پاکستان کو نظر لگ گئی ؟ قائدین اندرونی استحکام کیوں نہیں کر پاتے؟

پاکستان کو نظر لگ گئی ؟ قائدین اندرونی استحکام کیوں نہیں کر پاتے؟

 تجزیہ چودھری خادم حسین

کیا پاکستان کو نظر لگ گئی یا پھر حقیقتاً ہمارے سیاسی قائدین نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا اور اس سلسلے میں صرف بیان بازی ہی سے کام چلایا جاتا ہے۔ اس وقت ملک جن مسائل سے دو چار ہے۔ ان کا تقاضہ اگر ملک کے اندر سیاسی استحکام ہے تو مضبوط اور مستقبل کے شعور والی قیادت کا بھی ہے۔ لیکن یہاں مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ خود سیاسی جماعتوں کے اندر اختلافات ہیں، کسی بھی جماعت کا نام لے لیں اس میں دھڑے بندی تو ہے ہی، تاہم مفادات کا ٹکراؤ بھی ہے، حالانکہ سیاسی جماعتوں کے منظم اور مضبوط ہونے سے سیاسی استحکام بھی ہوتا ہے۔اب نیا منظر بھی عجیب ہے۔ متحدہ مان کر سندھ حکومت میں پیپلزپارٹی کی حلیف بن گئی لیکن تحریک انصاف کے ساتھ ٹھن گئی۔ دونوں طرف سے غلط زبان استعمال کی گئی، لائیو ہونے کی وجہ سے نشر بھی ہو گئی۔ دہشت گردی کا عفریت تو ملک میں خوف اور بے یقینی پیدا کئے ہوئے ہے اور ہماری فوج اس کا مقابلہ کر رہی ہے اب ملک بھر میں آپریشن ضرب عضب کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے اور نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع ہے بلکہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے خلاف بھی جہاد شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سے جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ان کا ادراک بھی لازمی ہے اور اس کے لئے بھی ضروری امر ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی فضا ہو۔ حال ہی میں پہلے سے موجود مسائل کی شدت بڑھی ہے۔ وزیر اعظم کا فرمانا بجا کہ ان کے دور میں ہی لوڈشیڈنگ ختم ہو گی لیکن عملی صورت یہ ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ تاخیر کا شکار ہو رہا ہے اور فنڈز کی کمی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ جبکہ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے دریا چناب اور دریا جہلم پر بھارت کی طرف سے تعمیر کئے جانے والے بجلی گھروں پر بھی تنازعہ ہو گیا۔ پاک بھارت مذاکرات ناکام ہو گئے اور اب پاکستان عالمی بنک سے رجوع کر رہا ہے جس کی منظوری وزیر اعظم نے دے دی ہے۔ ان حالات کو سدھارنے کے لئے جس فضا کی ضرورت ہے وہ نہیں بن پا رہی، حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے۔ (جو اب متحدہ اور تحریک انصاف کی بھی بن گئی ہے) سابق گورنر پنجاب محمد سرور چودھری نے بنی گالا میں عمران خان سے ملاقات کی اور اب وہ باقاعدہ اس جماعت میں شامل بھی ہو گئے ہیں حالانکہ انہوں نے مستعفی ہوتے وقت تحریک انصاف میں جانے کی واضح تردید کی تھی۔ اب وہ اس حوالے سے خبروں میں ہیں کہ عمران خان سے ان کی ملاقات میں جو طے ہوا اس پر عمل درآمد ہوگا تو بات آگے بڑھے گی اور یہ محمد سرور چودھری کی اہمیت تسلیم کرنے کی خواہش ہے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان فاصلے موجود ہیں۔ دھاندلیوں کی تحقیق کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر فیصلہ اور عمل درآمد نہیں ہو پا رہا، اس سلسلے میں دلائل جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں یہ اصول ہے کہ وزن اس طرف ہوتا ہے جدھر سے کچھ دیا جا سکتا ہے۔ اب تحریک انصاف کے اسد عمر کہتے ہیں بات جوڈیشل کمیشن کے اختیارات پر اٹکی ہوئی ہے اس کے علاوہ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ مصالحت کے لئے آگے بڑھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف نے مان لیا میں اب مسلم لیگ (ن) سے بات کروں گا دوسری طرف سیاسی جرگے نے بھی تجاویز تیار کر لی ہیں۔ یوں دو ملاؤں کی بجائے کئی ملاؤں میں مرغی ’’حلال‘‘ ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور یہ سب سیاستدانوں کی طرف سے ہو رہا ہے۔ کیا ماضی سے یہی سبق سیکھا گیا ہے۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک سے مذاکرات سے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو خود سیاسی قائدین کیوں مل بیٹھ کر طے نہیں کر پاتے۔ کراچی کی صورت حال نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے، یہ بھی نیک شگون نہیں۔ اس سے ’’بھوت‘‘ ہی خوش ہوگا۔

مزید : تجزیہ