بھارت میں عام آدمی پارٹی کا سونامی، مودی لہر کو بہا لے گیا

بھارت میں عام آدمی پارٹی کا سونامی، مودی لہر کو بہا لے گیا
بھارت میں عام آدمی پارٹی کا سونامی، مودی لہر کو بہا لے گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

اسے کہتے ہیں جھاڑو پھیر دینا یا صفایا کر دینا، عمران خان کی زبان میں اسے سونامی بھی کہا جا سکتا ہے جو پاکستان میں تو نہیں آیا ہندوستان میں مودی کی لہر کو ضرور بہا لے گیا ، انگریزی میں اسے ’’لینڈ سلائیڈو کڑی‘‘ یا ’’سویپنگ وکٹری‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی )کا انتخابی نشان ’’جھاڑو‘‘ ہے اس لئے اسے جھاڑو پھیرنا ہی کہنا چاہیے۔ 70ارکان کی اسمبلی میں 67نشستیں جیتنے کو اور کیا کہنا چاہیے؟تین نشستیں بی جے پی کے حصے میں آگئی ہیں جبکہ کانگریس اس دہلی سے دامن جھاڑ کر چلی گئی ہے جہاں گزشتہ پندرہ سال سے اس کی وزیر اعلیٰ (شیلا ڈکشٹ) بڑے دھڑلے سے حکومت کرتی چلی آ رہی تھیں۔2013ء میں کجری وال نے شیلا ڈکشٹ کو ہرا دیاتھا۔بی جے پی نے بھی یہاں ایک خاتون کو ہی وزیر اعلیٰ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی، کرن بیدی دہلی کی دبنگ پولیس افسر رہی تھیں اور انہوں نے غنڈوں اور بدمعاشوں کو نتھ ڈال دی تھی،سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد وہ وزیر اعلیٰ بننا چاہتی تھیں لیکن عام آدمی پارٹی نے ان کی دال نہیں گلنے دی ۔یوں کرن بیدی کا خواب پورا نہ ہو سکا ۔ بی جے پی کے اندر کرن بیدی ہی کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرایاگیا ہے۔گزشتہ روز جب سارے انتخابی جائزوں میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی کی جا رہی تھی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ اے اے پی 40کے لگ بھگ نشستیں حاصل کرے گی۔ کرن بیدی کو اپنی شکست پر یقین نہیں تھا، وہ کہہ رہی تھیں کہ یہ انتخابی جائزے تو بس یونہی ہوتے ہیں۔ دراصل ان کی پارٹی ہی جیتے گی تقریباً تمام انتخابی جائزوں میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی کی پیش گوئی کی گئی تھی لیکن یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ دونوں بڑی پارٹیاں دہلی اسمبلی کے اندر زیرو ہو کر رہ جائیں گی اور ہر طرف عام آدمی پارٹی کا راج ہوگا ، یوں انتخابی جائزے اس لحاظ سے غلط ثابت ہوئے کہ ان کے مطابق عام آدمی پارٹی کو چالیس نشستیں مل رہی تھیں لیکن اسے 67 نشستیں حاصل ہوئیں۔عام آدمی پارٹی کی تشکیل 2012ء میں ہوئی،اوراپنے پہلے ہی انتخابات میں اس نے 2013ء میں دہلی کی ریاستی اسمبلی میں بی جے پی اور کانگریس دونوں کو ہرا دیا تھا،لیکن اس کے پاس سادہ اکثریت نہ تھی اس لئے اسے کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑی لیکن اروند کجری وال بمشکل ڈیڑھ ماہ (49دن) وزیر اعلیٰ رہ سکے اور انہیں استعفا دینا پڑا جسے ان کی ناکامی پرمحمول کیا گیا جس کا برانتیجہ ان کے حق میں یہ نکلا کہ مئی (2014ء)کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی بری طرح ہار گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ نوماہ میں کون سی ایسی بات ہوئی ہے کہ کایا ہی پلٹ گئی ہے اور ’’نریندر مودی کی لہر ‘‘ کو ’’سونامی‘‘ بہا لے گیا ہے ۔ بی جے پی نے لوک سبھا الیکشن میں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی لیکن اتنے مختصر عرصے میں دارالحکومت کے اندر وزیر اعظم کی جماعت کی عبرتناک شکست نے بہت سے سوالات اٹھا دئیے ہیں ۔کہاجارہا ہے کہ نریندر مودی نے اپنی انتخابی مہم میں جو وعدے کئے تھے اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہیں بھلا دیا اسی لئے انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا، بی جے پی کی اتحادی جماعت شیو سینا کے رہنما اودھے ٹھاکرے نے یہ کہہ کر مودی کے زخموں پر نمک چھڑ ک دیا کہ ریاستی اسمبلی میں شکست کے ذمہ دار مودی ہیں۔اودھے ٹھاکرے نے کہا :

