چوہدری سرور کو پی ٹی آئی میں منتخب عہدے کے لیے دوسال انتظار کرنا ہو گا

چوہدری سرور کو پی ٹی آئی میں منتخب عہدے کے لیے دوسال انتظار کرنا ہو گا
چوہدری سرور کو پی ٹی آئی میں منتخب عہدے کے لیے دوسال انتظار کرنا ہو گا

  

 اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے ، آئین کے مطابق وہ 2 سال تک کوئی منتخب عہدہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے انہیں اس کے لیے جنوری 2017تک انتظار کرنا ہوگاتاہم انکی تحریک انصاف میں شمولیت سے پی ٹی آئی کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں خصوصاً اسکاٹ لینڈ میں رہنے والے پاکستانیوں کی حاصل حمایت میں اضافہ ہوگا کیونکہ وہ برطانوی پارلیمنٹ کے ایک سے زائد مرتبہ رکن بنےاور وہاں پاکستانی برادری انکی حمایت کرتی رہی ہے۔

 سابق گورنر کی جانب سے برطانوی شہریت چھوڑ کر پاکستانی سیاست کا حصہ بننے کے بعدبرطانیہ میں انکے حلقہ انتخاب سے انکے بیٹے انتخابی معرکے میں حصہ لینگے۔ پہلے ہی تحریک انصاف کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔ منتخب عہدہ نہ رکھنے کی2 سال کی پابندی کے باوجود انہیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل 63(K)کے مطابق پاکستا ن میں صوبائی یا وفاقی سطح پر سرکاری عہدے کے حامل افراد عہدہ چھوڑنے یا اس کی معیاد ختم ہونے کے 2 سال کی مدت کے اندر کوئی بھی منتخب یا نامزدگی کے ذریعے حاصل ہونیوالا عہدہ رکھنے کے اہل نہیں ہیں۔ تاہم اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ، وزیر اعظم، وفاقی وزیر، وزیر مملکت، وزیر اعلیٰ، صوبائی وزیر، اٹارنی جنرل، ایڈوکیٹ جنرل، پارلیمنٹری سیکریٹری یا چیئرمین لاءکمیشن کے رکن ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین یا اسکے ارکان، معاون خصوصی، وزیر اعظم کے مشیر،وزیراعلیٰ کے مشیر و معاونین، صوبائی یا قومی اسمبلی کے ارکان سرکار ی ملازمت کی تعریف کے احاطے میں نہیں آتے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چوہدری سرورسے برطانوی شہریت ترک کراکے انہیں گورنر پنجاب بنائے جانے کا مقصد یہ تھاکہ وہ تبدیلی کیلئے پاکستان کی سیاست میں متحرک کردار اد ا کرنا چاہتے تھے۔ تاہم انکا وہ عہدہ محض علامتی تھا ، جس کے باعث وہ مضطرب تھے۔ گورنر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد وہ عوامی تحریک میں شمولیت کے خواہاں تھے، تاہم طاہر القادری کی علالت اور دھرنے کے خاتمے کے بعد پارٹی کے غیر متحرک ہونے کے باعث انہوں نے اس میں شمولیت کیلئے کوشش نہیں کی، انکے پاس دوسرا راستہ تحریک انصاف میں شمولیت کا تھا، جسے انہوں نے اختیار کیا۔

مزید : اسلام آباد