بجلی منصوبوں میں تاخیر کے ذمہ دار احتساب کیلئے تیار ہیں ،سستی بجلی اولین ترجیح ہے،نواز شریف

بجلی منصوبوں میں تاخیر کے ذمہ دار احتساب کیلئے تیار ہیں ،سستی بجلی اولین ...

 اسلام آباد (آئی این پی) وزیر اعظم نواز شریف نے متعلقہ محکموں کو بجلی کی پیداوار کے منصوبے مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کے ذمہ دار احتساب کیلئے تیار ہیں، عوام کو کم قیمتوں پر بجلی کی فراہمی اولین ترجیح ہے، جلد از جلد لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں، نیلم جہلم منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہونا چاہیے۔ وہ منگل کو توانائی کی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، سعد رفیق، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، جام کمال، عابد شیر علی، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی اور چیئرمین واپڈا ظفر محمود نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ عوام کو کم قیمتوں پر بجلی کی فراہمی اولین ترجیح ہے، جلد از جلد لوڈشیڈنگ کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ وزیر اعظم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ بجلی کی پیداوار کے منصوبے مقررہ وقت میں مکمل کئے جائیں، منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کے ذمہ دار احتساب کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ میں کمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، نیلم جہلم پن منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہونا چاہیے، نیلم جہلم منصوبہ بروقت مکمل کرنے کیلئے فنڈز فراہم کئے جائیں۔ اس موقع پر سیکرٹری پانی وبجلی یونس ڈاگا نہ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوری میں بلوں کی وصولی 75فیصد رہی ہے جبکہ بقایا جات کی وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بقایا جات کی وصولی 98فیصد رہی ہے جبکہ گردشی قرضے اب کم ہو کر 254 ارب روپے کے رہ گئے ہیں اور گردشی قرضوں میں مزید کمی لانے کیلئے کئی سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔ وفاقی سیکرٹری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئی پی پیز کو واجب الادا رقم اب کم ہو کر 144ارب 50 کروڑ روپے کی سطح پر آ گئی ہے اور اس میں مزید نمایاں کمی لائی جائے گی۔اس موقع پر نیلم جہلم کے منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کیلئے بھی اہم فیصلے کئے گئے جبکہ ٹرانسمیشن لائن کے سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے بھی کئی تجاویز کی منظوری دی گئی۔ وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے اجلاس میں سرکاری و نجی اداروں سے بجلی کے بقایا جات کی وصولی کیلئے کئے گئے حالیہ اقدامات پر بریفنگ دی اور تجویز دی کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سے382ارب روپے کے بقایا جات کی وصولی کیلئے جامع حکمت عملی بنائی گئی ہے تا ہم صوبوں سے وصولی کا عمل تیز کرنے کیلئے صوبائی وزرائے اعلیٰ سے رابطے کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ تمام کمپنیوں سے نجی کمپنیوں کے نا دہندگان سے بھی وصولیوں کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔اجلاس میں ایم ڈی پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ نے کوئلے سے چلنے والے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ توانائی سے متعلق اجلاس میں چیئرمین واپڈا ظفر محمود نے نیلم جہلم پاور منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نیلم جہلم منصوبے پر 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، منصوبے سے منگلا کے مقابلے میں زیادہ بجلی پیدا ہو گی۔

مزید : صفحہ اول