’’یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ریاستی انتخابات میں مودی کو شکست ہوئی ہے کہا جاتا تھا کہ ’’مودی لہر‘‘ کی وجہ سے پورے ملک میں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن دہلی کے لوگوں نے ثابت کر دیا ہے کہ سونامی مودی لہر سے زیادہ طاقتور ہے ۔‘‘

اودھے ٹھاکرے نے اروند کجری وال کو فون کرکے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں حلف وفا داری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تو وہ شریک ہوں گے۔یہ تقریب رام لیلا میدان میں اتوار کو متوقع ہے، اسی میدان میں ایک سال قبل اروند کجری وال نے پہلی بار وزارت عُلیا کا حلف اٹھا یا تھا، لیکن اس وقت وہ صرف 49دن وزیر اعلیٰ رہ سکے۔اب کی بار ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں اس لئے ان کے کارکن یہ نعرے لگاتے سنے گئے ‘‘پانچ سال کجری وال‘‘عام آدمی پارٹی کی اس فتح کو صحیح معنوں میں کامیاب واپسی کہاجاسکتا ہے کہ ایک سال قبل اسی اسمبلی میں اسے حکومت بنانے کے لئے دوسری جماعتوں کاتعاون درکار تھا، اب پوری اسمبلی میں عملاً کوئی حریف نہیں ،پورا ایوان ان کی پارٹی کے ارکان سے بھرگیاہے۔دہلی اسمبلی کی تاریخ میں بلکہ کسی بھی دوسری اسمبلی کی تاریخ میں اتنے بھاری مارجن سے کبھی کوئی جماعت نہیں جیتی ،انتخابی مہم میں کجری وال کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا کہ وہ ’’انارکسٹ‘‘ ہیں۔ خود مودی نے بھی انہیں اسی نام سے یاد کیا اور کجری وال کے نظریات کا ’’ماؤ انتہا پسندوں ‘‘ کے نظریات کے ساتھ موازنہ کیا۔تاہم کامیابی کے بعد مودی نے بھی کجری وال کو فون کرکے مبارک باددی اور کارحکومت میں انہیں مرکز ی حکومت کے تعاون کا یقین دلایا۔

عام آدمی پارٹی کی کامیابی کے بعد پارٹی کے حامی گلیوں بازاروں میں نکل آئے اور کامیابی کا جشن منایا، جشن منانے والوں میں زیادہ ترنوجوان تھے۔ اس کامیابی نے پورے ملک میں سنسنی کی لہریں دوڑا دی ہیں۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنیر جی نے وزیر اعظم مودی کو متکبرقرار دیا اور کہا یہ عوام کی کامیابی اور متکبر شخص (مودی) اور ان لوگوں کے لئے بڑی شکست ہے جو سیاسی انتقام لے رہے تھے اور نفرت کابیوپار کر رہے تھے ۔یہ الیکشن صحیح معنوں میں ایسی تبدیلی ہے جس کی ملک کو ضرورت تھی۔‘‘

کرپشن کے خلاف مہم چلانے والے انا ہزارے نے کہا یہ نتیجہ نریندر مودی کی شکست ہے مودی نے گزشتہ نو ماہ میں کیا کیا ہے۔ بی جے پی نے کرپشن ختم کرنے کے وعدے کئے تھے اس کے بر خلاف انہوں نے عوام اور کسانوں کے مفادات کے خلاف فیصلے کئے۔انہوں نے عوام کے مفاد کو مجروح کیا۔

مزید : تجزیہ