے تووہ براہِ راست مل سکے گا اور اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔شعبہ ITکو ہدایات جاری کرتے ہوئے آئی جی نے کہا کہ وہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈPITBاور نادرا کے ساتھ مل کر اشتہاریوں کا ڈیٹا جلد از جلد کمپیوٹرائزڈ کریں۔اس کے علاوہ تفتیشی عمل میں بہتری کے لئے سی ٹی ڈی کی طرز پر وہ اضلاع جن میں ماڈل پولیس سٹیشنز نہیں ہیں میں پہلے سے موجود جگہ پر کم از کم 2سیل ،1 کنڈشننگ روم اور1 انوسٹی گیشن روم بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس میں نئی APCs، واٹر کینن اور ہیلی کاپٹر خریدنے کے عمل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر